احمد وصی ایک تعزیتی نوٹ

whatsapp image 2026 01 14 at 1.29.46 pm

وہ کرے بات تو ہر لفظ سے خوشبو آئے
ایسی بولی وہی بولے جسے اُردو آئے
( احمد وصی)

whatsapp image 2026 01 03 at 12.32.39 pm

موت و حیات کا اختیار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے یہ ایک اٹل حقیقت ہے جس پر ایمان رکھنے کے باوجود جب کوئی قریبی اور مخلص انسان اچانک اس دنیا سے رخصت ہو جائے تو دل پر گہرا صدمہ پڑتا ہے اور شعور اس حقیقت کو فوراً قبول نہیں کر پاتا ابھی کل ہی کی بات ہے کہ شاعرِ محترم احمد وصی نے فون کر کے نہایت مَحبّت اور خلوص کے ساتھ (رفیق جعفر کی نظمیہ شاعری) میرے مضمون پر لکھے گئے اپنے تاثرات کے ذریعے میری حوصلہ افزائی کی تھی اور کہا تھا اسلم چشتی بہت اچھّا لکھ رہے ہو میری دعائیں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہیں – وہ صرف ایک صاحبِ فکر شاعر ہی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ قاری نغمہ نگار اور ادب شناس شخصیت بھی تھے اس سے قبل بھی وہ میرے مضامین باقاعدگی سے پڑھتے اور نہایت دیانت اور خلوص کے ساتھ فون کر کے ان پر اپنی رائے کا اظہار کیا کرتے تھے جو کسی بھی لکھنے والے کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہوتا ہے آج یہ بات ناقابلِ یقین ہے کہ وہی ٹیلیفونک گفتگو ہماری آخری بات چیت ثابت ہوگی باتوں باتوں میں جب مَیں نے ان سے یہ ذکر کیا کہ میری زیرِ طباعت دوسری کتاب ” ممبئی کے اَدَبی ستارے” میں آپ کی شاعری پر لکھا ہُوا میرا مضمون شامل ہے تو وہ اس خبر سے بے حد خوش ہوئے ان کی آواز میں مسرّت لہجے میں اپنائیت اور گفتگو میں خلوص نمایاں تھا اسی گفتگو کے دوران انہوں نے اپنے دیرینہ دوست رفیق جعفر کا ذکر بھی نہایت مَحبّت اور احترام کے ساتھ کیا جو ان کی وفادار طبیعت اور انسان دوستی کا واضح ثبوت ہے احمد وصی (مرحوم ) کی شناخت صرف شاعری تک محدود نہ تھی بلکہ وہ نغمہ نگاری کے میدان میں بھی ایک معتبر نام تھے اور وودھ بھارتی ( ممبئی ) کے اناؤنسر کی حیثیت سے ان کی آواز نے طویل عرصے تک سامعین کو متاثر کیا احمد وصی کی نشریاتی خدمات اور ادبی کاوشیں کئی دہائیوں پر محیط رہیں جو ان کی ہمہ جہت شخصیت کو ظاہر کرتی ہیں تقریباً 82 برس کی عمر میں ان کا انتقال 13 جنوری 2026. ء بروز منگل ممبئی میں ہوا اور اس طرح ایک طویل بامقصد اور تخلیقی زندگی اپنے اختتام کو پہنچی ان کا آبائی وطن سیتاپور (اترپردیش) تھا جس کی تہذیبی اور اَدَبی روایت ان کی فکر زبان اور مزاج میں نمایاں طور پر جھلکتی تھی احمد وصی کا پورا نام سیّد احمد وصی رضوی تھا مگر اَدَبی دُنیا میں وہ اپنے معروف نام احمد وصی سے پہچانے جاتے تھے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہم نے ایک ایسے مُخلص ادیب اور شفیق بزرگ دوست کو کھو دیا ہے جو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اپنے اخلاق وَقَار اور علمی سنجیدگی کے باعث بھی ممتاز مقام رکھتے تھے ان کی تحریریں فکری گہرائی سادگی اور احساس کی نمائندہ تھیں اور ان کا اَدَبی رویہ نئے لکھنے والوں کے لیے ہمیشہ حوصلہ افزاء رہا ادبی اور نشریاتی حلقوں میں ان کی موجودگی ایک متوازن اور مثبت فضاء قائم رکھتی تھی جس کی کمی اب شدّت سے محسوس کی جائے گی ان کی وفات نہ صرف ان کے اہلِ خانہ بلکہ اُردو اَدَب اور نشریاتی دنیا سے وابستہ ہر سنجیدہ قاری اور قلم کار کے لیے ایک بڑا اور ناقابلِ تلافی نقصان ہے اللہ تعالیٰ احمد وصی (مرحوم) کو اپنی وسیع رحمت میں جگہ عطا فرمائے ان کی مغفرت فرمائے ان کے درجات بلند کرے اور تمام پسماندگان و متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین .

سوگوار : اسلم چشتی پونے

2 thoughts on “احمد وصی ایک تعزیتی نوٹ

  1. اردو زبان کا ایک نا قابل تلافی نقصان۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے مغفرت فرمائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *