طاہر سعود کرت پوری
پرانے زخم پر جگنو صفت آنسو بہاتا ہوں
میں سوکھے پھول پر بیٹھی ہوئی تتلی اُڑاتا ہوں
تری خوشبو سے سارا گھر بھرا رہتا ہے آٹھوں پہر
کہ تیری یاد کا لوبان میں اتنا جلاتا ہوں
مرا بچپن مرے نزدیک آ کر بیٹھ جاتا ہے
میں جب ماں باپ کے پیروں میں جا کر بیٹھ جاتا ہوں
کہیں خوشیوں کو لگ جائے نظر، اس خوف سے اکثر
میں پیشانی پہ اک تل کی طرح اُلجھن سجاتا ہوں
حقیقت کی طرف اک روز دنیا لوٹ آئے گی
اسی امید پر اب تک بھی اصلی گھی بناتا ہوں
وہ میری احتیاطوں کو تکبر نام دیتے ہیں
میں اپنے آپ کا آئینہ گرنے سے بچاتا ہوں
ابھی کچھ مائیں ہیں جو صبح کو قرآن پڑھتی ہیں
اگر کچھ دور کا سوچوں تو طاہرؔ سہم جاتا ہوں
