عبدالحق سحر مظفر نگری
حصار _ظرف سے باہر نہ رہیو
ٹھکانہ ایک ہو دردر نہ رہیو
نکلنا ہے گھٹن سے تو، کبھی تم
چھپے احساس کے اندر نہ رہیو
مصیبت سے بچاکر جان رکھنا
بلا سے یہ حسیں منظر نہ رہیو
سفر پھر آسمانوں تک رہے گا
اڑانوں کے لئے بے پر نہ رہیو
ہے تم سے بھی بڑا کوئی یہاں پر
کہ طاقت سے کبھی بڑھ کر نہ رہیو
تعاقب میں ہے دشمن بچ کے رہنا
جہاں رہیو وہاں اکثر نہ رہیو
کئی حیوان آکر بس گئے ہیں
بہت خطرہ ہے اب اس گھر نہ رہیو
سحر چالاک فطرت ہے یہ دنیا
شرافت کا حسیں پیکر نہ رہیو

Bahut khoob
عجب ردیف کے ساتھ عمدہ غزل ۔