ایوارڈ کی دوڑ اور سماج کا بدلتا ہوا معیار

whatsapp image 2026 03 09 at 1.44.05 pm

کلیم تیاگی
ضلع صدر
اردو ڈیولپمینٹ آرگنائزیشن مظفرنگر

whatsapp image 2026 03 09 at 1.35.43 pm

آج کے سماجی منظرنامے پر اگر سنجیدگی سے نظر ڈالی جائے تو ایک تشویش ناک رجحان ابھرتا ہوا دکھائی دیتا ہے، اور وہ ہے ایوارڈ حاصل کرنے کی غیر معمولی دوڑ۔ ایوارڈ جو کبھی خلوص، محنت، قربانی اور نمایاں خدمات کا اعتراف سمجھا جاتا تھا، آج بہت سی جگہوں پر محض ذاتی تشہیر اور شخصیت کو چمکانے کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔
یہ حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ بعض افراد صرف تعلقات، سفارشات اور مالی وسائل کے بل پر مختلف تنظیموں اور اکیڈمیوں سے ایوارڈ حاصل کر لیتے ہیں۔ اردو اکیڈمیاں ہوں یا ہندی اکیڈمیاں، ادبی ادارے ہوں یا سماجی و ثقافتی تنظیمیں—ہر جگہ ایسے نام نظر آ جاتے ہیں جن کا نہ سماج میں کوئی نمایاں کردار ہے، نہ کسی تحریک میں عملی حصہ، اور نہ ہی کوئی ایسا کارنامہ جو آنے والی نسلوں کے لیے مثال بن سکے۔ اس کے باوجود وہ ایوارڈ پر ایوارڈ حاصل کر کے خود کو اہم ثابت کرنے میں مصروف ہیں۔
یہ رجحان محض چند افراد تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک اجتماعی زوال کی علامت ہے۔ جب ایوارڈ حقیقی خدمت کے بجائے نمود و نمائش کا پیمانہ بن جائے تو سب سے زیادہ نقصان ان خاموش خدمت گزاروں کا ہوتا ہے جو بغیر کسی لالچ کے قوم و سماج کے لیے کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ نہ تصویروں میں نظر آتے ہیں، نہ اسٹیج پر، مگر ان کی خدمات معاشرے کی بنیادوں کو مضبوط کرتی ہیں۔
اصل مسئلہ صرف ایوارڈ لینے والوں کا نہیں، بلکہ ان اداروں اور تنظیموں کا بھی ہے جو بلا تحقیق اور بغیر کسی واضح معیار کے ایسے افراد کو نواز دیتی ہیں۔ انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ وہ کن ہاتھوں میں اعزاز تھما رہے ہیں۔ اگر ایوارڈ کا وقار مجروح ہوگا تو اس کی ذمہ داری بھی انہی اداروں پر عائد ہوگی جو اسے بانٹنے میں جلد بازی یا مفاد پرستی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ حقیقی مقام ایوارڈ سے نہیں بلکہ کردار سے بنتا ہے۔ جو لوگ خلوصِ نیت سے سماج کی خدمت کرتے ہیں، انہیں اپنے کام کا اعلان کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جب سورج نکلتا ہے تو اس کی روشنی خود بتا دیتی ہے کہ وہ موجود ہے۔ اسی طرح سچی خدمات بھی وقت کے ساتھ خود پہچان بنا لیتی ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات پر نظر ثانی کریں۔ ایوارڈ کو مقصد نہیں بلکہ خدمت کا نتیجہ سمجھیں، اور ادارے اعزاز دیتے وقت واقعی ان لوگوں کو منتخب کریں جن کی خدمات زمینی سطح پر نظر آتی ہوں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ایوارڈز کی کثرت تو بڑھے گی، مگر ان کی وقعت دن بہ دن کم ہوتی چلی جائے گی—اور یہ کسی بھی زندہ سماج کے لیے نیک شگون نہیں۔
نہ ڈھونڈ نام و نمود کے تمغوں میں عظمتیں
کردار بولتا ہے تو پہچان خود بنے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *