غزل

whatsapp image 2026 01 08 at 12.43.09 am

عشبہ تعبیر

عجب توبہ شکن ہیں حسن کی رعنائیاں توبہ
وبالِ جان ہیں میرے لیے تنہائیاں توبہ

جمالِ زلف بھی دیکھو چمن زاروں پہ بھاری ہے
بہاروں کے مقابل آ گئی پرچھائیاں توبہ

تقدس عشق کی سادہ دلی کا ہو گیا رخصت
محبت رفتہ رفتہ ہو گئی ہے کائیاں توبہ

وفورِ عشق میں یہ آسماں کی سیر کر آیا
نہیں رکتی مرے دل کی محاذ آرائیاں توبہ

یہی لفظِ محبت نبضِ عالم ہے زمانے سے
اسی کے ساتھ وابستہ ہوئی رسوائیاں توبہ

مرے افکار میں شاید ملاقاتیں فقط تجھ سے
میری سوچوں کا محور تُو، مری گہرائیاں توبہ

شِعارِ زندگی پر مطمئن تو ہوں مگر عشبہ
تمھارے ہجر کی آزردگی ، کٹھنائیاں توبہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *