میرٹھ:10/ جنوری
’مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا‘یہ علامہ اقبال کے شعر کا مصرعہ ہے جو قومی اتحاد کا پیغام لیے ہوئے ہے۔ علامہ اقبال کی شاعری میں قومی اتحاد اور ہندوستان کی خوبصورتی کی جو تصویر کشی ملتی ہے اردو شاعری میں دیگر شعرا کے یہاں وہ خال خال ہی نظر آ تی ہے۔ اسی طرح ابن خلدوں نے اپنی تصنیف”مقدمہ ابن خلدون“ میں بھی سماجی انصاف اور برابری کے تصور کے حوالے سے جو چیزیں پیش کی ہیں وہ نہایت اہم ہیں۔ہم بہتر سماجی اقدار کے لیے اس کتاب سے خوب فیض حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ الفاظ تھے معروف اسکالر پروفیسر ابو سفیان اصلا حی کے جو شعبہئ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی اور سیف فاؤنڈیشن کے با ہمی اشتراک سے اٹل سبھا گار میں منعقد پہلے ڈاکٹر معراج الدین احمد میمو ریل لیکچر بعنوان”سماجی انصاف اور برا بری کا تصور“ موضوع پر اپنے کلیدی خطبے کے دوران ادا کررہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ سر سید نے بھی جو کچھ اس حوالے سے کہا ہے وہ بھی ہمارے سامنے ہیں کہ ہندوستان ایک خوبصورت دلہن کی مانند ہے جس کی دو آنکھیں ہیں انہوں نے ایک آنکھ کو ہندو اورایک کو مسلم سے تعبیر کیا ہے۔قرآن بھی یہی پیغام دیتا ہے کہ بلا تفریق مذہب و ملت دنیا میں جتنی قومیں ہے سب اللہ کی سوسائٹی ہے۔ اب اگر سوسائٹی میں کسی کو برا بری کا درجہ نہ دیں تو وہ اس کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔اس بنا پر کہا گیا ہے کہ جس نے کسی بے گناہ شخص کو بچا لیا اس نے پوری انسانیت کو پچالیا۔ بہتر سوسا ئٹی کے لیے عورتوں کا اعزاز بھی نہایت ضروری ہے۔سماج میں ہر کسی کو برا بری کا درجہ دیتے ہوئے بہترین سوسائٹی قائم کر سکتے ہیں۔اس ہندوستان کو سر سید کی طرح خوبصورت بنانے میں ایسے لوگ بہت کم ملتے ہیں مگر ان کم لوگوں میں معراج الدین صاحب بھی شامل تھے۔ معراج
-صاحب نے ادب سے بھی محبت کی اور انسانوں سے بھی
اس سے قبل پروگرام کا آغاز مولانا انیس الرحمن قاسمی نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔بعد ازاں سبھی مہمانان کا استقبال پھولوں سے کیا گیا۔ پروگرام کی سر پرستی ممبر آف پارلیامنٹ راجیہ سبھا لکشمی کانت واجپئی اور معروف شاعر اور ماہر تعلیم ڈاکٹر نواز دیوبندی نے فرمائی۔ صدارت کے فرائض معروف ادیب و ناقد پرو فیسر اسلم جمشید پوری نے انجام دیے۔مہمانانِ ذی وقار کے بطور رفیق انصاری ]ایم ایل اے،میرٹھ شہر،راجندر شرما،شوبھت یونیورسٹی کے چانسلر کنور شیکھر وجیندر نے شرکت فرمائی۔ کلیدی خطبہ علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی کے پروفیسر ابو سفیان اصلا حی نے پیش کیا۔استقبالیہ کلمات ڈاکٹر شاداب علیم اور عامرہ احمد نے پیش کیے۔ نظامت ڈاکٹر آفاق احمد خاں اور شکریے کی رسم بدر محمود نے انجام دی۔اسی دوران ڈاکٹر معراج الدین احمد پر مبنی شارٹ فلم بھی دکھا ئی گئی۔
اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے عامرہ احمد نے کہا کہ میرے والد ہمیشہ کہتے تھے کہ ہمیں دوسروں کی فکر کرنا چاہیے۔ آج آپ سب کو دیکھ کر لگ رہا ہے کہ ہم اکیلے نہیں ہیں۔ میں نے بہت سی باتیں صرف پاپا سے سیکھی ہیں۔ جب وہ کام کرتے تھے تو موسم اور وقت ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے تھے۔ چودھری یشپال سنگھ نے کہا کہ ہمارے تعلق معراج صاحب سے چوتھی نسل میں داخل ہو چکا ہے۔آپ کا تعلق رٹول سے تھا۔ آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن ان کی باتیں، ان کی یادیں ہمیشہ ساتھ رہیں گی۔
پروگرام کے دوران پہلا ڈاکٹر معراج الدین احمد ایوارڈ بھی معروف سماجی کار کن اور جشن بہار ٹرسٹ،نئی دلّی کی فاؤنڈر محترمہ کامنا پرساد کو ان کی سماجی خدمات کے اعتراف میں پیش کیا گیا۔ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد کامنا پرساد نے کہا کہ معراج صاحب کا تعلق جس گھرا نے سے تھا وہ گھرا نہ صدیوں سے ادبی، علمی۔ اخلاقی بلندی کو اُجاگر کرتا رہا ہے۔میرٹھ نے اردو کو کئی اہم نام دیے ہیں۔
لکشمی کانت واجپئی نے کہا کہ معراج صاحب سینچائی منسٹر تھے۔ معراج الدین احمدبے باک لہجے کے مالک اور کھرے انسان تھے۔ گنگا جل کی سپلائی جو آج میرٹھ کو مل رہی ہے وہ معراج صاحب کی دین ہے۔وہ جب سڑک پر چلتے تھے تو کبھی سر اوپر نہیں اٹھاتے تھے۔ آج میرٹھ کی عوام ان کا جتنا بھی شکریہ ادا کرے وہ کم ہے۔
کنور شیکھر وجیندر نے کہا کہ کہ جولوگ یہاں بیٹھے ہیں وہ سب معراج کی محبت کی دین ہے۔ وہ صرف وزیر نہیں تھے بلکہ بڑی شخصیت کے مالک تھے۔ ڈاکٹر معراج الدین خود گنگا جمنی تہذیب کی مثال تھے۔رفیق انصاری نے کہا کہ میں ڈاکٹر معراج الدین کے خاندان کو مبا رک باد پیش کرتا ہوں جنہوں نے ان کی یاد میں اتنے خوبصورت پروگرام کا اہتام کیا۔اگر صحیح معنوں میں سچے ہندوستان کو دیکھنا ہو تو پورا ہندوستان یہاں بیٹھا ہے۔ معراج صاحب کی زبان بہت میٹھی تھی۔ وہ اردو زبان کا استعمال کرتے تھے۔راجندر شر ما نے کہا کہ ہم سب معراج صاحب کے کردار سے واقف ہیں مگر یہ سچ ہے کہ سماجی انصاف اور برابری کی وہ زندہ مثال تھے۔ ڈاکٹر معراج کے بتائے ہوئے راستے پر ہمیں چلنا چاہئے۔پروفیسر جمال احمد صدیقی نے کہا کہ میں اس موقع پر ان کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ معراج صاحب کو چاہنے والے لوگ ان کی محبت کی وجہ سے یہاں آ ئے ہیں۔ میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ معراج صاحب تہذیب، محبت اور ایمانداری کی مثال تھے۔
ڈاکٹر نواز دیوبندی نے کہا کہ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جن کو سب یاد کرتے ہیں۔میرا یہ کہنا ہے کہ زندگی میں قدر کرنا سیکھو قسمت جاگ جائے گی۔ سماج و ادب کی صحت کے لیے اسلم جمشید پوری جیسے انسان بہت کم ملتے ہیں۔ آج معراج صاحب کو یاد کررہے ہیں یہ ان سے محبت، ہمددی اور خلوص کی بدو لت ہے۔کہ وہ کہا کرتے تھے کہ آپس میں لڑا ئی مت کرو اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بڑے خلوص کے انسان تھے۔
پروگرام میں صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ ڈاکٹر معراج الدین احمد اس شہر کی ادبی، سیاسی اور سماجی وراثت کا ایک حصہ تھے۔ انہوں نے اور ان کے پورے خاندان نے شہر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ ادب میں ان کے خانوادے کا میرٹھ کی تشہیر میں بڑا ہاتھ ہے۔ ایسے شخص کا یہاں سے چلے جانا ہم سب کا نقصان ہے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ ان کے لگا ئے ہوئے پودے کو سینچے اور ہر سال ان کی یاد میں ایک پرو گرام کرا ئیں۔
اس موقع پرڈاکٹر آصف علی، جی ایس دھاما، ایڈوکیٹ، چودھری یشپال سنگھ، ڈاکٹر کمریندر سنگھ،ڈاکٹر ارشاد سیانوی، ڈاکٹر الکا وششٹھ، ملیحہ احمد،نبیل انور، حکیم حارث محمود، انجم صدیقی، تبسم عرفان، آر ایل بشنوئی، سنجے گپتا، شاہد صدیقی، ٹھا کر پرتیش سنگھ، منیش پرتاپ، روی بشنوئی، ہلال احمد، جاوید، غازی، شاہد سیفی، زاہد سیفی،افضل چوہان، سلیم بھارتی، کنور رئیس احمد،فرزانہ سبز واری، شکتی راج سنگھ ایڈوکیٹ، انکت چودھری ایڈوکیٹ، فیض محمود، سلیم سیفی، اقبال سیفی،انعم شیروانی، محمد عیسیٰ رانا، محمد ندیم، محمد شمشاد، فر حت اختر ڈاکٹر تابش فرید،شاہ فیصل،طلبہ و طالبات اور کثیر تعداد میں عمائدین شہر موجود رہے۔