محمد شہزاد قاسمی
ڈائریکٹر تعمیر ملت وملت پبلک اسکول نگلہ بزرگ (نیاگاؤں) مظفرنگر یو پی
والدین اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں، پسینہ بہاتے ہیں، دولت جمع کرتے ہیں، اچھے اسکولوں میں داخلہ دلاتے ہیں، مہنگے کپڑے اور جدید سامان فراہم کرتے ہیں، لیکن افسوس کہ وہ سب سے قیمتی چیز یعنی “اپنا وقت” انہیں نہیں دے پاتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ساری محنت کے باوجود بچوں کی تربیت ادھوری رہ جاتی ہے اور والدین ایک دن یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی اولاد ان سے جسمانی طور پر قریب مگر فکری اور جذباتی طور پر بہت دور ہو چکی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بچوں کی صحیح تربیت صرف پیسے سے نہیں ہوتی بلکہ توجہ، محبت، نگرانی اور صحبت سے ہوتی ہے۔ ایک بچہ اپنے والدین کی گفتگو، اندازِ زندگی، اخلاق اور روزمرہ عادات سے زیادہ سیکھتا ہے۔ اگر گھر میں والدین ہی ہر وقت مصروف، تھکے ہوئے رہیں تو بچے بھی اسی ماحول کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ آج کتنے ہی والدین یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کے بچے ضدی، بے ادب یا تنہائی پسند ہو گئے ہیں، مگر وہ یہ نہیں سوچتے کہ آخر بچوں کے دلوں میں یہ خلا پیدا کیسے ہوا۔
افسوس ناک پہلو یہ ہےاکثر اوقات اپنے آرام اور سکون کے لیے خود ہی ان کے ہاتھوں میں موبائل تھما دیتے ہیں تاکہ وہ ہمیں ڈسٹرب نہ کریں۔ چند لمحوں کی خاموشی حاصل کرنے کے لیے ہم انجانے میں ان کے بچپن، تخلیقی صلاحیتوں اور ذہنی سکون کو اسکرین کے حوالے کر دیتے ہیں۔ ابتدا میں یہ سہولت محسوس ہوتی ہے، مگر آہستہ آہستہ یہی موبائل بچوں کی عادت، پھر ضرورت اور آخرکار ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات بارہا اس بات کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم بچوں کی ذہنی نشوونما، سماجی رویوں اور تعلیمی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
ہمیں یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ہم انسان ہیں، مشین نہیں۔ اگر ہم اپنے آپ کو حد سے زیادہ تھکا دیں گے، دن رات صرف کمائی میں لگے رہیں گے اور جسم و ذہن کو آرام نہیں دیں گے تو اس کا اثر نہ صرف ہماری صحت پر پڑے گا بلکہ ہمارے گھریلو تعلقات بھی متاثر ہوں گے۔ اعتدال ہی کامیاب زندگی کا اصول ہے۔ انسان اتنا ہی کام کرے جتنا اس کا جسم برداشت کر سکے، تاکہ وہ اپنے اہلِ خانہ، خصوصاً بچوں کے لیے وقت نکال سکے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی مصروف زندگی میں سے روزانہ کچھ وقت صرف اپنے بچوں کے لیے مخصوص کریں۔ ان سے بات کریں، ان کے مسائل سنیں، ان کے ساتھ کھیلیں، انہیں کہانیاں سنائیں، دینی اور اخلاقی تعلیم دیں، اور سب سے بڑھ کر انہیں یہ احساس دلائیں کہ وہ ہمارے لیے اہم ہیں۔ کیونکہ وہ بچپن جو والدین کی توجہ کے بغیر گزر جاتا ہے، بعد میں اکثر پچھتاوے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
یاد رکھیے! دولت زندگی کو آسان بنا سکتی ہے، مگر اچھی تربیت کے بغیر وہی دولت اولاد کے لیے وبال بھی بن سکتی ہے۔ اس لیے اپنے بچوں کے لیے صرف کمائیے نہیں، بلکہ ان کے ساتھ جینے کا ہنر بھی سیکھیے۔
