وسیم بریلوی کی شاعری عہد کی روشنی ہے، جو ہر دور میں رہنمائی کرتی رہے گی

mushaira

اکھلیش یادو و ڈاکٹر عمار رضوی کی موجودگی میں وسیم بریلوی کی کتاب کی رونمائی

وسیم بریلوی کی شاعری عہد کی روشنی ہے، جو ہر دور میں رہنمائی کرتی رہے گی

اکھلیش یادو و ڈاکٹر عمار رضوی کی موجودگی میں وسیم بریلوی کی کتاب کی رونمائی

لکھنٶ(ابوشحمہ انصاری)ادب جب فکر، تہذیب اور سماجی شعور سے ہم آہنگ ہو جائے تو وہ محض تخلیق نہیں رہتا بلکہ اپنے عہد کی آواز بن جاتا ہے۔ اسی احساس کے ساتھ اسلامک کلچرل سینٹر، لودھی روڈ، نئی دہلی میں ممتاز اور بے مثال شاعر وسیم بریلوی کی شاعری اور شخصیت پر فاروق ارگلی و حسیب سوز کی مرتب کردہ کتاب ’’جہاں رہے گا وہیں روشنی لٹائے گا‘‘ کی رسمِ اجرا اور اس موقع پر منعقدہ مشاعرہ و کوی سمیلن ایک یادگار اور ہمہ جہت ادبی تقریب کے طور پر سامنے آیا۔
اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے بطور مہمانِ خصوصی کتاب کے اردو اور ہندی دونوں نسخوں کی رسمِ اجرا انجام دی۔ اس موقع پر انہوں نے وسیم بریلوی کی شاعری کو ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کا آئینہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وسیم بریلوی کا کلام محبت، امن اور انسان دوستی کا پیغام دیتا ہے، جو سماج کو جوڑنے کا کام کرتا ہے اور نئی نسل کو فکری رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
تقریب میں اترپردیش کے سابق کارگزار وزیر اعلیٰ اور آل انڈیا مائنارٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے قومی صدر ڈاکٹر عمار رضوی نے بطور مہمانِ اعزازی شرکت کی۔ اپنے تفصیلی خطاب میں انہوں نے کہا کہ پروفیسر وسیم بریلوی محض ایک بڑے شاعر نہیں بلکہ ایسی ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں جن کے نام سے ہی وقار، سنجیدگی اور تہذیبی ہم آہنگی کا تصور وابستہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسیم بریلوی کے پروگرام ہوں یا ان کی شاعری، ہر جگہ فکری بلندی، اخلاقی شعور اور انسانی قدروں کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔
ڈاکٹر رضوی نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ اس پروگرام میں مختلف سیاسی جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں کی شرکت اس بات کی دلیل ہے کہ وسیم بریلوی کی شخصیت اور شاعری سیاست سے بالاتر ہو کر سب کو جوڑتی ہے، چاہے وہ سماج وادی پارٹی کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو ہوں، کانگریس کے سینئر رہنما سلمان خورشید ہوں یا دیگر قومی سطح کی شخصیات۔
تقریب میں سابق مرکزی وزیر اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل سلمان خورشید نے وسیم بریلوی کی شاعری کو گنگا-جمنی تہذیب کی مضبوط علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا کلام ہندوستانی سماج کی روح سے ہم آہنگ ہے۔ اسی طرح سابق مرکزی وزیر اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ وسیم بریلوی کی شاعری جمہوری اقدار، انسانی وقار اور سماجی انصاف کے جذبے سے لبریز ہے۔
اس موقع پر سابق چیئرمین مرکزی اقلیتی کمیشن ڈاکٹر طاہر محمود، سینئر وکلاء محمد اشرف اور خلیل الرحمٰن نے بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے وسیم بریلوی کی ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کی شخصیت کو عصرِ حاضر کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا۔
مشاعرہ و کوی سمیلن میں ملک کے نامور شعراء نے اپنا کلام پیش کیا، جسے سامعین نے بھرپور داد دی۔ محفل میں سماجی ہم آہنگی، انسان دوستی، مذہبی رواداری اور تہذیبی اقدار کی خوبصورت جھلک دیکھنے کو ملی۔
ڈاکٹر عمار رضوی نے اس کامیاب اور یادگار ادبی پروگرام کے انعقاد پر ڈبلیو بی ایس فاؤنڈیشن، نیرج جین اور معین شاداب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے پروگرام معاشرے میں مثبت فکر، ثقافتی شعور اور باہمی احترام کو فروغ دیتے ہیں۔
تقریب میں ملک و بیرونِ ملک سے آئے ہوئے شاعروں، ادیبوں، سماجی و سیاسی شخصیات کے ساتھ ساتھ ہر طبقے اور ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد موجود رہی، جس سے یہ پروگرام حقیقی معنوں میں قومی یکجہتی اور مشترکہ تہذیب کا خوبصورت مظہر بن گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *