مظفرنگر۔
مسلم ایجوکیشنل، سوشل اینڈ کلچرل سوسائٹی (مَیسکو دَھڈھیڑو) کے زیرِ اہتمام منعقدہ سیرتُ النبی ﷺ مقابلہ کی شاندار انعامی تقریب اتوار کے روز گڈلک بینکوئٹ ہال، چرثاول روڈ، مظفرنگر میں نہایت جوش و خروش اور پُروقار ماحول میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر ضلع کے ٹاپر طلبہ کے ساتھ ساتھ 50 فیصد یا اس سے زائد نمبر حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کو انعامات، توصیفی اسناد اور دلکش تحائف دے کر سرفراز کیا گیا۔
تقریب کی صدارت ڈاکٹر آفتاب عالم نے کی، جبکہ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے ڈاکٹر جمیل احمد (رامپور) تشریف فرما تھے۔ معزز مہمانوں میں مولانا سعد قاسمی (کھتولی)، ایڈووکیٹ وسیم فلاہی، حافظ مرسلین، منیر عالم اور ریسرچ اسکالر ڈاکٹر فاطمہ پروین عاقل شامل تھیں۔ نظامت کے فرائض افتخار علی نے انجام دیے۔
اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر آفتاب عالم نے کہا کہ سیرتُ النبی ﷺ مقابلے بچوں میں اخلاقی اقدار، کردار سازی اور مثبت سوچ کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ مَیسکو کی یہ کاوش سماج کے لیے نہایت قابلِ تحسین ہے۔
مہمانِ خصوصی ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ آج کے دور میں بچوں کو نبیِ کریم ﷺ کی سیرت سے جوڑنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اس نوعیت کے مقابلے نہ صرف علمی اضافہ کرتے ہیں بلکہ طلبہ کو ایک بہتر انسان بننے کی ترغیب بھی دیتے ہیں

معزز مہمان مولانا سعد قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیرتُ النبی ﷺ پر مبنی مقابلے نئی نسل کو اسلامی اقدار سے جوڑنے کا کام کرتے ہیں۔ مَیسکو گزشتہ چار برسوں سے یہ ذمہ داری بخوبی ادا کر رہی ہے، میں تمام منتظمین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں

مَیسکو کے سیکریٹری اور کنوینر ماسٹر نعیم احمد نے بتایا کہ اس پروگرام میں تقریباً 350 بچوں نے شرکت کی، جنہیں معزز مہمانوں کے ہاتھوں اُن کی شاندار کارکردگی پر انعامات دے کر حوصلہ افزائی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مَیسکو گزشتہ چار برسوں سے مسلسل سیرتُ النبی ﷺ مقابلہ منعقد کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس سال مظفرنگر، سہارنپور اور شاملی کے متعدد اسکولوں میں مقابلہ مراکز قائم کیے گئے تھے، جہاں تقریباً 1700 طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ انہی کامیاب شرکاء کی اعزازی تقریب آج منعقد کی گئی۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مقابلہ کو تین گروپس میں تقسیم کیا گیا تھا، ہر گروپ سے اول، دوم اور سوم انعامات دیے گئے، جن کی تفصیل درج ذیل ہےگروپ A میں اول: علیہ دوم: صُحا سوم: سُمانا
گروپ B میں اول: ثانیہ دوم: علامہ سوم: ماہین اور محمد سہیل
گروپ C میں اول: تزکیہ دوم: راشدہ اور الویرا سوم: صاحبہ رہیں
اول انعام میں سلائی مشین اور سوٹ کیس، دوم انعام میں مائیکروویو اوون اور الیکٹرک کیتلی، جبکہ سوم انعام میں گیس چولہا اور پانی کی بوتل دی گئی۔ اس کے علاوہ 40 کنسولیشن انعامات کے طور پر بچوں کو لنچ باکس، ٹرافی، میڈل اور سرٹیفکیٹ دیے گئے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے صدر کلیم تیاگی نے کہا کہ جس طرح ہمیں سیرتُ النبی ﷺ سے جڑنے کی ضرورت ہے، اسی طرح ہمیں اپنی مادری زبان اردو کو بھی اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اردو ہندوستان کی زندہ زبانوں میں سے ایک ہے، جسے سیکھنا ہم سب کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ گھروں میں اردو کے رسائل اور اخبارات ضرور منگوائیں۔
ڈاکٹر فاطمہ عاقل نے تمام بچوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آپ مستقبل کے ہیروں اور موتیوں کی مانند ہیں، مسلسل محنت کریں اور ہر طرح کے مقابلوں میں کامیابی کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کریں۔
ٹی ایس سی ٹی کے صوبائی تنظیمی وزیر ڈاکٹر فرخ حسن نے بھی خطاب کرتے ہوئے مَیسکو ٹیم اور تمام شریک بچوں کو مبارکباد پیش کی۔
تقریب میں تمام معزز مہمانوں کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں، نیز تمام اسکولوں کے آبزرورز، کمرہ نگرانوں، سینٹر اِنچارجز، پرنسپل صاحبان اور مینیجرز کو بھی اعزاز دے کر ان کا شکریہ ادا کیا گیا۔
آخر میں مَیسکو ٹیم کی جانب سے تمام مہمانوں، اساتذہ، والدین اور شریک طلبہ کا شکریہ ادا کیا گیا۔ یہ تقریب مکمل نظم و ضبط، بھائی چارے اور پُرجوش ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔
اس موقع پر محمد عابد (صدر)، شہزاد علی (نائب صدر)، نعیم احمد (سیکریٹری)، وسیم احمد، ریاست علی، صابر علی، بابو مہتاب علی، کلیم تیاگی، ڈاکٹر شمیم الحسن، ڈاکٹر فرخ حسن، ندیم ملک، تحسین علی، ماسٹر خلیل احمد، ماسٹر ساجد، مسعود علی (پرنسپل)، انتخاب عالم (ریٹائرڈ پرنسپل)، کلیم اللہ، ڈاکٹر ارشد سمرات، محمد آصف، ساجد حسن تیاگی، افتخار احمد، ڈاکٹر امجد، عظمت راؤ، فیضیاب پُنڈیر، محمد مستقیّم، محمد عمران اور دیگر معززین سمیت سینکڑوں افراد موجود رہے۔
