فاروق سید کے تمام کاموں کو منظر عام پر لانے کی ضرورت ہے: پروفیسر صغیر افراہیم
فاروق سید بلا شبہ ادب اطفال کے مردِ مجا ہد تھے:اختر کاظمی
فاروق سید نے 57/ سال کی عمر میں 100/ سال کا کام کیا:قاسم امام

میرٹھ/تنویر ادب نیوز
اردو کی بے لوث خد مت کرنے والے مہاراشٹر کے خطہ میں موجود تھے اور ہیں۔ہم کو شش کریں گے کہ”سیما“ رسالے میں فاروق سید نمبر شائع کریں۔ بڑا خواب فاروق سید ہی دیکھ سکتا ہے۔ہم فاروق اور سید دو نوں کو جوڑدیں تو فاروق سید کے کار نامے سامنے آ تے ہیں۔ فاروق سید کے تمام کاموں کو منظر عام پر لانے کی ضرورت ہے اور ان کے چھوڑے ہو ئے تمام کاموں کو آگے بڑھا نا ان کو سچا خراج ہوگا۔یہ الفاظ تھے سابق صدر شعبہئ اردو،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسرصغیر افراہیم کے جو شعبہئ اردو اور ایو ساکے زیر اہتمام منعقد ”گل بوٹے کے مدیر فاروق سید کی یاد میں جلسہ“ موضوع پر اپنی صدارتی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازسعید احمد نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔پروگرام کی سرپرستی معروف ناقد و افسانہ نگار اور صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی اور صدارت کے فرائض معروف ادیب وناقدپروفیسر صغیر افراہیم نے انجام دیے۔ مہمانان کے بطورڈاکٹر نگار عظیم،فرید احمد خان،امتیاز گورکھپوری، محسن ساحل، وسیم شیخ، محمد سراج عظیم،اختر کاظمی، قاسم امام، حاجی انصار، ذولفقار علی بخاری نے شر کت فرمائی۔نظامت کے فرائض شعبہئ اردو کے ریسرچ اسکالر عرفان عارف]جموں [ نے انجام دیے
صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ”گل بوٹے“ کے مدیر فاروق سید آج ہمارے درمیان نہیں رہے۔ اس لیے صرف ہم ہی نہیں بلکہ ادبی دنیا میں غم کی لہر پھیلی ہوئی ہے۔ ادب کی خد مت کرنے کا جذبہ آپ کے اندر بھرا ہوا تھا۔ بچوں کے ادب کو فروغ دینے کے لیے آپ کی خد مات کو فرا موش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ادب کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ آپنے نیوز چینل سے سیاست کا بھی کام کیا۔
ڈاکٹر نگار عظیم نے کہا کہ کسی کے گزر جانے کے بعد ایسی بے زبانی ہو جاتی ہے کہ کچھ کہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ فاروق سید کئی کاموں میں مہارت رکھتے تھے۔ بچوں کی تربیت وہ ایسا کرنا چاہتے تھے کہ جس کو بھلا نا آسان نہیں۔ ان کے کارناموں کے بارے میں سب جانتے ہیں۔ وہ کبھی رکنے والے نہیں تھے۔میں مشکل سے سا ت آ ٹھ برس سے ان کو جانتی تھی مگر ایسا لگتا ہے برسہا برس سے میں ان کو جانتی ہوں۔ ہم انسان کے مرنے کے بعد اس کی تعریف کرتے ہیں یہ صحیح نہیں ہے۔ایسی شخصیتوں کی ان کی زندگی میں بھی تعریف کی جا نی چاہئے۔
فرید احمد خاں نے کہا کہ ایک ایسا شخص جس نے سینکڑوں جلسوں کی نظا مت کی تھی۔ ان کے پاس خوبصورت الفاظ کا ذخیرہ تھا مگر افسوس! آخر میں وہ اتنے پریشان تھے کہ تکلیف کی وجہ سے اپنے بیٹے کا نام بھی نہیں لے پا رہے تھے۔ ان کا جانا ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ فرزند ادب فاروق سید کے نام سے ایک ایوارڈ کمیٹی کی تشکیل ہونی چاہئے۔ آپ بہت سی صلاحیتوں کے مالک تھے۔
امتیاز گو رکھپوری نے کہا کہ آپ ہمیشہ بچوں کے رسالے کے لیے فکر مند رہا کرتے تھے اور بچوں کا رسالہ”گل بوٹے“ جس انداز میں نکالنا شروع کیا اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس جیسا رسالہ نکالنا کوئی آ سان کام نہیں۔ وہ میرے چھوٹے بھائی کی طرح تھے، ان کا چلے جانا ہمارے لیے بڑا نقصان ہے۔
محسن ساحل نے کہا کہ فاروق بھائی ایک دہائی سے جدو جہد کررہے تھے اور اردو کے لیے جتنا آپ نے کیا کوئی نہیں کرسکتا۔ ان کا جانا ہمارے لیے بڑا نقصان ہے۔ ا ن کے سبھی کا موں میں اخلاق، محبت اور ادبی ما حول نظر آ تا تھا۔
وسیم شیخ نے کہا کہ فاروق سید صاحب سے میری دوستی پانچ چھ سالوں سے تھی۔ ہم فاروق سید کے نام پر ایک ایوارڈ دینے کے لیے مہاراشٹر سرکار سے درخواست کررہے ہیں۔ وہ ادیب ہو نے کے ساتھ ساتھ ایک سماجی خد مت گزار بھی تھے۔ ان کا رویہ میرے ساتھ بڑا مخلصانہ تھا اور ممبئی میں وہ میرے لیے ایک بڑا سہارا تھے۔
محمد سراج عظیم نے کہا کہ میرے پاس فاروق سید کے لیے کہنے کو زبان نہیں ہے۔ ان سے میرا رشتہ2011ء سے تھا۔ ان کی دیوانگی، جنون جو بچوں کے لیے تھا وہ الگ ہی طرح کا تھا۔ اس بے حس دنیا میں،میں نے ان کو تل تل مرتے دیکھا، بچوں کے لیے میں نے ان کا درد دیکھا۔ وہ چاہتے تھے کہ وہ ادیب یا شاعر جو بچوں کے لیے لکھتے ہیں ان کو بھی پروفیسرز جیسا درجہ ملنا چاہئے۔ 2015ء میں بچوں کے ادب پر ایک بڑا سیمینار منعقد کیا تھا جس میں سو ادیبوں کو بلایا گیا تھا۔ وہ اپنی تعریف کروانا پسند نہیں کرتے تھے۔ میں ان کی عظمت کو سلام کرتا ہوں۔
اختر کاظمی نے کہا کہ19/ مئی مغرب کی نماز سے کچھ قبل فاروق سید اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ باری تعالیٰ نے انہیں غضب کا حوصلہ دیا تھا۔ اچھے برے حالات سے وہ کبھی مایوس نہیں ہوئے۔ فاروق سید بلا شبہ ادب اطفال کے مردِ مجا ہد تھے۔
قاسم امام نے کہا کہ فاروق سید سے میرا تعلق30سال سے تھا۔ہم آپ سے بڑے قریبی مراسم رکھتے تھے۔ فاروق سید کے اندر چیلنج کو برداشت کرنے کا جو حوصلہ تھا وہ بڑا عجیب تھا۔ آپ نے شہر میں جو زندگی گزاری اس میں بہت سے عجیب واقعات سے گزرے۔ فاروق سید نے جو تکالیف اٹھائیں ان کے بارے میں ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔جو شخص بولنے میں مہارت رکھتا ہو اور بیما ری کی وجہ سے نہ بولے تو اس پر کیا گزرتی ہوئی۔”گل بوٹے“ فاروق سید کا دل تھا۔اس لیے وہ گل بوٹے کے لیے ایک تڑپ رکھتے تھے۔فاروق سید نے 57/ سال کی عمر میں 100/ سال کا کام کیا۔
حاجی انصار نے کہا کہ فاروق سید کے گزر جانے کے بعد بہت سی نشست کا انعقاد ہو رہا ہے اور ان کے کاموں کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ کئی شخصیات کو اپنے اندر سموئے ہوئے تھے۔انہوں نے گل بوٹے کے لیے جو کام کیے انہیں بھلایا نہیں جاسکتا۔ ان کے لیے صحیح خراج یہی ہو گا جو کام ان کے ادھورے رہ گئے ہیں ان کو مکمل کیا جائے۔
ذولفقار علی بخاری ]پاکستان[نے کہا کہ فاروق سید کے ساتھ جو میرا تعلق بنا وہ رسالے کی وجہ سے بنا۔ ایک اچھا رسالہ شائع کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ آپ تعلیم کے حوالے سے بچوں کی مدد بھی کرتے تھے۔ ان کے حوالے سے خاص نمبر شائع ہونا چاہئے۔
پروگرام سے ڈاکٹر آصف علی، ڈاکٹر شاداب علیم، ڈاکٹر الکا وششٹھ، سیدہ مریم الٰہی، فرحت اختر، عظمیٰ سحر،محمد شمشاد آن لائن و آف لائن جڑے رہے۔
