کامل جنیٹوی: دیہی تہذیب، روایت اور جدید شعری تجربات کا معتبر حوالہ

whatsapp image 2026 01 10 at 3.52.20 pm

یاسمین اختر (ریسرچ اسکالر)
گوجرہ،پاکستان

whatsapp image 2026 01 10 at 3.50.53 pm

اردو ادب کی معاصر تاریخ میں ایسے شعرا کی کمی نہیں جنہوں نے ادارہ جاتی سرپرستی یا شہری ادبی مراکز سے وابستگی کے بغیر اپنی تخلیقی شناخت قائم کی، مگر ان میں وہ نام زیادہ اہم ہیں جنہوں نے زبان و ادب کو محض تخلیق تک محدود نہ رکھا بلکہ اسے سماجی اور تہذیبی ذمہ داری کے طور پر برتا۔ کامل جنیٹوی کا شمار ایسے ہی شعرا میں ہوتا ہے جن کی ادبی خدمات محض شعری اظہار نہیں بلکہ ایک مسلسل تہذیبی جدوجہد کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔

کامل جنیٹوی (اصل نام: عبدالغفّار خان) یکم جنوری 1959ء کو قصبہ جنیٹہ نزد چندوسی، ضلع سنبھل (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ دیہی فضا، محدود تعلیمی وسائل اور اردو سے دور ہوتے ہوئے ماحول کے باوجود انہوں نے جس استقلال کے ساتھ اردو زبان کو اپنایا، وہ ان کی شخصیت کے فکری استحکام کا غماز ہے۔ اگرچہ رسمی تعلیم نامکمل رہی، لیکن خود آموزی، مطالعہ اور اساتذہ کی صحبت نے ان کے ادبی شعور کو پختگی عطا کی۔

شرفِ تلمّذ جناب زوّار حسن شیدا سنبھلی جیسے صاحبِ اسلوب شاعر سے حاصل ہونا کامل جنیٹوی کے فنی ارتقا میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ استاد کی رہنمائی نے جہاں ان کے شعری ذوق کو کلاسیکی روایت سے جوڑا، وہیں انہیں زبان کی تہذیب، بیان کی شائستگی اور فکر کی گہرائی کا شعور بھی عطا کیا۔ 1980ء سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کر کے انہوں نے مسلسل ارتقائی سفر طے کیا۔

کامل جنیٹوی کی شاعری کا سب سے نمایاں وصف اصنافی تنوع ہے۔ وہ حمد، نعت اور منقبت جیسی عقیدتی اصناف میں خلوص و عقیدت کے ساتھ اظہار کرتے ہیں، جب کہ غزل اور نظم میں عصری حسیت، داخلی کرب اور سماجی مشاہدہ نمایاں نظر آتا ہے۔ قطعہ، رباعی اور تاریخی قطعات میں ان کی فکری گرفت اور زبان پر قدرت واضح ہوتی ہے۔ خاص طور پر جدید اصناف—اردو دوہا، ماہیہ، ہائیکو، رینگا اور تنکا—میں ان کی طبع آزمائی اس امر کی دلیل ہے کہ وہ روایت کے پاسدار ہونے کے ساتھ ساتھ جدید شعری تجربات سے بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔

ان کی شاعری میں دیہی زندگی کے مشاہدات، انسانی رشتوں کی سادگی، اخلاقی قدریں اور روحانی احساسات ایک خاص توازن کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ اسلوب میں سادگی اور معنویت کا امتزاج ان کے کلام کو قاری سے قریب کر دیتا ہے۔ وہ لفظی بازی گری کے بجائے خیال کی صداقت اور جذبے کی سچائی پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں، جو ان کی شاعری کو دیرپا تاثیر عطا کرتی ہے۔

اشاعتی اعتبار سے کامل جنیٹوی کا کلام ہندوستان اور پاکستان کے متعدد معتبر ادبی جرائد میں شائع ہو چکا ہے، جن میں شیرازہ کشمیر، سہ ماہی رنگ، سہ ماہی اسباق، ترسیل (ممبئی)، کوہسار (بھاگلپور)، افقِ ادب (دربھنگہ)، افقِ نو (شاہجہان پور) ، تنویرِ ادب مظفر نگر اور ادبِ معلّیٰ پاکستان شامل ہیں۔ یہ جغرافیائی وسعت اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی شاعری محض مقامی سطح تک محدود نہیں رہی بلکہ بین العلاقائی ادبی حلقوں میں بھی قبولِ عام حاصل کر چکی ہے۔

نشریاتی دنیا میں ان کی موجودگی بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ آل انڈیا ریڈیو رامپور سے 1981ء سے مسلسل وابستگی اور دوردرشن کے مختلف مراکز سے نشریات اس امر کی شاہد ہیں کہ ان کی ادبی آواز کو معتبر قومی پلیٹ فارم میسر آئے۔ یہ تسلسل ان کے فکری وقار اور ادبی اعتماد کی علامت ہے۔

تاہم کامل جنیٹوی کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو ان کی لسانی و تہذیبی خدمت ہے۔ اردو سے ناآشنا دیہی علاقوں میں تنِ تنہا اردو کی شمع روشن رکھنا، نئی نسل کو زبان سے جوڑنے کی کوشش کرنا، اور مشاعروں و ادبی سرگرمیوں کے ذریعے اردو کی بقا کے لیے سرگرم رہنا—یہ سب انہیں محض شاعر نہیں بلکہ ایک ثقافتی کارکن کے درجے پر فائز کرتا ہے۔

مختصراً، کامل جنیٹوی معاصر اردو شاعری میں اس روایت کے امین ہیں جو خاموشی، استقامت اور خلوص کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ ان کا ادبی سفر اس حقیقت کی توثیق کرتا ہے کہ زبان کی خدمت کے لیے نہ شہرت شرط ہے نہ مرکزیت، بلکہ اصل سرمایہ جذبہ، صداقت اور مسلسل عمل ہے۔ اردو ادب کو ایسے اہلِ قلم پر بجا طور پر فخر ہے۔

6 thoughts on “کامل جنیٹوی: دیہی تہذیب، روایت اور جدید شعری تجربات کا معتبر حوالہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *