سہارنپور میں عزم شاکری کی آمد پر پروقار شعری نشست کا انعقاد

whatsapp image 2026 05 27 at 6.50.40 am (1)

میری تشنگی کا الم نہ کر تیرے میکدے کا بھرم چلے

سہارنپور( تنویر ادب نیوز)
گزشتہ شب سماجی تنظیم نیشنل انٹیگریشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے زیرِ اہتمام شیرازان واقع سوسائیٹی کے دفتر خواجہ ہاؤس پر مشہور شاعر عزم شاکری کی آمد پر ایک پروقار معیاری نشست کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت سوسائیٹی کے صدر اور صوفی استاد شاعرالحاج سید خواجہ سلطان انجم صاحب نے فرمائی نظامت کے فرائض نمائند شاعر خرم سلطان نے انجام دئے پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے سہارنپور کے نمائندہ شاعر بلال سہارنپوری نے کہا کہ عزم شاکری مشاعروں کے قلندرانہ مزاج کے چند شعراء میں سے ایک شاعر ہیں آج جب مشاعروں میں جدیدیت کے نام پر نہ جانے کیا کیا سنایا جا رہا ہے وہیں عزم شاکری نے غزل کی روایت اور پاکیزگی کو برقرار رکھا ہے عزم شاکری نے مشاعروں کے حوالے سے بھی اردو کی خدمت کی ہے ساتھ ہی آپ کے 5 مجموعے بھی منظرِ عام پر آکر شرفِ قبولیت حاصل کر چکے ہیں جو ان کے مستند ہو نے کی دلیل ہے اس موقع پر صدرِ محفل خواجہ سلطان انجم صاحب نے نیشنل انٹیگریشن ایند ویلفئیر سوسائٹی کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوسائٹی صرف ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک مشن ہے جسکا مقصد سب کو روٹی کپڑا اور مکان میسر ہو سب کو آزادی سے جینے کا حق ملے بچّوں کو معقول تعلیم ملے اور انسانیت محبت اور ایکتا کا ماحول ہر سمت بنا رہے ملّا کی آذان اور پنڈت کے بھجن سے فضائیں معطر رہیں آئیے ہم سب مل جل کر اس ملک کی ترقی میں تعاون پیش کریں انل یادو اور مجاہد سلطانی نے مہمانانِ کرام کی خدمت میں استقبالیہ پیش کیا
پروگرام کا آغاز مہمان شاعر عزم شاکری کی نعت پاک سے اور اختتام الحاج سید خواجہ سلطان انجم صاحب کے کلام و دعاء سے ہوا اس موقع پر شہر سہارنپور کے استاد شعراء اور خاصی تعداد میں معززین موجود رہے جن شعراء کے کلام کو زیادہ پسند کیا گیا انکا ایک شعر پیش ہے

َنہ ملے شراب تو ساقیہ تیرا فیضِ چشمِ کرم چلے
میری تشنگی کا الم نہ کر تیرے میکدے کا بھرم چلے
خواجہ سلطان انجم
زندگی میری مجھے قید کئے دیتی ہے
اس کو ڈر ہے میں کسی اور کا ہو سکتا ہوں
عزم شاکری
دفعتاً وہ تو پسِ پردہ نظر جا پہنچی
ورنہ قاتل کو جو کرنا تھا مسیحا کرتا
ہارون صابر فریدی

چھوٹے لوگوں سے الجھتے نہیں وہ لوگ کبھی
جن کی آنکھوں میں بڑے خواب ہوا کرتے ہیں
بلال سہارنپوری
میں راہِ عشق کی ان منزلوں میں ہوں کہ جہاں
ترا وصال تو کیا ہجر بھی مزہ دیگا
خرم سلطان

یہ سچ ہے وقت کی نظروں میں شرمندہ رکھے گی
یہ خوداری مگر برسوں مجھے زندہ نہ رکھے گی
فیّاض ندیم

ابھی تو پلکوں یہ شعلوں کا رقص دیکھا ہے

دھواں اٹھے گا ابھی دل سے تیری جاں سے نہیں
سکندر حیات

کسی کے نام سے میخانہ کر دیا منسوب
کسی کے حصے میں ٹوٹا ہوا بھی جام نہیں
فرحت مہدی

کسی کا ہجر جب ہوا بپا تو اشک آنکھ میں
یقین جانئے ہمیں چناب کی طرح لگا

عدیل تابش
ہم دل میں بسا لیں کیں عنایات کے تحفے
ان سے ملے زخموں کی نمائش نہ کریں گیں
طاہر امین

اس موقع پر چودھری ریحان،مجاہد سلطانی،انل یادو،ارشد سلطانی،ثاقب سلطانی،کاشف علی،سید صاد وغیرہ معززین موجود تھے پروگرام کے آخر میں وسیم سلطانی نے مہمانانِ کرام کا شکریہ ادا پروگرام کے بعد پر تکلف ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔

One thought on “سہارنپور میں عزم شاکری کی آمد پر پروقار شعری نشست کا انعقاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *