۔
شگفتہ امید گُل قصور،پاک
آپ کی یاد آتی نہیں اب مجھے
رات بھر یہ ستاتی نہیں اب مجھے
تم جہاں بھی رہو، خوش رہو تم صدا
بے بسی منہ چڑاتی نہیں اب مجھے
تیری تصویر آنکھوں سے جاتی رہی
بے وفائی رلاتی نہیں اب مجھے
ہم کو پھولوں سے مطلب نہ ہی واسطہ
خوشبو ہستی ہنساتی نہیں اب مجھے
تیر ہاتھوں میں یہ تھام کر ہجر کے
رات ڈھلتی ڈراتی نہیں اب مجھے
چھوڑ دی آ س تیرے پلٹ آ نے کی
تند لہریں پٹا تی نہیں اب مجھے
آ کے خوشبو شگفتہ ٹھہر جائے پر
در کی دستک ڈراتی نہیں اب مجھے

السلام علیکم
تنویر ادب میرےلیے روشنی کی ایک کرن ثابت ہوا ـ جب میری پہلی غزل اس میں لگائی گئی تو میرے دوست، احباب اور ساتھی کولیگز حیران ہوئیں کہ میرا کلام انڈین پیپر میں شائع ہوا، جبکہ میرا تعلق قصور شہر سے ہے ـ یہ آن لائن رسالہ میں نے اپنی فیملی کے کچھ نمبرز پر شیئر کیا تو بہت خوش ہوے ـ اورمجھے بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ میں اس پلیٹ فارم سے جڑی
بہت شکریہ محترمہ
اچھا شعر کہتی ہیں آپ۔۔۔مبارکباد آپ کو