تحریر: ابوشحمہ انصاری
سعادت گنج، بارہ بنکی

ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں نوجوان اپنی زندگی کے سب سے قیمتی لمحے اسکرین کے سامنے ضائع کر رہے ہیں۔ موبائل کی چمک، ویڈیوز کی تیز رفتاری، سوشل میڈیا کے لا تعداد نوٹیفکیشنز اور آن لائن گیمز کی لامتناہی دنیا نے انہیں ایک ایسی جیل میں قید کر دیا ہے جہاں نہ تو وقت بچتا ہے، نہ تخلیقی سوچ، نہ انسانی تعلقات کی گہرائی، اور نہ ہی فکری آزادی۔ ہر لمحہ ایک نئے اسکرول، نئے ویڈیو، نئے لائکس کی دوڑ میں ختم ہو جاتا ہے۔
کتاب کی تنہائی اور اسکرین کا شور ایک دوسرے کے متضاد قطب ہیں۔ کتاب خاموش ہے، غور و فکر کے لیے بلاتی ہے، سوچنے پر مجبور کرتی ہے اور صبر سکھاتی ہے۔ اسکرین شور ہے، فوری خوشی ہے، لمحاتی تسکین ہے، اور نوجوان کو عارضی اطمینان فراہم کرتی ہے۔ اور نوجوان اکثر اسی شور کی طرف مائل ہوتے ہیں کیونکہ یہ فوری لذت دیتا ہے، لیکن یہ لذت وقتی اور عارضی ہے۔ کتاب کے صفحات نوجوان کے دماغ میں علم، سوچ اور فکری مضبوطی کے بیج بوتے ہیں، اور اسے سکھاتے ہیں کہ حقیقی خوشی اور طاقت فوری نتائج میں نہیں بلکہ غور و فکر، صبر اور شعور میں چھپی ہے۔
آج کے نوجوان اکثر اپنی اہمیت دوسروں کی نظر میں تلاش کرتے ہیں۔ لائکس، کمنٹس، شیئرز اور ویوز ان کے لیے پیمانہ بن جاتے ہیں جس سے وہ اپنی خوشی اور کامیابی ناپتے ہیں۔ لیکن یہ پیمانہ جھوٹا اور عارضی ہے۔ کتاب نوجوان کو حقیقی علم دیتی ہے، مستقل مزاجی سکھاتی ہے، اور سوچ کی گہرائی سے روشناس کراتی ہے۔ جو نوجوان کتاب کے صفحات کے ساتھ وقت گزارتا ہے، وہ دنیا کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا سیکھتا ہے، دوسروں کی نقل کرنے یا فوری شہرت کے پیچھے بھاگنے کی عادت سے آزاد ہوتا ہے۔
کتاب کی تنہائی نوجوان کو یہ شعور دیتی ہے کہ خوشی کا راز فوری تسکین میں نہیں بلکہ غور و فکر، محنت اور سوچ میں چھپا ہے۔ یہ تنہائی نوجوان کے دل و دماغ کو تربیت دیتی ہے کہ وہ اپنے جذبات اور خیالات پر قابو پائیں، زندگی کے مسائل کو سمجھیں اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھاریں۔ کتاب کے صفحات نوجوان کو ایک ایسی دنیا میں لے جاتے ہیں جہاں کوئی شور نہیں، کوئی جلد بازی نہیں، صرف علم، فکر اور انسانی تجربات کی گہرائی ہے۔
سوشل میڈیا اور اسکرین کی دنیا میں نوجوان اکثر سطحی سوچ کے قیدی بنتے ہیں۔ وہ فوری لطف، لمحاتی خوشی اور دنیا کی رائے کی عکاسی کی دوڑ میں لگ جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان میں صبر، مستقل مزاجی، اور تخلیقی صلاحیت کی کمی پیدا ہوتی ہے۔ وہ اپنی اصل شناخت سے کٹ جاتے ہیں اور مصنوعی دنیا کی چمک دمک میں گم ہو جاتے ہیں۔ کتاب ان کے اندر فکری آزادی پیدا کرتی ہے، شعور بڑھاتی ہے، اور انہیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی کا اصل مقصد صرف دکھاوا یا لمحاتی خوشی نہیں، بلکہ سوچ، شعور اور انسانی قدر کے ساتھ زندگی گزارنا ہے۔
کتاب کی تنہائی سکھاتی ہے کہ ہر لفظ، ہر صفحہ، ہر کہانی ایک سبق ہے۔ نوجوان سیکھتا ہے کہ دنیا کو فوری جواب یا شور کے ذریعے نہیں بلکہ غور و فکر، مشاہدے اور تجزیے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہر لمحہ، ہر فیصلہ، ہر جذباتی کیفیت محنت، شعور اور فکری قوت کا متقاضی ہے۔ نوجوان اگر کتاب کے ساتھ وقت گزارتا ہے، تو وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ معاشرے کے لیے بھی شعور، تخلیق اور انسانی ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
یہ تضاد ہر گھر، ہر کالج، ہر یونیورسٹی میں نمایاں ہے۔ ایک نسل جو کتاب سے دور ہو رہی ہے، وہ اپنی تاریخ، ثقافت، اور سماجی ذمہ داریوں سے جُھٹتی جا رہی ہے۔ اسکرین کے اسیر نوجوان اکثر اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں کی عارضی خوشیوں اور مصنوعی معیار سے کرتے ہیں۔ وہ کتاب کی تنہائی میں چھپی حکمت اور انسانی تجربے کی گہرائی کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔
کتاب نوجوان کو صبر، تحمل، تجزیہ اور تخلیقی سوچ سکھاتی ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ حقیقی علم اور حقیقی خوشی فوری نتائج میں نہیں بلکہ غور و فکر، محنت اور شعور میں چھپی ہے۔ نوجوان کتاب کے صفحات سے یہ سیکھتا ہے کہ زندگی کے ہر لمحے کو شعوری، مثبت اور تخلیقی انداز میں گزارنا ہی اصل کامیابی ہے۔
یہ وقت نوجوانوں کے لیے ایک دعوت ہے کہ وہ اسکرین کے شور کے مقابلے میں کتاب کی تنہائی کو اپنائیں۔ کتاب نوجوان کے دل، دماغ اور روح کو مضبوط کرتی ہے، اور اسے ایک ایسی زندگی گزارنے کی طاقت دیتی ہے جو نہ صرف ذاتی بلکہ اجتماعی کامیابی اور انسانی ترقی کی بنیاد بن سکے۔
نوجوان جو کتاب کے ساتھ وقت گزارتا ہے، وہ اپنی شناخت کو سمجھتا ہے، دوسروں کی تقلید نہیں کرتا، اور اپنی زندگی کے ہر لمحے کو شعوری، مثبت اور فکری انداز میں گزارنے لگتا ہے۔ کتاب کے صفحات اس کے لیے ایک رہنما، مشعل راہ، اور روشنی کی صورت ہیں۔ ہر لفظ، ہر کہانی، اور ہر سبق نوجوان کے دل و دماغ میں ایک اثر چھوڑتا ہے، جو صرف پڑھنے سے نہیں بلکہ سمجھنے، محسوس کرنے، اور دل میں بسانے سے پیدا ہوتا ہے۔
اسکرین کی دنیا شاید فوری خوشی دے، مگر کتاب کی تنہائی، خاموشی اور گہرائی ایک نوجوان کے اندر شعور، صبر، اور انسانی فکری آزادی کی بنیاد ڈالتی ہے۔ جو نوجوان یہ سکولیت اور تنہائی اختیار کرتا ہے، وہ ایک نئی نسل کی صورت میں دنیا کے لیے روشنی بننے کے قابل ہوتا ہے۔
مضمون نگار، آل انڈیا مائنارٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے شعبہ نشرواشاعت کے سیکریٹری ہیں۔
