استاد الشعراء کی وفات سے ادبی حلقوں میں سوگ کی لہر، نمازِ جنازہ کے بعد قبرستان کھالہ پار میں سپردِ خاک
مظفرنگر، 30 اگست (تنویر ادب نیوز)
مظفرنگر کے معروف بزرگ شاعر، ادیب اور استاد الشعراء حضرت عثمان عادلؔ صاحب طویل علالت کے بعد اتوار 30 اگست 2026 کو مظفرنگر میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر تقریباً 91 برس تھی۔ ان کے انتقال کی خبر ملتے ہی مظفرنگر اور اطراف کے ادبی، سماجی اور شعری حلقوں میں رنج و الم کی لہر دوڑ گئی۔ مرحوم کی وفات کو اہلِ ادب نے اردو شعر و سخن کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے ان کی ادبی و شعری خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
حضرت عثمان عادلؔ صاحب کی نمازِ جنازہ 30 اگست کو بعد نمازِ عشاء باغ والی مسجد میں ادا کی گئی، جس میں بڑی تعداد میں اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، احباب، شعراء، ادباء اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ نمازِ جنازہ کے بعد انہیں قبرستان کھالہ پار میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
کئی نسلوں کے شعراء کے استاد

حضرت عثمان عادلؔ صاحب نہ صرف خود ایک صاحبِ طرز شاعر تھے بلکہ شعر و سخن کی باریکیوں، زبان و بیان اور فنی نزاکتوں پر گہری نظر رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ مظفرنگر اور اطراف کے متعدد شعراء ان سے مشورۂ سخن کیا کرتے تھے اور انہیں اپنا رہنما اور استاد تسلیم کرتے تھے۔
مشہور شاعر اور ہفت روزہ ’’تنویرِ ادب‘‘ کے مدیر ڈاکٹر تنویر گوہر اور معروف شاعر احمد مظفرنگری بھی حضرت عثمان عادلؔ صاحب کے شاگردوں میں شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بھی متعدد شعراء کرام ان کی علمی و ادبی رہنمائی سے مستفید ہوتے رہے۔ وہ شعراء کے کلام کی اصلاح کے ساتھ ساتھ انہیں شاعری کے فنی اصولوں اور زبان و بیان کی نزاکتوں سے روشناس کراتے تھے۔
چرتھاول میں پیدائش، میرٹھ میں تعلیم و آغازِ شاعری
حضرت عثمان عادلؔ صاحب ضلع مظفرنگر کے تاریخی قصبہ چرتھاول میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی میں ان کے والدین ہجرت کرکے میرٹھ جا بسے، جہاں ان کی ابتدائی زندگی اور تعلیم و تربیت کا اہم حصہ گزرا۔ انہوں نے میرٹھ کے فیضِ عام انٹر کالج سے تقریباً 1960 کے آس پاس انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔
سرزمینِ میرٹھ ہی میں ان کے شعری ذوق نے باقاعدہ صورت اختیار کی اور انہوں نے شعر گوئی کا آغاز کیا۔ شاعری کے ابتدائی دور میں ان کا تخلص ’’دل‘‘ تھا، تاہم بعد میں بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر حضرت حفیظ میرٹھیؔ کے مشورے پر انہوں نے اپنا تخلص تبدیل کرکے ’’عادل‘‘ اختیار کر لیا۔ حفیظ میرٹھیؔ ہی حضرت عثمان عادلؔ کے شاعری کے استاد بھی تھے۔ یوں ان کی شعری تربیت ایک ایسے استاد کے زیرِ سایہ ہوئی جو خود اردو شاعری میں ایک ممتاز مقام رکھتے تھے۔
میرٹھ سے مظفرنگر آمد
تقریباً چار دہائیاں قبل حضرت عثمان عادلؔ صاحب نے میرٹھ سے ہجرت کرکے مظفرنگر کو اپنا مستقل مسکن بنایا۔ انہوں نے مظفرنگر میں نوجل کا کارخانہ قائم کیا اور محلہ کھالہ پار، گہرا باغ کے سامنے اپنا مکان تعمیر کرکے مستقل سکونت اختیار کرلی۔
مظفرنگر میں قیام کے بعد انہوں نے یہاں کی ادبی و شعری سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا اور شہر کے مختلف ادبی حلقوں سے ان کے گہرے روابط قائم ہوئے۔ ان کی شائستہ طبیعت، علم و ادب سے وابستگی، خوش اخلاقی اور شعراء کی رہنمائی کے جذبے نے انہیں ادبی حلقوں میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔
مظفرنگر کے معروف شاعر ڈاکٹر صداقت دیوبندی کا شمار بھی حضرت عثمان عادلؔ صاحب کے قریبی رفقاء میں ہوتا ہے۔ دونوں کے درمیان ادبی و شعری تعلق کے ساتھ ساتھ دیرینہ دوستانہ مراسم بھی قائم رہے۔ مظفرنگر کے ادبی حلقوں میں حضرت عثمان عادلؔ کی محفلیں شعر و سخن کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتی تھیں، جہاں شعراء اپنے کلام کی اصلاح اور فنی رہنمائی کے لیے ان سے رجوع کیا کرتے تھے۔
اہلِ خانہ اور شاگردوں کا سوگ
حضرت عثمان عادلؔ صاحب اپنے پیچھے چھ بیٹوں اور بیٹیوں، پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں اور دیگر اہلِ خانہ پر مشتمل ایک بھرے پُرے خاندان کو سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔ ان کے انتقال سے جہاں اہلِ خانہ ایک شفیق بزرگ اور سرپرست سے محروم ہوگئے، وہیں ادبی دنیا نے ایک تجربہ کار شاعر، صاحبِ ذوق سخن شناس اور استاد الشعراء کو کھو دیا۔
حضرت عثمان عادلؔ صاحب کی زندگی کا ایک بڑا حصہ شعر و ادب کی خدمت، شعراء کی رہنمائی اور ادبی ذوق کی آبیاری میں گزرا۔ ان کی وفات کے بعد ان کے شاگردوں، احباب اور متعلقین کی جانب سے تعزیت کا سلسلہ جاری ہے اور ادبی حلقوں میں ان کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔
حضرت عثمان عادل کے چند مشہور اشعار:
اب سے پہلے مرا یہ حال نہ تھا
غم کا مقروض بال بال نہ تھا
دنیا جس کا جواب دیتی رہی
میری آنکھوں میں وہ سوال نہ تھا
ساتھ رہکر بھی اجنبی ہی رہا
ہم سفر تھا وہ ہم خیال نہ تھا
موم بتی سے عبارت ہے ہماری زندگی
جو ہمیشہ جلتی گھلتی اور گھٹتی ہی رہی
چھاءوں آنگن میں بہت تھی لیکن اک آکاش بیل
پیڑ پر آہستہ آہستہ لپٹتی ہی رہی
میں ہوں عادل میز پر رکھی ہوئی ایسی کتاب
بے پڑھے دنیا ورق جس کے پلٹتی ہی رہی
برگد کا پیڑ آج بھی یوں تو ہے گاءوں میں
لیکن ترے بغیر جھلستا ہوں چھاءوں میں
رات کو کہہ دوں رات نہیں ہے
میرے بس کی بات نہیں ہے
ہفت روزہ ’’تنویرِ ادب‘‘ مظفرنگر حضرت عثمان عادلؔ صاحب کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتا ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور تمام پسماندگان، اہلِ خانہ، شاگردوں اور متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
