مظفر نگر (مصطفےٰ کمال پاشا) ضلع کے تاریخی قصبہ ککرولی میں انجمن شعر و ادب کے زیر اہتمام کاشنہء پاشا پر “یاد سعید انجم” سے منسوب ایک شاندار مشاعرے کا انعقاد کیا گیا ، جس کی صدارت استاد الشعراء جناب ڈاکٹر تنویر گوہر مدیر اعلیٰ ہفت روزہ “تنویر ادب” مظفر نگر نے کی ،جبکہ پردھان شیدا حسن ، حاجی محمد فرقان ،ساجد عزیز جانسٹھی، ارشاد نور صابری اور وقار عالم نے شمع روشن کی رسم کو مشترکہ طور پر انجام دیا ۔

نظامت کے فرائض جناب مولانا ندیم اختر قاسمی نے بہت خوبصورتی کے ساتھ انجام دیے ۔
پروگرام کا آغاز جناب قاری فیروز انور کی نعت پاک سے ہوا ۔ مشاعرے میں پیش کیے گئے کچھ منتخب اشعار با ذوق قارئین کی نذر ہیں ۔

اے باد صبا جب ہو ترا جانا مدینے
اک ہند میں بھی کہنا ہے بیمار مدینہ
(فیروز انور)
گر یہی حال زمانے میں تعصب کا رہا
آگے نسلوں میں محبت نہیں ملنے والی
(تنویر گوہر)
غم انجم مجھے پاشا ہمیشہ اب رلائے گا
وہ سچا دوست میرا مجھ کو ہر دم یاد آئے گا
(مصطفےٰ کمال پاشا ککرولی)
کوئی یہ چاہتا ہے دسترس میں کل سمندر ہو
کوئی ایک بوند کی خاطر سمندر چھوڑ دیتا ہے
(تحسین ثمر چرتھاولی)
خود کو بتا رہے ہیں وہ خطرے میں ہے عجب
سارا نظام خود ہی چلانے کے باوجود
(ساجد ملک عزیز جانسٹھی)
سامنے آ گئے جب وہ بے ساختہ
درد دل کا مرے ہونٹوں پر آ گیا
(ماسٹر ہاشم چرتھاولی)
سدا بن کے رہتے ہیں آنکھوں کی ٹھنڈک
جو کرنا بڑوں کا ادب جانتے ہیں
(شاداب سحر)
غربت ہے پھر بھی دیتا ہوں سائل کو کچھ نہ کچھ
اک یہ سبب ہے گھر میں جو برکت ابھی بھی ہے
(شاہد ارمان)
وفاداری مرے گھر سے چلی ہے
مجھے کیوں آزمایا جا رہا ہے
(امید اسد)
ان کے علاوہ ارشاد نور صابری، عبد المطلب حیدر ، دانش ککرولوی اور ڈاکٹر محمد یعقوب نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔

پروگرام کو کامیاب کرنے میں حافظ ابوبکر ، حافظ محمد انس پاشا، محمد حارث ،گلشیر مستری ،شرافت علی ،عمر فاروق ،اورنگزیب وغیرہ نے اہم کردار ادا کیا ۔

آخر میں مشاعرہ کنوینر جناب مصطفےٰ کمال پاشا ککرولوی نے تمام مہمانوں اور سامعین کا شکریہ ادا کیا ۔
