میرٹھ15/جنوری2026ء
ملک کی آزادی ایک عوامی تحریک تھی جس کواستحکام عطا کرنے میں ادباء و شعراء نے اہم کارنامہ انجام دیا۔ یہ الفاظ تھے سابق صدر شعبہئ عربی وفارسی الہٰ آباد یونیوروسٹی کی پروفیسر صالحہ رشید کے جو آیو سا اور شعبہئ اردو کے زیر اہتمام منعقد ”ملک کی آزادی اور اردو“ موضوع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے اپنی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہاکہ اقبال نے اپنی نظموں کے ذریعے ہمیں غور کرنے پر مجبور کیا ملک ہندوستان کی خاک عشق سے مل کر بنی ہے۔ میر تقی میرؔؔ دہلی کی تباہی سے رنجیدہ ہوتے ہیں، 1857ء کے ظلم و ستم کو غالب اپنی دستنبو میں پیش کرتے ہیں۔ مئی کے مہینے میں جب میرٹھ سے آزادی کی آواز گنجتی ہے تو الہٰ آباد پہنچتی ہے اور الہٰ آباد میں یہ تحریک بھیلتی ہے۔ رتن ناتھ سرشار، پریم چند، منٹو اور جوالہ پرساد کی تخلیقات میں آسانی سے ملک کی آزادی کو تلاش کر سکتے ہیں۔ بہت سی تحریکوں نے آزادی کی لڑائی لڑی اور بہت سے نعروں نے ملک کی آزادی کو استحکام عطا کیا۔ 1940ء سے فلمی گیت نے بھی ملک کی آزادی میں کلیدی کردار ادا کیا۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازڈاکٹر ارشاد سیانوی نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔پروگرام کی سرپرستی معروف محقق و ناقد ڈاکٹر تقی عابدی (کناڈا)اور معروف ناقد و افسانہ نگارصدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی۔صدارت کے فرائض معروف ادیب و ناقدپروفیسر صغیر افراہیم نے انجام دیے۔ مہمان خصوصی کے بطور معروف فکشن نگار پروفیسر صالحہ رشید نے شر کت فرمائی اور مہمانان ذی وقار کے بطور پروفیسر زاہد الحق، حیدرآباد، پروفیسر مشتاق عالم قادری،دہلی اور ڈاکٹر کہکشاں لطیف، حیدر آبادنے شرکت کی۔ مقرر کے بطور لکھنؤ سے ایوسا کی صدر پروفیسر ریشما پروین موجود رہیں۔ استقبالیہ کلمات محترم فرمان حسین آبادی اور نظامت کے فرائض سیدہ مریم الٰہی نے انجام دیے۔
معروف ناقد و افسانہ نگار پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ جنگ آزادی میں اردو نے اہم کردار ادا کیا ہے۔اردو کے رسائل ہوں یہ اردو کے نعرے ہوں۔ انہوں نے اردو کی خدمات کے ساتھ ساتھ ملک کی آزادی میں اہم رول ادا کیا ہے۔ ہندو مسلمان، سکھ عیسائیوں کے ساتھ ساتھ ادباء اور شعرا نے ملک کی آزادی میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔
اس موقع پر ڈاکٹر مشتاق صدف نے کہا کہ شعور کی بیداری میں ہماری فکشن نگاروں،تنقید نگاروں،صحافیوں اور ادباء نے حب الوطنی کو فروغ دیا۔ بہت سے دانش وروں نے تحریکوں کے ذریعے ملک کی آزادی میں فروغ دیا۔ کوئی بھی تحریک اس وقت تک کامیاب نہیں ہوتی جب تک اس میں سب کا کردار شامل نہ ہوں۔ادیبوں نے اپنے خطبات، تحریروں اور تقریروں سے جذبہئ حب الوطنی کو آگے بڑھایا۔ علماء دیوبد نے بھی آزادی کے جذبے کو پروان چڑھایا۔ اردو نے تمام ہندوستانویوں کو ایک دھاگے میں باندھنے کا کام کیا ہے۔تحریک آزادی میں صحافیوں، فکشن نگاروں، مولویوں، صوفیوں اور اردو اخباروں نے بڑا اہم کارنامہ اجام دیا ہے۔
پروفیسر مشتاق احمد قادری نے کہا کہ جنگ آزادی اور اردو ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ اردو نے ملک کی آزادی میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ہمارے شعراء، ادباء اور اخبارات و رسائل نے جنگ آزادی میں اپنا قیمتی رول ادا کیا ہے۔ جن حضرات نے جنگ آزادی میں حصہ لیا ان میں ہمارے علماء، فکشن نگار اور ادباء اہمیت کے حامل ہیں۔ ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ اردو نے جنگ آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔مولانا حسرت موہانی، مولانا خیرآبادی، مولانا محمد علی جوہر، مولانا آزاد وغیرہ علماء اکرام نے ملک کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔ دہلی اردو اخبار اور دیگر اخبارات نے یہ اہم کارنامہ انجام دیا۔ مولانا آزاد اور ان کی اہلیہ کی قربانیوں کو ہم کبھی بھلا نہیں سکتے۔ مولانا آزاد نے اپنی اہلیہ کی تیمار داری کو بھی ملک کی آزادی کے لیے قربان کر دیا تھا جب بھی ادب کی تاریخ لکھا جائے گی ہمارے علماء کوضرور شامل کیا جائے گا۔
ڈاکٹر کہکشاں لطیف نے کہا کہ ہم سید احمد بریلوی اور مولوی کفایت علی وغیرہ کی قربانیوں کو فراموش نہیں کر سکتے۔ اردو شاعری قومی یکجہتی کی بات کرتی ہے اور اردو کبھی تعصب کا شکار نہیں ہوئی۔ تحریک آزادی کا نام اردو کے بنا ادھورا ہے۔ میر محمد حسین اور نسیم اللہ وغیرہ شہید ہوئے اور اردو زبان کے ذریعے ملک کو آزادی نصیب ہوئی۔اردو بلا کسی تعصب کے اپنا کردار اداکرتی ہے۔ تقسیم ہند کے وقت قرۃ العین حیدر قومہ کا شکار ہو گئی تھی۔ کار جہا ں دراز ہے اسی موضوع پر لکھا گیا ان کا پہلا ناول ہے۔
پروفیسر زاہد الحق نے کہا کہ تقریباً نوے سال تک ہمارے بزرگوں نے قربانیوں کو پیش کیا تب جاکر ملک کو آزادی نصیب ہوئی۔ہمارے اسلاف میں مولانا جوہر کی قربانیوں کو ہم کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ اردو والوں نے سماج کو جوڑنے کا کام کیا جب کہ انگریزوں نے ہندو مسلمانوں کو توڑنے کا کام کیا۔ انگریزوں نے ہمارے رسورسز کو ہم سے چھینا اور ہم پر ہی ظلم کیے مگر ہمارے ادباء و شعراء اور فکشن نگاروں نے انگریزوں کا مقابلہ کیا، انگریزوں کی پولیسی کی مخالفت کی اور ہمارے فکشن نگاروں نے انگریزوں کی چالوں کو ختم کیا۔
پروفیسر ابو سفیان اصلاحی کہا کہ ہندوستان گوناگوں زبانوں اور تہذیبوں کا مرکز ہے اور یہ ہی اس کی اصل خصوصیت ہے۔ اردو زبان کے لکھنے والوں نے بہت سی قربانیاں دیں۔اردو میں بہت سی نظمیں لکھی گئی جن کی زبان نے ملک کے نوجوانوں اور مجاہدین کے دلوں میں ایک جذبہ پیدا کیا۔ ایسی زبان یعنی اردو کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ بہت سی نظموں نے لوگوں کے جذبات کو جگایا ہے۔ ایسی نظموں کو بڑھایا جائے جنہوں نے ملک کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، یہاں کے طلبہ، اساتذہ اوررسائل نے ملک کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔ آزادی کا جہاں سے بگل بجتا ہے وہاں سے علامہ اقبال کی نظمیں ہمیں سوچنے پر مجبور کر تی ہیں۔
ڈاکٹر تقی عابدی نے کہا کہ اس وقت 24 / سے زیادہ زبانیں ہندستان میں ہیں اور 80 فیصد سے زیادہ کام ہمارا ہی رہا ہے۔ گاندھی جی کو مہاتما کا خطاب کس نے دیا یہ سب اردو کی دین ہے۔لسانی عمل نے سماج و معاشرے کو بیدار کیا۔صرف ساٹھ ہزار انگریزوں نے ملک کو غلام نہیں کیا بلکہ چھ لاکھ غداروں نے ہمیں آزادی سے محروم کیا۔ آزادی کی تحریک صرف میرٹھ سے ہی شروع نہیں ہوئی بلکہ ملک کے ہر کونے میں بیٹھا انسان اس میں شریک تھا۔ اردو ایک لسانی عمل ہے جس نے ملک کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔انقلاب زندہ باد اور گاندھی جی کو مہاتما کہنے والے مولانا محمد علی جوہر ہیں۔
پروفیسرریشما پروین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جنگ آزادی پر بہت سے مصنفین نے کتابیں تحریر کی ہیں جن میں علی جواد زیدی کی کتابیں سب کو پڑھنی چاہیے ان کتابوں میں تمام جنگ آزادی کی روداد شامل ہیں اور ضروری حوالے بھی دیے گیے ہیں۔
آخر میں اپنے صدارتی خطبے میں پروفیسر صغیر افراہیم نے کہا کہ ہر شخص جو ملک کی حفاظت کرنا چاہتا تھا اور جو غدار نہیں تھا اس کی زبان بھی اردو تھی۔ جہاں غدار بہت ہوتے ہیں وہاں تحریک ختم ہو جاتی ہے۔بھگوتی پرشاد نے نوجوانی میں کاکوری کیس کی پیروی کی،حسرت کی پوری زندگی اسی جدو جہد میں گزر گئی،۔ علی گڑھ برادری نے بھی کافی قربانیاں دیں فارسی کے ختم ہوتے ہی سب نے اردو کو اہمیت دی۔جنگ آزادی سے متعلق سب نے اردو کے نعر ے دیے۔نرم دل اور گرم دل کو آئڈیل بناتے ہوئے پریم چند نے افسانے لکھے۔اس طرح سے ملک کی آزادی میں اردو کا کلیدی رول رہا ہے۔
پروگرام سے ڈاکٹرآصف علی، ڈاکٹر الکا وششٹھ، محمد شمشاد، سعید احمد سہارنپوری اور دیگر طلبہ و طالبات جڑے رہے۔