اردو ڈیولپمینٹ آرگنائزیشن کے زیر اہتمام ڈاکٹر بشیر بدر کی یاد میں “تعزیتی مجلس اور مشاعرہ” کا انعقاد

whatsapp image 2026 06 06 at 7.48.10 pm

بدر تھا جس کا تخلص وہ بشیر
آخرش سوئے گگن رخصت ہوا

مظفر نگر: اردو ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن، مظفرنگر کے زیرِ اہتمام گزشتہ شب “یادِ ڈاکٹر بشیر بدر” کے عنوان سے ایک تعزیتی مجلس اور شاندار مشاعرہ کا انعقاد معہدالبنات،مصطفیٰ کالونی،مظفرنگر میں کیا گیا۔ پروگرام کی صدارت استاد الشعرا ڈاکٹر صداقت دیوبندی نے فرمائی جبکہ نظامت کے فرائض کلیم تیاگی نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے

whatsapp image 2026 06 06 at 7.48.06 pm


تعزیتی اجلاس میں مقررین نے معروف شاعر، ادیب اور نقاد ڈاکٹر بشیر بدر کی ادبی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شاعری نے اردو ادب کو نئی جہتوں سے روشناس کرایا اور وہ اپنے منفرد اسلوب کے باعث عوام و خواص دونوں میں یکساں مقبول رہے

whatsapp image 2026 06 04 at 11.07.47 am


اس موقع پر مولانا جمشید نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر بشیر بدر کی زندگی صبر، استقامت اور جدوجہد کی روشن مثال تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی میں بے شمار مصائب اور مشکلات کا سامنا کیا لیکن شعر و ادب کے افق پر مسلسل اپنی منزل کی جانب بڑھتے رہے۔ زندگی کے آخری دور میں وہ یادداشت کی بیماری میں مبتلا ہوگئے اور ایک طویل عرصہ علالت کے باعث بستر پر رہے۔ بالآخر عیدالاضحیٰ کے مبارک دن اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائی۔ انہوں نے کہا کہ آج اردو دنیا ایک ایسے عظیم شاعر، ادیب اور نقاد سے محروم ہوگئی ہے جس کی کمی مدتوں محسوس کی جاتی رہے گی


تعزیتی اجلاس کے اختتام کے بعد مشاعرہ کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کی سعادت قاری محمد یامین نے حاصل کی۔ بعد ازاں معروف شاعر استاد عبدالحق سحر نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نعتِ پاک کا منظوم نذرانہ پیش کی

whatsapp image 2026 06 06 at 7.47.17 pm
whatsapp image 2026 06 06 at 7.47.17 pm (1)


مشاعرے میں شریک شعرائے کرام نے اپنا منتخب اور معیاری کلام پیش کیا جسے سامعین نے بھرپور داد و تحسین سے نوازا۔ مشاعرہ رات دیر گئے، تقریباً تین بجے تک کامیابی کے ساتھ جاری رہا اور شرکاء محفل ادب و شاعری سے خوب محظوظ ہوتے رہے

whatsapp image 2026 06 06 at 7.48.09 pm


پروگرام کے اختتام پر مرحوم ڈاکٹر بشیر بدر کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کا اہتمام کیا گیا، جس میں ان کی مغفرت، بلندیٔ درجات اور پسماندگان کے لیے صبرِجمیل کی دعا کی گئی۔

منتخب اشعار پیش خدمت ہیں:
وہ کیا گئے کہ چراغِ سخن ہوا مدھم
نہ ہونگے ہم بھی یہی ہوگا اور کیا ہوگا
ڈاکٹر صداقت دیوبندی

روح بھوکی تھی بہت، اس کو غذا اپنی ملی
جسم کے گھر سے نکل کر قبر کی مٹی ملی
عبدالحق سحر

عشق تم سے جنوں کی حد تک ہے
اور حد ہی کہاں جنوں کی ہے
بدر تھا جس کا تخلص وہ بشیر
آخرش سوئے گگن رخصت ہوا
ڈاکٹرتنویرگوہر

وہ یقینا ہےآس پاس کہیں
ورنہ دھڑکن بڑھی نہیں ہوتی
احمد مظفرنگری

میں بھی اوروں کی طرح ایک دن فنا ہو جاؤں گا
ڈھونڈتے رہ جاؤ گے سب، اس طرح کھو جاؤں گا
سلامت راہی

باغباں ہو تم حفاظت پتے پتے کی کرو
تم میں پھولوں کی طرفداری کہاں سے اگئی
ڈاکٹرطاہرقمرمیرا پوری

تیرا تو لہجہ ہی بدلا ہے ورنہ
دولت نے بہت سے لوگوں کا شجرہ تلک بدل ڈالا
جنید اختر کاندھلوی

دشمن ہے میری حوصلہ مندی سے پریشاں
سر پر جو کفن ہے مرے دستار نہیں ہے
عثمان عثمانی کیرانوی

اس کا خیال اسے رہا زندگی کے ساتھ
جیسے رہے کہار کسی پالکی کے ساتھ
ارشد ضیاء

اللہ ایسے شہر میں میرا مکاں نہ ہو
جس شہر کی فضا میں اردو زباں نہ ہو
الطاف مشعل

نام ہے اردو، زباں میں چاشنی پیوست ہے
اس کے لفظوں میں حقیقت میں لطافت ہے بہت
تحسین قمر اساروی

یہ جس کا جنازہ ہے یہ کون ہوا رخصت
ہے آہ ہر اک لب پر ہر آنکھ میں پانی ہے
ڈاکٹر تحسین ثمر

ہے پر خطر وطن کی فضا ان دنوں بہت
تنہا سفر پہ جانے کی کوشش نہ کیجئے
کلیم تیاگی

اس موقع پر بطور مہمان خصوصی مولانا اکرم ندوی اور ڈاکٹر روِش عالم رہے۔ معززین شہر میں حاجی آصف راہی، گوہر صدیقی، محمد اکرام قصار، شاہد عالم، محمد سمیر عالم، ڈاکٹر خرم، ساجد تیاگی، عشرت حسین تیاگی، محمد علی علوی، انجینئر نفیس رانا، ڈاکٹر محمد فیصل صدیقی، محمد اکرام، گلبہار ملک، ڈاکٹر شمیم ملک، ماسٹر رئیس الدین رانا، یوسف ملک، حافظ دین محمد، محمد ہاشم حیدری، امید اسعد چرتھاولی، ڈاکٹر منفعت علی تومر، ماسٹر محمد دانش، حافظ محمد معاذ، ماسٹر اسرار، محمد طارق فاروقی، مولانا جمشید قاسمی، ماسٹر نعیم احمد، ریاست علی، کے نام قابل ذکر ہے۔ مشاعرے کو کامیاب بنانے میں یو ڈی او کے اراکین کا خاص تعاون رہا جن میں ڈاکٹر شمیم الحسن، حاجی سلامت راہی، اسعد فاروقی، کلیم تیاگی، تحسین علی اساروی،شمیم قصّار، مولانا موسیٰ قاسمی، ڈاکٹر سلیم سلمانی، بدرالزماں خان، ڈاکٹر فرّخ حسن، ندیم ملک،قاری سلیم مہربان، قاری توحید عزیز، گلفام احمد، توحید تیاگی، ماسٹرخلیل احمد، ساجد خان، امتیاز علی وغیرہ کا نام شامل ہے۔ آخر میں حاجی آصف راہی نے مشاعرے کی کامیابی کے لیے مبارک باد دی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *