غزل

1002774716

ڈاکٹر عبدالوہاب سخن
رام پور (اُتر پردیش)

عمر بھر یوں حیرتوں کا سلسلہ چلتا رہا
ایک منظر ختم ہو کر ، دوسرا چلتا رہا

عشق میں یہ کیفیت بھی مدتوں طاری رہی
دوسروں سے اپنے بارے میں پتہ چلتا رہا

مدعی سب مر گئے انصاف کی اُمید میں
کچھ اگر چلتا رہا تو ‘مُدّعا ‘ چلتا رہا

یوں سمجھئے پا گیا وہ شخص منزل کا سراغ
اُلٹے پیروں سے جو سیدھا راستہ چلتا رہا

جس نے محفل میں کسی کو منھ لگایا ہی نہیں
دیر تک محفل میں اُس کا تذکرہ چلتا رہا

راہ کا کوئی شجر شاید مجھے آواز دے
اِس لئے میں دھوپ میں چلتا رہا۔۔ چلتا رہا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *