ذکی طارق بارہ بنکوی
ایڈیٹر ہفت روزہ “صدائے بسمل” بارہ بنکی
سعادتگنج، بارہ بنکی، اترپردیش، انڈیا
عیش و آرام سے بھر لینے کو آنگن اپنا
رب سے کیا مانگ لوں ماں پھر سے وہ بچپن اپنا
خاک نے اوڑھ لیا ہاتھ کی عظمت کا وقار
ذائقہ لائے ہیں پھر چاک کے برتن اپنا
جو روایت سے تعلق ہے وہ ٹوٹے گا نہیں
ہم بدل سکتے نہیں پیاس، کبھی فن اپنا
فکروں اندیشوں سے آزاد طرب میں ڈوبا
چھوڑ آئے کہاں ہم لوگ لڑکپن اپنا
مرگ اور زیست کا ہے دل پہ ہی جب دار و مدار
مارتا ہے تو انا کے لئے کیوں من اپنا
جس کی آواز مرے کانوں میں رس گھولتی تھی
تو گنوا آیا کہاں ہاتھوں کا کنگن اپنا
اب مرا جسم مری ذات کہاں باقی بچی
کر دیا نام ترے جب یہ سرو تن اپنا

Bahut khoob
بہت خوب