محبوب خیرآبادی
سیتا پور (یو پی)
کیوں عشق میں سامانِ الم چھوڑ دیا ہے
جو باعثِ تسکیں تھا وہ غم چھوڑ دیا ہے
اس واسطے برہم ہیں یہاں ہم سے کئی لوگ
اک داعیِ باطل کا قلم چھوڑ دیا ہے
تو چشمِ محبت میں ہر اک دل کا ہے درماں
کس نے تجھے بادیدۂ نم چھوڑ دیا ہے
کیوں خم ہے نظر صورت شمشیر جو کل تھی
کیا تم نے وہ اندازِ کرم چھوڑ دیا ہے
تھیں جس کے سبب گلشنِ ہستی میں بہاریں
لوگوں نے وہی ربطِ بہم چھوڑ دیا ہے
کیا دورِ تعصب ہے کہ اصحابِ کرم نے
چاہت میں تقاضائے اہم چھوڑ دیا ہے
جس دن سے رقیبوں کو گزرتے ہوئے دیکھا
رکھنا ترے کوچے میں قدم چھوڑ دیا ہے
ہم حق کے سپاہی ہیں ستمگاروں سے کہہ دو
وارفتگیِ شوق میں رم چھوڑ دیا ہے
کھائے ہیں فریب اتنے محبت میں کہ محبوب
دنیا سے وفاؤں کا بھرم چھوڑ دیا ہے
