
بارہ بنکی۔(ابوشحمہ انصاری) بزم عزیز کی ماہانہ طرحی نشست بزم کے صدر الحاج نصیر انصاری کے مکان پر منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت ضمیر فیضی رام نگری نے کی۔ نظامت کے فرائض ھزیل لعل پوری نے بخوبی ادا کیے۔ نشست میں مہمانانِ خصوصی کے طور پر عظیم مشائخی اور نفیس بارہ بنکوی موجود رہے۔
مصرع طرح “کاش پوچھیں وہ کبھی تیری تمنا کیا ہے” پر تمام شعرائے کرام نے اپنی۔اپنی بہترین غزلیں پیش کی۔
پسند کیے جانے والے اشعار نزر قارئین ہیں۔
اے خُدا تُو ہی بتا اس میں کُچھ ایسا کیا ہے
جو سمجھ پایا نہ انسان کہ دُنیا کیا ہے
الحاج نصیر انصاری
ہم سمندر کا جگر چیر دیا کرتے ہیں
پھر ہمارے لیے بہتا ہوا دریا کیا ہے
ضمیر فیضی رام نگری
بس اِسی آس میں رہتا ہوں کھڑا اُن کے حضور
کاش وہ پوچھیں کبھی تیری تمنا کیا ہے
عظیم مشائخی
اب سروں پر نہیں دستاروں پہ ہے اُس کی نگاہ
صاف ظاہر ہے ستمگر کا ارادہ کیا ہے
ھزیل لعل پوری
بس یہی سوچ کے اب تک نہیں چھوڑا تُجھ کو
جسم سے جان نکل جائے تو بچتا کیا ہے
ماسٹر عرفان بارہ بنکوی
مانگ لوںنگا میں اُسی وقت اُنہیں سے اُن کو
جب وہ پوچھیں گے بتا تیری تمنا کیا ہے
ڈاکٹر ریحان علوی
بے گناہوں کا یہاں خون بہانے والے
تُم نے دہشت کے سوا اور کمایا کیا ہے
نفیس بارہ بنکوی
تُم بڑے لوگ ہو تُم مخملی بستر ڈھونڈو
میں تو فٹ پاتھ پہ سو جاؤنگا میرا کیا ہے
حافظ اثر سیدن پوری
ہندو مسلم كو لڑاتے ہو کیوں آپس میں
مذہبی باتوں سے اُکسانے میں رکھا کیا ہے
آدرش بارہ بنکوی
یاد اللہ کو کر چین سے سوتا کیا ہے
آتی جاتی ہوئی سانسوں کا بھروسہ کیا ہے
مجیب ردولوی
سنگ کو موم نہ کر دے تو مُحبت کیسی
دِل کے اندر نہ اُتر جائے تو جذبہ کیا ہے
بشر مسولوی
بن بتائے ہی سجھ جاؤں نجومی ہُوں کیا
وہ بتائے تو کبھی اُسکا اِرادہ کیا ہے
لطیف بارہ بنکوی
ماں کے پہلو میں جو مِلتا ہے مزہ سونے کا
سامنے اُسکے دری اور غلیچہ کیا ہے
عارف شہاب پوری
چومے جبرائیل نے یوں ہی نہیں تلوے اُن کے
اُن کو معلوم تھا سرکار کا رتبہ کیا ہے
سرور کنتوری
راہِ اُلفت میں یہی سوچ کے رکھا ہے قدم
دیکھنا یہ ہے کہ اِس راہِ میں رکھا کیا ہے
شمس زکریاوی
جن کی اولاد نہیں رہتی مُسلسل گھر میں
اُن کے ماں باپ سے پوچھو کہ بڑھاپا کیا ہے
کیف بڑیلوی
حُسن کے اُن کے جو تعریف کبھی کی میں نے
ہنس کے کہنے لگے تُم نے ابھی دیکھا کیا ہے
طالب اعلیٰ پوری
یہ حوس ہے جو بنا دیتی ہے ظالم ورنہ
جانتے ہیں سبھی مظلوم سے لڑنا کیا ہے
انور سترکھی
اِن کے علاوہ صبا جہانگیر آبادی نے بھی اپنا طرحی کلام پیش کیا۔
بزم کے صدر الحاج نصیر انصاری نے تمام شعرائے کرام اور سامعین کا شکریہ ادا کیا ۔
اور اعلان کیا کہ اگلی نشست مصرع طرح “ایک وعدہ کبھی وفا کرتے”
وفا قافیہ اور ردیف کرتے پر ہوگی۔
