بہرائچ: بزمِ پیامِ ادب بہرائچ کے زیرِ اہتمام گزشتہ شب مظفرنگر کے شاعر و ادیب کلیم تیاگی کے اعزاز میں ’’ایک شام کلیم تیاگی کے نام‘‘ کے عنوان سے ایک پُروقار اور یادگار شعری نشست کا انعقاد کیا گیا۔ محفل کی صدارت استادالشعرا حضرتِ مجیب صدیقی نے کی، جب کہ نظامت کے فرائض بہرائچ کے معروف شاعر نظر بہرائچی نے انجام دیے۔ محفل کے کنوینر منظور احمد رہے۔

شہر کے نورالدین چک، درگاہ شریف میں واقع نواز بہرائچی کے دولت کدے پر منعقدہ اس شاندار شعری نشست میں شہر اور گرد و نواح سے تعلق رکھنے والے متعدد کہنہ مشق اور معتبر شعرا، ادبا اور اہلِ ذوق نے شرکت کی۔ محفل میں شعر و سخن کے ساتھ ساتھ اردو زبان و ادب اور اس سے وابستہ شخصیات کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

اس موقع پر کلیم تیاگی نے بزمِ پیامِ ادب بہرائچ اور تمام شرکائے محفل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میرے اعزاز میں اس شعری نشست کا انعقاد میرے لیے باعثِ مسرت و افتخار ہے۔ میں بزمِ ادب کا بے حد ممنون ہوں اور آپ تمام حضرات کی محبت، خلوص اور ادب نوازی کا تہِ دل سے شکر گزار ہوں۔

صدارتی خطاب میں مجیب صدیقی نے کلیم تیاگی کی ادبی خدمات اور اردو زبان و ادب سے ان کی وابستگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ کلیم تیاگی نے اردو کے فروغ اور ترویج کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی ادبی سرگرمیاں نئی نسل کو زبان و ادب سے جوڑنے اور اردو کے دائرۂ کار کو وسیع کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
محفل کا آغاز منظور بہرائچی کی نعتِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد شہر و بیرونِ شہر سے تشریف لائے شعرا نے اپنے منتخب کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ شعری نشست کا سلسلہ رات دس بجے تک جاری رہا۔ آخر میں عبدالحق ایڈووکیٹ نے منقبت پیش کرکے محفل کو اختتام تک پہنچایا۔
محفل میں پیش کیے گئے منتخب اشعار نذرِ قارئین ہیں:
مجیب صدیقی:
دل کی خواہش تھی بہت پھر بھی لیا ضبط سے کام
اس نے دیکھا بھی نہیں، ہم نے پکارا بھی نہیں
بے حسی خطروں میں بھی قوم کی ایسی ہے مجیبؔ
کوئی حرکت بھی نہیں ہےکوئی جذبہ بھی نہیں
محمد یعقوب عزم:
جہاں ہم زباں کوئی ٹھہرا نہ اپنا
وہاں بھی ہم اپنی زباں چھوڑ آئے
ہمیں دیکھو تاریخ کے آئینے میں
جہاں پہنچے اپنے نشاں چھوڑ آئے
جمال اظہر:
وہ ایک جام نشہ جس کا تا حیات رہے
ہزار جام سے وہ ایک جام بہتر ہے
شاداں رحمانی:
یہ کیسی محبت ہے، یہ کیسی شناسائی
ان کو بھی نہ راس آئی، مجھ کو بھی نہ راس آئی
منظور بہرائچی:
نہیں اس دور میں کوئی کسی کا
مزہ آئے تو کیسے زندگی کا
نظر بہرائچی:
مجھ میں اپنا عکس دیکھے گا زمانہ ایک دن
میں زمانے کے لیے اک آئینہ ہو جاؤں گا
نواز بہرائچی:
کیسے بازار قیامت میں خریدیں گے بہشت
سکہ حسن عمل جبکہ صفر رکھتے ہیں
کلیم تیاگی:
پھیلاؤ نفرتیں یہاں جی بھر کے حاکمو!
نغمے جہاں میں امن کے ہم گائے جائیں گے
جھوٹوں کا بول بالا ہے اس دور میں کلیمؔ
ہم حق پرست ہو کے بھی جھٹلائے جائیں گے
شرکاء میں ڈاکٹر محمد سفیان، فرحان خان، عبدالحق ایڈووکیٹ، سراج الدین نیوٹن،
پردیپ بہرائچی, مہتاب عالم, سرفرازخان, ڈاکٹر حنان, کامل نواز خان وغیرہ موجود رہے…
