غزل
عشبہ تعبیر عجب توبہ شکن ہیں حسن کی رعنائیاں توبہوبالِ جان ہیں میرے لیے تنہائیاں توبہ جمالِ زلف بھی دیکھو چمن زاروں پہ بھاری ہےبہاروں کے مقابل آ گئی پرچھائیاں توبہ تقدس عشق کی سادہ دلی کا ہو گیا رخصتمحبت رفتہ رفتہ ہو گئی ہے کائیاں توبہ وفورِ عشق میں یہ آسماں کی سیر کر…
