ضیاء الدین ضیاء خیرآبادی سیتاپور
سر سے نہیں اتارا ہے ہم نے کفن ابھی
خطرے میں دیکھتے ہیں چمن کا چمن ابھی
شاید ابھی ہے چاہتی خونِ جگر کچھ اور
نرغے میں ہے لٹیروں کے عرض ختن ابھی
زعمِ یزیدِ وقت بھی ٹوٹے گا دیکھنا
زندہ حسینیوں میں ہے وہ بانکپن ابھی
طالب رضا کا اس کی ہوں معذور مت سمجھ
چاہوں تو لا کے رکھ دوں زمیں پر گگن ابھی
ممکن ہے چھٹ ہی جائیں اندھیرے جتن تو کر
روشن ہے اک امید کی دل میں کرن ابھی
پیش آئی جب ضرورتِ خوں سر جھکا دیا
بھولا نہیں ہوں عظمتِ خاکِ وطن ابھی
کیسی ہے یہ بہارِ چمن جس پہ ناز تھا
وہ شاخِ گل نظر میں ہے بے پیرہن ابھی
مانگے تو کوئی پیار سے دل کیا ہے دےدوں جاں
سمجھا کہاں ہے تو نے مجھے جانِ من ابھی
اجڑے ہوئے چمن کو زمانہ ہوا ضیاء
دل سے گیا نہ اپنے وہ دردِ کہن ابھی
