فراق گورکھپوری کی شاعری میں ہندوستان پوری آب و تاب کے ساتھ چمکتاہے:ڈاکٹرتقی عابدی

tanveer adab

”ہماری آواز“ اور پروفیسر اسلم جمشید پوری کا ہندی ناول”دھنورا“ کا اجراء بھی عمل میں آیا۔

میرٹھ19/ نومبر2025ء
فراق بیسویں صدی کا عظیم غزل گو شاعر ہے۔فراق گورکھپوری کی شاعری میں ہندوستان پوری آب و تاب کے ساتھ چمکتاہے۔ فراق کی غزل میں جو درد ہے وہ ان کے استاد کی دین ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ فراق کے ساتھ انصاف نہیں ہوا وہ جس مقام کے حق دار تھے وہ انہیں نہیں ملا۔ جو قوم اپنے ہیروز کو نئی نسل تک نہیں پہنچا سکتی وہ قوم ترقی بھی نہیں کرسکتی۔ فراق کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ نرم لہجے میں بڑی سے بڑی بات کہہ جاتے ہیں۔ ان کی شاعری میں بہت گہرا ئی ہے۔ یہ الفاظ تھے بین الا قوامی شہرت یافتہ محقق و ناقد ڈا کٹر تقی عابدی]کناڈا[ کے جو شعبہئ اردو میں منعقد یک روزہ فراق انٹر نیشنل سیمینار بعنوان ”فراق گورکھپوری: شعر و ادب“موضوع پر اپنے کلیدی خطبے کے دوران ادا کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فراق نے اردو شاعری کو نیا عاشق اور نیا معشوق دیا۔
اس سے قبل پروگرام کا آ غاز مولانا محمد جبرئیل نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔ ہدیہئ نعت عظمیٰ پروین نے پیش کیا۔ بعد ازاں فر حت اختر نے فراق گورکھپوری کی غزل سنا کر سماں باندھ دیا۔ افتتا حی اجلاس کی صدارت کے فرا ئض معروف ادیب و ناقد پروفیسر اسلم جمشید پوری نے انجام دیے۔ کلیدی خطبہ کنا ڈا سے تشریف لائے معروف محقق و ناقد ڈاکٹر تقی عابدی نے پیش کیا۔ مہمانانِ ذی وقار کے بطور معروف ناقد و شاعر پروفیسر تنویر چشتی،اترا کھنڈ، ڈاکٹر پرویز شہر یار،دہلی،نے شر کت فرمائی۔ استقبالیہ کلمات ڈاکٹر آصف علی اور نظا مت کے فرا ئض ڈا کٹر شاداب علیم نے انجام دیے۔ اس اجلاس میں ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے”فراق گورکھپوری کی تنقید اور تہذیبی قدریں“، شہناز بیگم”فراق گورکھپوری کی رباعیات میں جمالیات: ایک مطالعہ“ اور سر تاج جہاں ”فراق گورکھپوری: روایت سے جدت تک ایک

tanveer e adab

تنقیدی جائزہ“ نے عنوان سے مقالات پیش کیے۔
دوسرے اجلاس کی محفل صدارت پر پروفیسراسلم جمشید پوری،ڈاکٹر تقی عابدی، آفاق خاں رونق افروز رہے اور مہمان خصوصی کے بطور آشا رام]ڈی جی ایم مو بائل سر وس کمیو نی کیشن،نئی دہلی[ شریک ہو ئے۔ اس سیشن کی نظا مت ڈاکٹر الکا وششٹھ نے کی۔ اس دوران مہمانان کے ہاتھوں شعبے کی میگزین”ہماری آ واز“ اور پروفیسر اسلم جمشید پوری کا ہندی ناول”دھنورا“ کے اجراء بھی عمل میں آیا۔ میگزین پر ڈاکٹر آصف علی اور دھنو را پر پروفیسر پرتگیہ پاٹھک اور ڈاکٹر ودیا ساگر، آفاق احمد خاں اور ڈاکٹر ویر پال نے اظہار خیال کیا۔ جس کا لب لباب یہ تھا کہ کہ انسان دنیا میں کہیں بھی چلا جائے لیکن وہ اپنے جائے پیدائش نہیں بھولتا۔ دھنو را کوئی خیالی ناول نہیں ہے بلکہ اس میں جیتی جاگتی تصویریں ہیں۔ملک کے جو حالات ہیں اس کو بے حد سکون سے دکھایا گیا ہے بغیر کسی تلخی کے۔ دھنورا پڑھنے کے بعد آپ کو معلوم ہو گا کہ اسلم جمشید پوری صاحب کس طرح کے ناول نگار ہیں۔ دھنورا پڑھنے کے بعد آپ کو لگے گا کہ ہندوستان میں ہندو مسلم کا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ ہندوستان کی سب سے بڑی پریشانی غریبی اور جہا لت ہے ہمیں اس پر غور و فکر کرنا چاہئے۔ہم عدم تشدد کے ساتھ ہیں۔جب ہم ہندی کے آنگن میں داخل ہوگئے تو ہمیں انگریزی آنگن کو بھی اپنانا چاہئے کیو نکہ وہ تحریر بے معنی ہے جہاں سے آپ کو کوئی پیغام نہ ملے۔ڈاکٹر صاحب کی ذہنیت اور قابلیت کے بارے میں قصیدہ خوانی کی جائے تو وہ بھی کم ہے۔ دھنو را پڑھنے کے بعد جو آپ محسوس کرتے ہیں کہ ہندو مسلم ایک ہے۔ آپ ایک بار دھنو را ضرور آئیں اور یہ اپنی آ نکھوں سے دیکھیں۔شعبے کی میگزین ”ہماری آ واز“ عالمی سطح پر مقبول ہے اور یو جی سی کئیر لسٹ میں بھی شامل ہے۔
دوپہر بعد تیسرا اور چوتھا اجلاس منعقد ہوا جس کی مجلس صدارت پر ڈاکٹر آصف علی،ڈاکٹر ریحانہ سلطانہ،ڈاکٹر فرحت خاتون سید حیدر علی، ذیشان خان،محمود بدر، انجینئر رفعت جمالی،رونق افروز رہے۔مقا لہ نگار کے بطور علما نصیب نے”فراق گورکھپوری کا نظریہ حسن اور اردو غزل کی نئی تخلیقیت“محمد ہارون نے”فراق گورکھپوری کی غزل گوئی“،آسیہ میمونہ نے ”فراق گورکھپوی کا تغزل“عرفان عارف نے”فراق گورکھپوری کی شعری جمالیات“،عظمیٰ مہدی نے ”فراق گورکھپوری کی تنقیدی منظرنگاری“ اور ڈاکٹر پرویز شہر یار نے اپنے مقالات پیش کیے۔
اس موقع پر اپنے خیال کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر پرویز شہریار نے کہا کہ فراق گورکھپوری ایک نابغہئ روز گار اور عبقری شخصیت کے مالک تھے۔ان کی عظیم الشان شاعری سے ایک عالم واقف ہے۔اردو شاعری میں ہندوستا نی دیو مالائی عناصر کو جس طرح سے برتا ہے یہ ان کا کمال ہے،ان کی شاعری جمالیات اور انسانیت کے اعلیٰ اقدار سے مزین ہے۔ اس موضوع پر بین الا قوامی سیمینار کا اہتمام کر کے شعبہئ اردو کے صدر پروفیسر اسلم جمشید پوری نے اردو شاعری کے اعلیٰ اقدار اور شاندار روایت کو غیر معمولی طور پر جلا بخشی ہے۔
پروفیسر تنویر چشتی نے کہا کہ فراق گورکھپوری ایسے مایہ ناز فرزند کا نام ہے جس نے بر صغیر کی گنگا جمنی تہذیب کو ایسی زبان عطا کی جو یہاں کے رہنے والوں کی روح کی ترجمان اور قومی یکجہتی کے علمبردار ہے۔
آشا رام نے کہا کہ دھنورا میں دیہات کیسیدھی سادھی زندگی کی خوبصورت عکاسی کی گئی ہے اور اس کے کردار خیالی نہیں حقیقی ہیں۔میں خود بھی اس کا جیتا جاگتا کردار ہوں۔
پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ اس ناول کے اردو میں تین ایڈیشن آ چکے ہیں،چوتھا آ نے والا ہے۔ اس ناول کے کردار بالکل سچے ہیں۔مجھے بے حد خوشی ہے کہ میں اپنے گاؤں کے لیے کچھ کر پایا۔ یہ گاؤں گاؤں نہیں بلکہ ایک تہذیب ہے۔ اس گا ؤں کے کردار صرف اسی ناول میں نہیں بلکہ میں نے بہت سے کردار مختلف کہا نیوں کے یہاں سے لیے ہیں۔مجھے دھنورا نے نہ صرف پالا بلکہ مجھے بنایا بھی ہے۔
ڈاکٹر ظہیر احمد،جمیل سیفی،ویر پال کپاسیہ،ڈاکٹر نسرین، ذیشان خان، محمد شوقین علی، افسرعلی،مدیحہ اسلم،محمد یامین خان،راشد خان، صا ئمہ،کنور پال،بیر پال،سر دار سنگھ، بھارت بھوشن شرما، بی بی شرما،نزہت اختر،ڈاکٹر فرح ناز،عیسیٰ رانا،عمائدین شہر اور کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات نے شر کت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *