غزل

ڈاکٹر تنویر گوہر
مظفرنگر، یو پی، انڈیا

whatsapp image 2026 01 06 at 10.15.38 pm (1)

یہ خاکہ بھی کبھی دیوار و در میں منتقل ہوگا
ابھی تو خواب ہے اک روز گھر میں منتقل ہوگا

غریبی میں بھی رکھتا ہوں غریبوں کی خبر گیری
یہی اخلاص میرا مال و زر میں منتقل ہوگا

اسی دن گھر سے ہو جائے گی رخصت خانہ ویرانی
کوئی دیوانہ جب صحرا سے گھر میں منتقل ہوگا

عبث ہے ناز تم کو اپنی قسمت پر محل والو
محل کیسا بھی ہو اک دن کھنڈر میں منتقل ہوگا

سخن کی محفلیں بن جائیں گی قسمت خبر کیا تھی
یہ شوقِ شاعری پیہم سفر میں منتقل ہوگا

فقط اعمال اچھے ہی ہمارے ساتھ جائیں گے
نہ سامان اور کوئی اُس سفر میں منتقل ہوگا

مشقت کے پسینے سے اِسے بس سینچتے رہِیے
یہی پودا کبھی گوہؔر شجر میں منتقل ہوگا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *