غزل

whatsapp image 2026 06 10 at 11.52.15 am

ڈاکٹر طارق قمر کے نئے شعری مجموعے ” دھوپ چھاؤں کی سرگوشیاں ” سے

فریبِ منصب و دستار سے نکل آیا ،
پھر ایک راستہ انکار سے نکل آیا

میں مطمئن تھا چلو آج آئینہ ٹوٹا ،
مگر یہ عکس تو دیوار سے نکل آیا

تماشا دیکھئے اب بے بسی کا دریا کی ،
اِدھر میں ڈوبا اور اُس پار سے نکل آیا

دُکاں لگائے ہوئے تھے کئ شیوخ و امام ،
نظر بچا کے میں بازار سے نکل آیا

عجیب سانحہ پازیب ٹوٹنے سے ہُوا ،
کہ ایک آنسو بھی جھنکار سے نکل آیا

بہت شدید تھی طارق پکار مٹّی کی ،
بدن لباسِ کلف دار سے نکل آیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *