مظفر نگر: 17 اپریل (تنویرِ ادب نیوز)
بھارتیہ جنتا پارٹی کے فائر برانڈ لیڈر سنگیت سوم جمعہ کی دوپہر مظفر نگر کے شیو چوک پہنچے، جہاں انہوں نے بھگوان پرشورام جینتی کے موقع پر منعقدہ تقریب میں شرکت کی۔ اس دوران انہوں نے بھگوان آشوتوش کے درشن کیے اور آشیرواد لیا۔
پروگرام کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سنگیت سوم نے مغربی بنگال کی سیاست پر تیکھا حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے بیانات سے انہیں کوئی سیاسی فائدہ نہیں ملنے والا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب سے مرکز میں بی جے پی حکومت آئی ہے، ملک یا اتر پردیش سے کوئی بھی مسلمان ہجرت (پلاین) نہیں کر رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے دراندازی کے مسئلے پر کہا کہ ملک کے خلاف کام کرنے والوں اور غیر قانونی طور پر داخل ہونے والوں کو اب برداشت نہیں کیا جائے گا۔
وزیر اعظم نریندر مودی پر کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے تبصرے پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پورے ملک کے ہوتے ہیں، نہ کہ کسی ایک شخص یا جماعت کے۔ اس لیے ان کے خلاف غیر مہذب زبان کا استعمال ملک کی توہین ہے۔ انہوں نے راہل گاندھی کو مریادہ (حد) میں رہ کر بیان دینے کی نصیحت کی۔
مہاراشٹر میں نابالغ بچیوں کے استحصال کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سنگیت سوم نے کہا کہ یہ انتہائی سنگین معاملہ ہے اور قصورواروں کو کسی بھی صورت میں بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
مزید برآں، انہوں نے کہا کہ آج عظیم ہستیوں (مہا پروشوں) کے نام پر نسلی اور ذاتی سیاست کی جا رہی ہے جو کہ غلط ہے۔ بھگوان پرشورام جیسی شخصیات کسی ایک ذات کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ہیں۔ پروگرام کے دوران انہوں نے سماج وادی پارٹی اور اکھلیش یادو کو بھی نشانہ بنایا۔
