محبوب خیرآبادی سیتاپور
کردارِ محبت اے لوگو یلغار سے بہتر ہوتا ہے
ہاتھوں میں امینِ حق کے قلم تلوار سے بہتر ہوتا ہے
یہ کس نے کہا ہے دولت کے انبار سے بہتر ہوتا ہے
انسان ہمیشہ حسنِ عمل ، کردار سے بہتر ہوتا ہے
لوگوں کی بھلائی کی خاطر جو عہدِ وفا ٹھکراتے ہیں
انکار محبت میں اُن کا اقرار سے بہتر ہوتا ہے
اُس سے دل کی نازک باتیں کہنا جب آسان نہ ہو
محفلِ غیر میں چپ رہنا اظہار سے بہتر ہوتا ہے
افلاس کےصحرامیں رہکرجو پھول کھلا لےایماں کے
نادار وہ بے شک دنیا میں زردار سے بہتر ہوتا ہے
کب جنگ و جدل سے ملتی ہے تسکینِ دل وجاں اےلوگو
اک سازِ وفا تلواروں کی جھنکار سے بہتر ہوتا ہے
میراث محبت کی قائم محبوب ہے جس سے دنیا میں
درویش کا حجرہ شاہوں کے دربار سے بہتر ہوتا ہے
