کسی بھی آئینے میں دیر تک چہرہ نہیں رہتا

whatsapp image 2026 05 30 at 4.21.45 pm

✍️ڈاکٹر طاہر قمر میراں پوری

whatsapp image 2026 05 30 at 3.37.00 pm

یہ دنیا فانی ہے ہر کوئی اپنا سفر مکمل کرنے کے بعد خدا کے حضور حاضری دینے پر مجبور ہے ، یہ ایک کڑوا سچ ہے ۔
بے شمار طاقتور بادشاہ ، ماہر تعلیم ، دانشور ،علماء ، ادباء، شعراء ،مفکر ،مصنف وغیرہ دنیا میں آئے، لیکن ایک وقت انہیں بھی موت کا ذائقہ چکھنا پڑا۔

ڈاکٹر بشیر بدر بھی دنیا سے رخصت ہوئے ۔ایک نہ ایک دن جانا تھا انھیں کیوں کہ یہ دستور قدرت ہے ۔ ان کے جانے سے ادبی دنیا کی چکا چوند ماند پڑی ہے کیوں کہ رفتہ رفتہ اردو و ادبی دنیا خسارے کی طرف بڑھ رہی ہے ۔

اج کے اس دور میں نووارد نام نہاد شعراء اگر انہیں صرف گلے باز کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا نے ادبی دنیا پر اپنا شکنجہ کسا ہوا ہے ۔ نہ اردو زبان سے واقف نہ ادبی فکر کا شعور ۔ اور شاعری کے قواعد سے ان کا دور کا واسطہ بھی نہیں

ایسے گلے باز کسی استاد شاعر سے کلام خرید کر اردو مشاعروں میں ڈھیروں داد پاکر اپنے کو شاعر اعظم کہلانے کے حقدار بنے چلے آ رہے ہیں ۔
یہ اردو زبان و ادب کا المیہ نہیں تو کیا ہے ۔
استاد شعراء کی مجبوری ہے جو انھیں اپنا کلام بہت ہی سستی رقم پر فروخت کر دیتے ہیں اور وہی گلے باز اس کلام سے لاکھوں روپے کما کر اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف ہیں ۔
استاد شعراء کو چونکہ کوئی اب ڈائس دینا نہیں چاہتا اسی لیے اپنی معاشی مجبوری کو دیکھتے ہوئے وہ ایسا قدم اٹھانے پر مجبور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نئے شاعر نہ فن کی باریکیوں سے واقف ہیں اور نہ ہی شاعری کرنا وہ جانتے ہیں۔

میں نے ڈاکٹر بشیر بدر مرحوم کے تعلق سے اپنی گفتگو کا اغاز کیا تھا ان کا جانا یقینی طور پر ادبی دنیا کا وہ عظیم خسارہ ہے جسے بآسانی پر نہیں کیا جا سکے گا۔

سب سے دکھ بھری بات یہ بھی ہے کہ ان کے جنازے میں گنتی کے چند نفوس ہی شامل ہو سکے۔
بھوپال کی سرزمین ادبی سرزمین مانی جاتی ہے وہاں پر بے شمار شعراء ادیب اور فنکار موجود ہیں۔لیکن اپنی شاعری کے ذریعے سے پوری دنیا میں ہندوستان کا نام روشن کرنے والے ڈاکٹر بشیر بدر کو ان تمام فنکاروں شعراء و ادباء نے ان کے آخری سفر پر نظر انداز کر دیا جو ان کی شاعری اور کلام کی روشنی میں اپنا ادبی سفر جاری رکھے ہوئے ہیں ۔
یہ المیہ ہے آج اردو شاعری و اردو زبان کا کہ جن فنکاروں نے اردو زبان و ادب کو جلا بخشی انھیں ہم نہ صرف ان کے آخری دنوں میں نظر انداز کر رہے ہیں بلکہ زندگی کے آخری سفر میں انھیں کاندھا دینا بھی مناسب نہیں سمجھتے ۔

اب ان کے جانے کے بعد بہت سے شعراء ان سے اپنی قربت کا رونا روتے رہینگے ۔لیکن اب پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں ۔

ہو سکتا ہے ڈاکٹر بشیر بدر بیماری کے ایام میں لوگوں سے کٹ کر رہ گئے ہوں لیکن ان کے آخری سفر میں تو کم سے کم وہاں کے فنکاروں کو شامل رہنا چاہئے تھا ۔ان کا یہ خشک عمل ادبی دنیا میں قابل مذمت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *