تو گیا ہے تو اماوس کی سمجھ آئی ہے
ورنہ ہر شب، شبِ مہتاب ہوا کرتی تھی
ریاض (منصور قاسمی )
معیاری ادب کی ترجمان تنظیم ‘عالمی اردو مِحور ریاض’ (عام) کے زیر اہتمام تنظیم کی سرپرست کمیٹی کے رکن انجنئیر سید غفران احمد کی میزبانی میں ایک پروقار محفلِ شعر کا انعقاد 15 مئی 2026 بروز جمعہ کی شام میزبان ڈیلائٹ ریسٹورنٹ ریاض کے وسیع ہال میں منعقد ہوا۔ جس کی صدارت معروف علمی و سماجی شخصیت محمد ضیغم خان نے کی۔ مہمانِ خصوصی کی مسند پر ایک معروف شخصیت عبد الاحد صدیقی براجمان رہے جب کہ مہمان اعزازی کی حیثیت سے خوش ذوق ادب نواز ڈاکٹر انور خورشید نے محفل کو رونق بخشی۔ نظامت کے فرائض خوش فکر شاعر سراج عالم زخمی نے بحسن و خوبی انجام دیے۔ مشاعرے کے میزبان غفران احمد اور ‘عام’ کے ذمہ داران خصوصاً صدر و معروف شاعر افتخار راغبؔ نے بڑے ہی خلوص سے شہرِ ریاض سے منتخب باذوق شخصیات کو سامعین کے طور پر مدعو کر کے مشاعرے کو یادگار بنا دیا۔ لذیذ عشائیے کے بعد منصور قاسمی کی تلاوتِ کمال اللہ سے محفلِ شعر کا باضابطہ آغاز ہوا۔ صدرِ محفل، مہمانِ خصوصی، مہمان اعزازی و میزبانِ محترم کو ‘عام’ کے ذمہ داران افتخار راغب، منصور قاسمی، عبدالرحمان راشد اور حسان عارفی کے ہاتھوں گل دستہ پیش کیے گئے۔ افتخار راغبؔ نے استقبالیہ کلمات میں اسٹیج پر تشریف فرما معزز شخصیات کے علاوہ مختلف تنظیموں کے نمائندوں اور محفل میں شریک ہونے والے شعرائے کرام و سامعین کا پرخلوص استقبال کیا اور ‘عام’ کے اغراض و مقاصد سے روشناس کرانے کے ساتھ آئندہ ہونے والے پروگراموں کا مختصر خاکہ بھی پیش کیا۔ محفلِ شعر میں ریاض میں مقیم جن شعرائے کرام نے اپنے منتخب کلام سے سامعین کو محظوظ فرمائے ان میں افتخار راغبؔ، ظفر محمود ظفر، سلیم کاوش، پیر اسد کمال، حسان عارفی، طاہر بلال، سراج عالم زخمی، اول سنگرام پوری، منصور قاسمی، سعید اختر اعظمی اور عبد الرحمان راشد عمری کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔ شعراء کلام سناتے رہے اور سامعین ہر اچھے شعر پر دل کھول داد و تحسین سے نوازتے رہے۔
مہمان اعزازی ڈاکٹر خورشید انور نے کہا : اردو صرف زبان نہیں بلکہ ایک تہذیب کا نام ہے ۔ اردو ہماری وراثت ہے اس لیے اس کی حفاظت بھی ہماری ذمہ داری ہے ۔ مہمان خصوصی عبدالاحد صدیقی نے حفیظ جونپوری کے کلام سے اپنی بات کا آغاز کرنے کے بعد کہا : بہت عرصے کے بعد ایک اچھا مشاعرہ سننے کو ملا، شعراء اور سامعین دونوں ہی قابل تعریف ہیں۔ صدرِ محفل محمد ضیغم خان نے کہا : آج کی یہ خوبصورت محفل صرف شاعری نہیں بلکہ احساسات و جذبات کی ترجمان ہے ۔ اس کامیاب محفل نے بتا دیا کہ اردو ایک شاندار زبان ہے اس نے دلوں کے فاصلے کو مٹانے میں ہمیشہ اہم کردار نبھایا ہے
جامعہ ملیہ اسلامیہ اولڈ بوائز ایسوسی ایشن ریاض کے سابق صدر اور اس محفل کے میزبان انجینئر سید غفران احمد نے شرکت فرمانے والے تمام شعراء و سامعین کا شکریہ ادا کرنے کے بعد کہا : ریاض کے شعراء نے بہترین کلام سنائے ۔ آئندہ ہم بڑے پیمانے پر انشا اللہ مشاعرے کا انعقاد کریں گے اور اردو زبان و ادب کو قائم و دائم رکھنے کے لیے اس سلسلے کو مزید آگے بڑھائیں گے ۔ امید ہے آپ سب ہمارے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلیں گے ۔
مہمانان کے تاثرات، صدارتی خطبہ ، کلمات تشکر اور گروپ فوٹو کے بعد مشاعرہ اختتام پذیر ہوا۔

مشاعرے میں پیش کیے گئے منتخب اشعار ملاحظہ فرمائیں!
تری خامشی سے کہاں ہے کوئی گلہ مجھے
مِرا خط ہی تجھ کو ملا نہیں مجھے علم ہے
افتخار راغبؔ
میری آغوش میں رہنے دو اسے ہوش نہیں
جب بھی وہ ہوش میں آۓ گا چلا جاۓ گا
ظفر محمود ظفر
تو گیا ہے تو اماوس کی سمجھ آئی ہے
ورنہ ہر شب، شبِ مہتاب ہوا کرتی تھی
سلیم کاوِش
اُس کو بھی مل نہ پائی کوئی نوکری یہاں
آخر کو وہ بھی ملک سے باہر چلا گیا
پیر اسد کمال
میں کتاب زیست کے ہر باب کا کردار تھا
جس کو پڑھتا تھا زمانہ، میں نہ تھا تو کون تھا
طاہر بلال
تو قاتلوں کا معاون ہے تو بھی قاتل ہے
گئی ہے خون کی چھینٹیں ترے بھی دامن تک
حسان عارفی
آپ تو بس فیصلہ کرتے ہیں سنتے ہی نہیں
کون آئے آپ کے دربار میں بے کار میں
سراج عالم زخمی
مر گئی روح لاش زندہ ہے
اک تعلق کے ٹوٹ جانے پر
اول سنگرامپوری
دفعتاً چونک کے اٹھتا تھا ہر اک آہٹ پر
شور اب کیوں نہیں کر پاتا ہے بیدار مجھے
منصور قاسمی
دل میں دیوار کا در آنا بھی ہوتا ہے غضب
گھر سمٹ جانے پہ انگنائی چلی جاتی ہے
سعید اختر اعظمی
وہ جو آئے ہیں نظر بام پہ میرے مولی
ماہِ نو کا مجھے امکان ہوا جاتا ہے
عبدالرحمان راشد
