کیا واقعی ہم اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں…..؟؟؟

whatsapp image 2026 01 07 at 2.27.22 pm

(ڈاکٹر طاہر قمر میراں پوری)

پوری دنیا کے مختلف ممالک پر اگر نظر دوڑائی جائے تو دیکھنے میں آتا ہے کہ مسلم ممالک کا اسلامی اصولوں، اسلامی تعلیمات اور روز مرہ کی زندگی میں اپنی زندگی کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنا محض ایک ایسا خواب ہے جو فی الحال تو پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

جورج واشنگٹن یونیورسٹی کے پروفیسر حسین عسکری نے ایک اپنی ریسرچ میں انکشاف کیا ہے کہ مسلم یا اپنے کو اسلامی ممالک کہنے والے حقیقت میں کتنے اسلامک ہیں ۔جب انہوں نے یہ پرکھنے کی کوشش کی کہ کون سے ممالک اسلامی مملکت اور معاشرتی نظام کو فالو کرتے ہیں تو پتہ چلا کہ جو ممالک اپنی روز مرہ کی زندگی میں اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہیں وہ اصل میں مسلمان ممالک نہیں ہیں۔

whatsapp image 2026 01 07 at 2.27.22 pm

اپنے مطالعے سے انہوں نے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ اسلامی اصولوں کو فالو نیوزی لینڈ کرتا ہے اس کے بعد لکسم برگ، آئرلینڈ ائس لینڈ ، فنلینڈ ڈنمارک اور ساتویں نمبر پر کناڈا کا نام شامل ہے۔

جبکہ ملیشیا 38 ویں کویت 48 ویں اور بحرین 64 ویں نمبر پر ہے ۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ سعودی عرب 131 ویں مقام پر ہے یہاں تک کہ بنگلہ دیش بھی سعودی عرب سے نیچے آتا ہے ۔

ان کی اس ریسرچ کو گلوبل اکانومی جرنل میں شائع کیا گیا تھا ۔

اس ریسرچ میں یہ بھی واضح ہوا کہ لوگ نماز روزہ قرآن و سنت حدیث حجاب داڑھی اور پہناوے پر بہت دھیان دیتے ہیں، دینا بھی چاہیے کیوں کہ یہ بھی اسلام کا حصہ ہیں لیکن معاشرتی و اقتصادی زندگی میں اسلام کے اصولوں کو اپنانے سے گریز کرتے ہیں ۔

اس میں کوئی بھی شک نہیں ہے کہ مسلم دنیا میں سب سے زیادہ مذہبی تقاریر وعظ اور نصیحتیں سنی جاتی ہیں، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ آج تک کوئی بھی مسلم ملک دنیا کا سر فہرست ملک نہیں بن پایا ہے اور مسلم ممالک معاشرتی زندگی اور انصاف میں پچھڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔

ایک چینی تاجر نے ایک بار کہا تھا کہ مسلم تاجر ہمارے پاس آکر نمبر دو کی نقل کی ہوئی چیزیں بنانے کا آرڈر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس پر معروف کمپنی کا لیبل چسپاں کرنا ہے ۔
لیکن جب ہم انہیں کھانا آفر کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں یہ حلال نہیں ہے ہم نہیں کھائیں گے ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا نقلی چیزیں بنانا حلال ہے۔۔۔۔؟؟؟

ایک جاپانی نو مسلم کا کہنا ہے کہ میں نے مغربی ممالک میں غیر مسلموں کو اسلامک اصولوں کو فالو کرتے دیکھا ہے اور مشرقی ممالک میں اسلام تو دیکھا ہے مگر مسلمان نہیں دیکھے. الحمدللہ اس فرق کو پہچان کر میں نے پہلے ہی اسلام کو قبول کر لیا ہے۔

غور کرنے کا مقام ہے کہ اسلام صرف نماز روزے اور عبادات کا ہی نام نہیں ہے یہ زندگی جینے کا ایک ایسا سسٹم ہے جو ہمارے باہمی اخلاقی معاملات اور معاشرتی اور کاروبار میں بھی جھلکنا چاہیے اگر کسی آدمی کے ماتھے پر نماز کا نشان ہے تو یہ ضروری نہیں کہ وہ اللہ کی نظر میں نیک ہو یہ ریاکاری بھی ہو سکتی ہے

ایک حدیث کا مفہوم اس طرف اشارہ کرتا ہے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اصل مفلس لوگ وہ ہوں گے جو قیامت کے دن روزہ نماز حج اور صدقے کے ساتھ آئیں گے مگر انہوں نے دوسروں پر ظلم کیا ہوگا کسی کی عزت پر حملہ کیا ہوگا کسی کا حق مارا ہوگا تو ایسے سارے لوگوں کے اعمال دوسروں کو دے دیے جائیں گے اور آخر میں جب کچھ نہ بچے گا تو دوسرے کے گناہ ان کے اوپر لاد کر انہیں جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔

حقوق اللہ اور حقوق العباد جب تک دونوں کو ساتھ لے کر عمل نہیں ہوگا تو ہمارا ایمان مکمل نہیں ہوگا ہم اسلام کے سچے پیروکار نہیں بن سکیں گے اور یہی ادھورا پن آج ہر مسلم ممالک میں دیکھنے کو ملتا ہے۔

روزہ نماز و دیگر عبادتیں یہ اللہ کے اور بندے کے درمیان کا معاملہ ہے مگر سماج میں انصاف قائم کرنا بے ایمانی سے بچنا بندوں کے حقوق کی ادائیگی یہ سماج کے ساتھ انصاف کا معاملہ ہے۔
اگر مسلم طبقہ اپنی زندگی میں ان تمام اسلامی اصولوں پر عمل پیرا نہیں ہوگا تو معاشرے میں مختلف قسم کی برائیاں پیدا ہوں گی جو ہو بھی رہی ہیں اور مسلم طبقے کا مستقبل تاریک ہوتا چلا جائے گا۔

لارڈ برنان شاہ کا ایک تاریخی جملہ یقینا ہمیں بیدار کرنے کے لیے کافی ہے انہوں نے ایک بار کہا تھا

کہ اسلام سب سے اچھا دھرم ہے اور مسلمان سب سے برے پیروکار

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں دین کی صحیح سمجھ دین کی صحیح فکر اور شعور عطا فرمائے آمین یا رب العالمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *