غزل
ڈاکٹر طارق قمر کے نئے شعری مجموعے ” دھوپ چھاؤں کی سرگوشیاں ” سے فریبِ منصب و دستار سے نکل آیا ،پھر ایک راستہ انکار سے نکل آیا میں مطمئن تھا چلو آج آئینہ ٹوٹا ،مگر یہ عکس تو دیوار سے نکل آیا تماشا دیکھئے اب بے بسی کا دریا کی ،اِدھر میں ڈوبا اور…
ڈاکٹر طارق قمر کے نئے شعری مجموعے ” دھوپ چھاؤں کی سرگوشیاں ” سے فریبِ منصب و دستار سے نکل آیا ،پھر ایک راستہ انکار سے نکل آیا میں مطمئن تھا چلو آج آئینہ ٹوٹا ،مگر یہ عکس تو دیوار سے نکل آیا تماشا دیکھئے اب بے بسی کا دریا کی ،اِدھر میں ڈوبا اور…
آفتاب عالم ؔ شاہ نوریکروشی بلگام کرناٹک آتے جاتے درد سنانا پڑتا ہےدل میں غم کا دیپ جلانا پڑتا ہےجن سے دل کے رشتے گہرے ہوتے ہیںاُن کو ہر دم خود ہی منانا پڑتا ہےجینا ہے جو چین سے ہم کو دنیا میںدشمن کو بھی دوست بنانا پڑتا ہےاہلِ ثروت عیش میں جب پڑ جاتے…
ضیاء الدین ضیاء خیرآبادی سیتاپور سر سے نہیں اتارا ہے ہم نے کفن ابھیخطرے میں دیکھتے ہیں چمن کا چمن ابھی شاید ابھی ہے چاہتی خونِ جگر کچھ اورنرغے میں ہے لٹیروں کے عرض ختن ابھی زعمِ یزیدِ وقت بھی ٹوٹے گا دیکھنازندہ حسینیوں میں ہے وہ بانکپن ابھی طالب رضا کا اس کی ہوں…
عبدالحق سحر مظفر نگری حصار _ظرف سے باہر نہ رہیوٹھکانہ ایک ہو دردر نہ رہیونکلنا ہے گھٹن سے تو، کبھی تمچھپے احساس کے اندر نہ رہیومصیبت سے بچاکر جان رکھنابلا سے یہ حسیں منظر نہ رہیوسفر پھر آسمانوں تک رہے گااڑانوں کے لئے بے پر نہ رہیوہے تم سے بھی بڑا کوئی یہاں پرکہ طاقت…