بازاری کھانوں کی نحوست

whatsapp image 2026 01 20 at 4.25.45 pm

آفتاب عالم ؔ شاہ نوری
کروشی بلگام کرناٹک

whatsapp image 2026 01 20 at 3.36.11 pm

انسانی زندگی کے لیے تین بنیادی چیزیں بے حد ضروری ہیں: ہوا، پانی اور غذا۔ ان میں سے کسی ایک کے بغیر بھی انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ اگر پانی اور غذا میسر نہ ہوں تو انسان چند دن تک زندہ رہ سکتا ہے، لیکن اگر ہوا بند ہو جائے تو چند منٹوں میں ہی زندگی کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔دورِ حاضر میں انسان نے کھانے پینے کو جتنی اہمیت دی ہے، شاید ہی اتنی اہمیت کبھی دی گئی ہو گی ۔ پہلے زمانے میں لوگوں کی زبان پر یہ جملہ عام تھا کہ “بس دو وقت کی روٹی مل جائے تو کافی ہے”، مگر آج انسان دو وقت کے بجائے دن میں کئی کئی مرتبہ کھاتا ہے اور اس بے اعتدالی کے ساتھ طرح طرح کی بیماریوں کو دعوت دیتا ہے ۔ اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جتنی اموات بھوک سے نہیں ہوئیں، اس سے کہیں زیادہ اموات غذا کے بے جا استعمال کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ شکر کی زیادتی شوگر کا باعث بنتی ہے، نمک کا زیادہ استعمال بلڈ پریشر کی بیماری پیدا کرتا ہے، اور مصالحے دار کھانوں کی کثرت السر جیسی خطرناک بیماریوں کو جنم دیتی ہے۔آج سے بیس پچیس برس پہلے ہوٹلوں میں کھانا کھانا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ یہ خیال عام تھا کہ ہوٹل کا کھانا شرفاء کے لیے مناسب نہیں۔ لوگ دور دراز کے سفر پر بھی گھر سے کھانا ساتھ لے کر نکلتے تھے۔ اگرچہ وہ سوکھی روٹی ہی کیوں نہ ہو، مگر ہوٹل کے گرم کھانے پر گھر کے کھانے کو ترجیح دی جاتی تھی۔

ملے خشک روٹی جو آزاد رہ کر
تو وہ خوف و ذلت کے حلوے سے بہتر
جو ٹوٹی ہوئی جھونپڑی بے ضرر ہو
بھلی اس محل سے جہاں کچھ خطر ہو

بازاری کھانوں سے احتیاط کیوں ضروری ہے؟
مشتبہ کھانا:ہوٹل کے کھانے سے گریز کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہاں پکنے والا کھانا مشتبہ ہوتا ہے۔ کھانے والے کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کھانا کس نے تیار کیا ہے، اس میں کون سے اجزاء شامل ہیں اور کس معیار کا سامان استعمال کیا گیا ہے۔ یہ لاعلمی خود ایک سنگین مسئلہ ہے

whatsapp image 2026 01 20 at 4.25.46 pm


صفائی کا فقدان:اکثر ہوٹلوں میں صفائی کی حالت نہایت خراب ہوتی ہے۔ رسوئی خانے گندگی سے بھرے ہوتے ہیں۔ عملہ پسینے میں شرابور رہتا ہے، گوشت اور مصالحے کئی کئی دن فریزر میں رکھے جاتے ہیں، اور بعض جگہ کاکروچوں اور چوہوں کی بھرمار ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص یہ مناظر دیکھ لے تو شاید دوبارہ کبھی ہوٹل کا کھانا کھانے کا حوصلہ نہ کرے۔
کھانوں میں استعمال ہونے والے کیمیکلز: آج کل بہت سے ہوٹلوں اور فاسٹ فوڈ مراکز میں ذائقہ، رنگ، خوشبو اور شیلف لائف بڑھانے کے لیے مصنوعی اور کیمیائی اجزا استعمال کیے جاتے ہیں۔ ذائقہ بڑھانے کے لیے اجینو موٹو اور دیگر کیمیکلز، رنگت کے لیے مصنوعی رنگ، خوشبو کے لیے فلیور، اور گریوی کو گاڑھا کرنے کے لیے مختلف اجزا شامل کیے جاتے ہیں۔ بار بار گرم کیا ہوا تیل بھی صحت کے لیے نہایت نقصان دہ ہوتا ہے۔یہ بات درست ہے کہ ہر ہوٹل ایسا نہیں کرتا، مگر سستے اور زیادہ منافع کمانے والے مراکز میں یہ چیزیں عام طور پر زیادہ پائی جاتی ہیں۔
نافرمانی اور بگاڑ کی ایک وجہ: آج والدین، اساتذہ اور مشائخ اس بات کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ نئی نسل ان کی بات نہیں مانتی۔ بعض اہلِ فکر کے نزدیک اس کی ایک وجہ بازاری کھانے بھی ہیں۔ یہ کہا جاتا ہے کہ ان کھانوں میں شامل بعض کیمیکلز وقتی لذت تو دیتے ہیں، مگر رفتہ رفتہ انسان کو بے راہ روی اور نافرمانی کی طرف مائل کر دیتے ہیں۔باہر کے کھانوں کا استعمال اس قدر بڑھ چکا ہے کہ گھریلو نظام متاثر ہو رہا ہے۔ ماں باپ شکایت کرتے ہیں کہ بچے گھر کا کھانا نہیں کھاتے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ چپس، کرکرے، چاکلیٹ، نوڈلس اور پاستا نے بچوں کی فطری بھوک کو ختم کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دسترخوان پر چند لقمے کھا کر اٹھ جاتے ہیں۔اسی طرح عورتیں اور نوجوان لڑکیاں پانی پوری، شیو پوری، سموسہ اور چاٹ جیسی چیزوں کی کثرت سے اپنی صحت کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ نوجوان لڑکے اور ادھیڑ عمر مرد چائے کے ٹھیلوں کے عادی ہوتے جا رہے ہیں، اور شام کے وقت یہی نوجوان بار بار گرم کیے گئے تیل میں تیار کی گئی اشیا استعمال کر رہے ہیں جو انسانی جسم کو آہستہ آہستہ کھوکھلا کرتی جا رہی ہیں ۔
ایک زمانہ تھا کہ لوگ بے نمازی کے ہاتھ کا کھانا کھانے سے بھی احتراز کرتے تھے، اور آج ہم بلا جھجھک ہوٹلوں کا رخ کرتے ہیں۔ برتھ ڈے اور اینیورسری کے نام پر ہوٹلوں میں ہجوم نظر آتا ہے، اور وہ ڈشیں جو کبھی اجنبی تھیں، آج معمول بن چکی ہیں۔
ان تمام مسائل کا واحد اور مؤثر حل یہ ہے کہ گھر کے سیدھے سادے، پاکیزہ اور متوازن کھانوں کو اپنایا جائے۔ گھر کا کھانا نہ صرف صحت کی ضمانت ہے بلکہ اخلاقی اور روحانی سکون کا ذریعہ بھی ہے۔اگر ہم نے اپنے دسترخوان کو درست کر لیا، تو بہت سی جسمانی بیماریوں اور معاشرتی خرابیوں سے خود بخود نجات حاصل ہو سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *