نمکین غزل

whatsapp image 2026 01 10 at 9.51.27 pm

ہم تو آئے تھے فقط شعر سنانے کے لیے
آ گئے لوگ مگر ریل بنانے کے لیے

اس نے اظہار محبت پہ کہا کچھ بن جاؤ
ہم کہ شاعر جو بنے نکلی کمانے کے لیے

عشق میں دل تو لٹایا تھا بڑے شوق کے ساتھ
اب ترستے ہیں مگر ہم اسے پانے کے لیے

گھر میں بیوی ہو تو ماحول بدل جاتا ہے
ہم تو چپ رہتے ہیں بس جان بچانے کے لیے

پہلے کہتے تھے تمہاری ہی قسم کھاتے ہیں
اب قسم کھاتے ہیں بس ہم کو منانے کے لیے

بیٹا کہتا ہے کہ ابو نہیں کیوں چلتا نیٹ
یعنی آ جاتا ہے ریچارج کرانے کے لیے

شعر اچھا ہو تو ملتی ہے یقیناً تالی
ورنہ شاعر ہے کھڑا راگ سنانے کے لیے

جو سمجھ پائیں مرے شعر یہاں کم ہیں قمر
لوگ بیٹھے ہیں فقط ناشتہ کھانے کے لیے

تحسین علی قمر اساروی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *