خراشیں (انشائیے و طنز و مزاح پر مبنی مضامین کا مجموعہ) مُصنّف تقدیس نقوی – – – – – – – – – سرسری جائزہ

whatsapp image 2026 01 03 at 12.32.39 pm

اسلم چشتی پونے (انڈیا)

خراشیں زندگی کے سفر میں ایسے نشانات ہوتی ہیں جو محض جسم تک محدود نہیں رہتیں بلکہ دل و دماغ پر بھی گہرے اثرات چھوڑ جاتی ہیں۔ یہ کبھی رشتوں کی نازکی سے جنم لیتی ہیں اور کبھی وقت کی سختیوں سے اور اگرچہ زخم وقت کے ساتھ بھر جاتے ہیں لیکن خراشیں اپنی یادوں اور تاثر کے ساتھ باقی رہتی ہیں۔ تقدیس نقوی نے خراش کو زندگی کی علامت کے طور پر بیان کیا ہےجو یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ دکھ اور تکلیف ہمیں توڑنے کے بجائے سنبھلنا اور نکھرنا بھی سکھاتے ہیں۔ خراشیں انسان کو صبر، برداشت اور ہمدردی کا سبق دیتی ہیں، اور یہی انہیں محض دکھ کا نشان نہیں بلکہ زندگی کے لازمی تجربے میں بدل دیتی ہیں۔

زیرِ نظر کتاب “خراشیں ” تقدیس نقوی کی ایک اہم ادبی کاوش ہے جو 2021. ء میں منظرِ عام پر آئی۔ یہ کتاب 206 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کی قیمت 500 روپے مقرر کی گئی ہے۔
اشاعت کا فریضہ تہذیب عالیہ پبلیکیشنز امروہہ نے انجام دیا ہے اور یہ بآسانی تہذیب عالیہ پبلیکیشنز محلّہ حقانی، امروہا ( یو – پی) توصیف منزل سر سیّد نگر علی گڑھ ( یو – پی) اور کمپیو ٹائپ میڈیا، آئی جے، ایس پیلس دہلی گیٹ بازار نئی دہلی سے دستیاب ہے۔ اس کتاب کی خصوصیت اس کا موضوعاتی تنوع ہے۔ اس میں شگفتہ انشائیے کے ساتھ ساتھ طنز و مزاح پر مبنی مضامین بھی شامل ہیں جو قاری کو فکری تازگی بخشتے ہیں۔ تقدیس نقوی کے بیک کور پیج پر اپنے لکھے ہوئے تعارف سے ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں –

whatsapp image 2026 01 03 at 12.32.39 pm

1970″ میں علی گڑھ یونیورسٹی میں داخل ہو کر اس کے نظام تعلیم کو خود کو سدھارنے کا کھلا چیلینج دے ڈالا اور ہم یہی کام کرتے رہے ایم – کام ہو گئے – علی گڑھ کے ادبی اور رومانی ماحول میں اور دوستوں کی ادب نوازی نے کچھ ایسے گل کھلائے کہ ہم کامرس کا سبق پڑھتے پڑھتے حالِ دل لکھنے لگے – وہی تحریریں نہ جانے کب افسانے بن گئیں اور ہم بیٹھے بٹھائے افسانہ نگار بننے کے خواب دیکھنے لگے “

( بیک کور پیج ،تعارف تقدیس نقوی)

اس اقتباس کو پڑھ کر محسوس ہُوا 1970.ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ محض تعلیم حاصل کرنے کا مرحلہ نہ تھا بلکہ خود کو سنوارنے اور آزمانے کا ایک نیا آغاز تھا۔ یہاں کے تعلیمی نظام نے جہاں علم کی راہیں دکھائیں وہیں ادبی و تہذیبی فضا نے دل کو ایک نئے ذوق سے آشنا کیا۔ کامرس کے سبق نے اگرچہ ذہن کو اعداد و شمار میں الجھائے رکھا لیکن علی گڑھ کے رومانی ماحول اور دوستوں کی سخن فہمی نے دل کو تحریر کی جانب مائل کیا۔ ابتداء میں جو سطریں حالِ دل سنانے کے لیے لکھی گئیں وہ رفتہ رفتہ ادب کے پیکر میں ڈھل کر افسانوں کی صورت اختیار کر گئیں۔ گویا علمِ تجارت کے حسابی فارمولے دل کے فارمولوں پر ہار گئے اور طالب علم ایک نئے سفر پر روانہ ہوا۔ یہ وہی مقام ہے جہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ ذوقِ ادب پروان چڑھتا ہے اور خواب حقیقت کا رنگ اختیار کر لیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ علی گڑھ کی فضاء نے محض نصاب کی تکمیل نہیں کی بلکہ ایک طالب علم کے اندر چھپے افسانہ نگار کو بیدار کر دیا۔ یہی علی گڑھ کی اصل عَظَمَت ہے کہ یہاں علم و ادب ایک دوسرے کے ہم سفر دکھائی دیتے ہیں۔

تقدیس نقوی نے ” دو لفظ ” کے تحت اپنے مضمون میں لکھا ہے اپنی پروفیشنل زندگی کی لمبی دوڑ کے بعد جب مَیں نے پلٹ کر دیکھا تو چالیس سال کا ادبی سفر سامنے تھا۔ قلم کی دوبارہ جستجو نے شوقِ افسانہ نگاری اور مذہبی تحریروں کو زندہ کیا اور اس اقتباس کے ذریعے اسی ادبی سفر کی عکاسی پیش کی جا رہی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں

" آخر کار پروفیشنل زندگی کی اس دوڑ کی فینش لائن پر پہنچتے ہی جب پلٹ کر دیکھا تو چالیس سال دور نکل آئے تھے - کیریئر بلڈنگ کے گرد و غبار میں اس ادبی سفر کی طویل راہ کے تمام سنگ میل دھندلا چکے تھے اور زندگی میں اب اک نئے موڑ پر لا کر کھڑا کر دیا تھا - اپنے سارے منتشر خیالات کو مجتمع کر کے ایک بار پھر قلم سے رابطہ جوڑنے کی کوشش کی - سب سے پہلے ترجیح اپنے جد بزرگوار کی عطا کی گئی مذہبی تصنیفات، تالیفات اور مضامین کی وراثت کو آگے بڑھایا - اس لیے سب سے پہلے مذہبی مضامین لکھنے کی سعادت حاصل کرتے ہوئے ابتداء کی - لیکن ساتھ ساتھ ہی ادبی تخلیقات بھی اپنی جاذبیت اور کشش سے آنکھوں کو خیرہ کرتی رہیں - شوقِ افسانہ نگاری نے ایک بار پھر خامہ فرسائی کی دعوت دی اور ان بجھتی چنگاریوں کو اک بار پھر ہواءِ شوق نے بھڑکایا تو اس وسیع میدان میں شہ سواری کی تجدید کی "

(ص 8، کتاب ہذا ،دو لفظ )

یہ اقتباس انسانی زندگی کے دو اہم پہلوؤں، پیشہ ورانہ مصروفیات اور ادبی و تخلیقی لگن، کے درمیان تعلق اور توازن کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ مُصنّف نے چالیس سال کی محنت اور کیریئر کی دوڑ کے بعد پلٹ کر دیکھا تو محسوس کیا کہ اَدَبی سفر کہیں پیچھے رہ گیا ہے- جو اس بات کی علامت ہے کہ انسان کے اندر کی اصل لگن اور شوق وقتی طور پر دب سکتا ہے مگر مکمّل طور پر ختم نہیں ہوتا۔ پیشہ ورانہ زندگی کی مصروفیات نے اَدَبی اور تخلیقی جذبات کے گرد دھندلا سا پردہ ڈال دیا تھا لیکن دل کے کسی گوشے میں تخلیق کی چنگاری ہمیشہ زندہ رہتی ہے اور جب موقع ملا تو مُصنّف نے دوبارہ قلم اٹھایا اور اپنی لگن کو تازگی بخشی۔ سب سے پہلے اس نے اپنے بزرگوں کی علمی اور مذہبی وراثت کو آگے بڑھانے کی ذمّہ داری کو قبول کیا اور مذہبی مضامین لکھنے کا آغاز تقدس نقوی کی شخصیت کے علمی اور روحانی پہلو کو واضح کرتا ہے۔ ساتھ ہی ادبی تخلیقات اور افسانہ نگاری کا شوق بھی دوبارہ جاگ اٹھا اور اس نے اپنے منتشر خیالات کو منظم الفاظ میں ڈھالا۔ استعاروں اور فصیح زبان کے استعمال نے تحریر کو دلکش اور اثر انگیز بنایا جبکہ ( کیریئر بلڈنگ کے گرد و غبار) اور (بجھتی چنگاریوں کو ہواءِ شوق نے بھڑکایا) جیسے جملے انسانی جذبے اور تخلیقی توانائی کی خوبصورت عکاسی کرتے ہیں۔ یہ متن واضح کرتا ہے کہ اصل شوق اور لگن وقتی طور پر پس منظر میں چلی جا سکتی ہے مگر وہ کبھی ختم نہیں ہوتی – اور اندر کی چنگاری وقت آنے پر پھر سے شعلہ بن جاتی ہے- انسان کو تخلیق کی طرف واپس کھینچتی ہے۔ تحریر میں ماضی، حال اور مستقبل کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے-اور مُصنّف کی تجرِباتی بصیرت اور فکری گہرائی قاری کو متاثر کرتی ہے۔ یہ اقتباس انسانی تخلیقیت، لگن اور جذبے کی پائیداری کو اجاگر کرتا ہے اور علمی و ادبی ورثے کو آگے بڑھانے کی اہمیت یاد دلاتا ہے – جبکہ زبان کی روانی اور جملوں کی فصاحت متن کو پُر اثر اور دلنشین بناتی ہے۔ مجموعی طور پر یہ تحریر قاری پر دیرپا اثر چھوڑتی ہے اور تخلیقی جذبے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے- یہ سبق بھی دیتی ہے کہ انسان کا شوق وقتی طور پر دب سکتا ہے مگر وہ کبھی ختم نہیں ہوتا اور وقت آنے پر پھر سے اپنی روشنی بکھیرتا ہے۔

” خراشیں – – – ایک تاثر” کے عنوان سے پروفیسر ڈاکٹر منظر عبّاس نقوی صاحب کے مضمون سے ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں –

" حقیقت یہ ہے کہ انشائیہ سب سے زیادہ لچکدار اور تصرف پذیر صنفِ نثر ہے - اُسلوب کے لحاظ سے بھی اور موضوع کے اعتبار سے بھی - اس قسم کی تحریروں میں تفکّر اور تفلسف کا رجحان اور طنز و تعریض کی چاشنی زیادہ ہوتی ہے - تقدیس نقوی صاحب نے حتی الامکان ذاتیات سے اپنا دامن بچائے رکھا ہے - اِس کو کیا کہا جائے اگر پاس پڑوس کے لوگ " انھیں گھور کر دیکھنے لگیں" - ان مضامین میں جہاں تک ہم نے محسوس کیا اُن کی توجہ عمومی سماجی مسائل پر مرکوز رہی ہے - اس طرح ایک ہوشمند قاری ادبی تلذز کے ساتھ ساتھ اس پیغام سے بھی مستفید ہوتا رہتا ہے جو طنز و تعریض کے پردوں میں پوشیدہ ہے "

(ص13،کتاب ہذا،پروفیسرڈاکٹرمنظرعبّاس نقوی)

انشائیہ نثر کی ایک ایسی صنف ہے جس میں سب سے زیادہ وسعت اور لچک پائی جاتی ہے اس میں لکھنے والے کو یہ سہولت ہوتی ہے کہ وہ مختلف موضوعات پر بات کر سکے اور اُسلوب کے بھی کئی رنگ اختیار کر سکے- اسی لیے انشائیہ میں ایک طرف فکر اور فلسفے کی گہرائی نظر آتی ہے تو دوسری طرف طنز اور مزاح کی دلکشی بھی دکھائی دیتی ہے- قاری جب کسی اچھے انشائیے کو پڑھتا ہے تو اسے صرف ہلکی پھلکی تفریح اور ذوق ہی نہیں ملتا بلکہ اس کے ذہن میں سوچنے اور غور کرنے کے نئے زاویے بھی پیدا ہوتے ہیں- یہی خصوصیت انشائیے کو ایک منفرد اور پرکشش صنف بناتی ہے- تقدیس نقوی نے اس صنف کی اصل روح کو سمجھتے ہوئے اسے اپنے انداز میں بڑی خوبی کے ساتھ برتا ہے- ان کی انشائیہ نگاری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے ذاتیات سے اجتناب کیا اور زیادہ تر توجہ عمومی سماجی مسائل پر رکھی اس سے ان کی تحریریں محدود نہیں رہیں بلکہ وسیع تر معنویت اختیار کر گئیں- ان کے انشائیوں میں طنز و تعریض محض دل لگی کے لیے نہیں بلکہ معاشرتی رویوں کو اجاگر کرنے اور قاری کو سوچنے پر آمادہ کرنے کے لیے برتا گیا ہے- ان کی تحریروں میں طنز کی کاٹ بھی ہے اور مزاح کی لطافت بھی مگر یہ سب کچھ ایک متوازن اور شائستہ انداز میں سامنے آتا ہے جس سے قاری نہ صرف محظوظ ہوتا ہے بلکہ سماج اور زندگی کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنے کی ترغیب بھی پاتا ہے- یہی وجہ ہے کہ ان کے انشائیے محض ادبی لذت تک محدود نہیں رہتے بلکہ فکری بالیدگی اور بصیرت کا سامان بھی فراہم کرتے ہیں اور یہ کہنا بجا ہے کہ تقدیس نقوی نے انشائیہ کو سنجیدگی اور دلکشی کے حسین امتزاج کے ساتھ ایک بامعنی سمت دی ہے۔

تقدیس نقوی کی یہ کتاب مختلف موضوعات پر مشتمل مضامین کا ایک خوبصورت مجموعہ ہے جو علمی اور فکری اعتبار سے نہایت اہم ہے۔ ہر مضمون اپنے انداز میں قاری کے ذہن کو جِلا بخشتا اور فکر کو نئے زاویے عطا کرتا ہے۔ ان مضامین کی ترتیب اور اسلوب مطالعہ کو مزید دلنشین بناتے ہیں۔ مضامین کی فہرست دراصل اس کتاب کی افادیت اور ہمہ جہتی کا آئینہ دار ہے۔ اب مَیں یہاں مضامین کی فہرست پیش کرنا چاہوں گا ملاحظہ فرمائیں –

” مرثیہء قلم ، امتحان کے جوتے، میر رائے بہادر، بے چارہ تاج محل، قبر کا انتخاب، دھندھواں کا وکاس، کوڑا جمال شاہی، سائبیریاں، کاؤنٹر، یہ نہ تھی ہماری قسمت، ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں مَیں، ہم سب بھوکے ہیں ، سرپرست، نام کا بنجارہ، دورِ حاضر کی سیاست میں مستعمل زبان جمہوریت کے لیے ایک بڑا خطرہ ، سوشل میڈیا کی خود ساختہ عدالتیں، اسٹیپنی ، اُردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے، جشنِ بھوک، زحمتِ سُخن، ہم سب ٹریفک میں ہیں اور خیریت سے ہیں، شکوہء جوتا ایسوسی ایشن، مرزا غالب کی تلاش میں، ترجمان، شیروانی ، ہم زباں کوئی نہ ہو ، کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور، جدید سودیشی ریل ، آن لائن کاہلی کیئر سروس، درد بیچارہ پریشاں ہے کہاں سے اٹھے، مشکلیں مجھ پہ پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں، آخری بات “

اب میں اس کتاب کے مضامین سے چند منتخب اقتباسات پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں- تاکہ اہلِ مطالعہ تقدیس نقوی کے اُسلوب کی دل آویزی، فن کی پختگی اور تحریر کے علمی و ادبی معیار کا درست اندازہ کر سکیں۔

 " بعض مخصوص حالات میں ایسا بھی ہُوا ہے کہ کسی جیالے سے اگر یہ متاعِ لوح و قلم چھینی بھی گئی ہے تو اس نے اپنی انگلیاں ہی خون میں ڈبو کر قلم کے کام کو رکنے نہیں دیا - کچھ قلمکاروں نے اپنی انگلیاں کٹ جانے پر بھی قلم ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور اک وقت وہ آیا کہ ان کی سانسیں تو رُک گئیں مگر قلم چلتا رہا اور وہ اس دنیا سے یہی کہتے چلے گئے " لکھے جب تک لکھے گئے نامے - چل دیئے ہاتھ میں قلم تھامے" 

( ص 18، کتاب ہذا ، مرثیہء قلم )

   " میر صاحب ایسے چمکارتے تھے جیسے کوئی قصاب کسی بکرے کو ذبح کرتے ہوئے اگلے ذبح ہونے والے بکرے کو چمکارتے ہوئے پانی پلاتا ہے اور دل ہی دل میں کہتا ہے بس بیٹا تھوڑی دیر اور انتظار کر لے اگلا نمبر تیرا ہی ہے  "

( ص 31، کتاب ہذا ، میر رائے بہادر )

    " ایک مشہور و معروف شاعر نے اپنی ایک مشہور نظم میں اورنگزیب ہی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے بالواسطہ تاج محل کو تو نہیں بلکہ اس کے اصل معمار شاہجہاں ہی کو نشانہ بنایا جس کو سن کر یقیناً شاہجہاں کے ساتھ ممتاز محل بھی پھوٹ پھوٹ کر روئی ہوگی - موصوف کا کہنا تھا کہ شاہجہاں نے تاج محل کی تعمیر کر کے اپنی دولت کا سہارا لے کر ان جیسے سارے غریبوں کی مَحبّت کا مزاق اُڑایا ہے "

( ص 38 ،کتاب ہذا ، بے چارہ تاج محل )

" محترم ان سائبیریاں کے چلتے ہوئے ہماری شاعری میں وزن خاک پیدا ہوگا - ٹھٹھرتی سردی میں مطلع کا پہلا مصرعہ ادا کرنے میں ہی اتنا وقت لگ گیا کہ ردیف تک پہنچتے پہنچتے پورا مصرعہ ٹھٹھر کے رہ گیا جس کے بعد دوسرے مصرعہ کا وزن تو گرنا ہی تھا - ایسے میں شاعر اپنا دوشالہ سنبھالے یا مصرعوں کا وزن؟ ان ستم گر سائبیریاوں نے تو ادب پر بھی حملہ کرنے سے گریز نہیں کیا - "

(ص 62، کتاب ہذا ، سائبیریاں )

 " شاید ہمارے جیسے لوگوں کے سامنے اپنے ضمیر کی آواز کو ابھی بھی دبانے کے لیے کچھ سوالات منہ کھولے کھڑے ہیں جن کا جواب تلاش کرنے کے سبب ہمیں اس کارواں میں شامل ہونے میں دیر ہو رہی ہے - کوئی ہے جو بتائے کہ سماج میں تیزی سے رستے ہوئے اس ناسور کا علاج کیا اربابِ حل و عقد کی مسلسل خاموشی اور جانبدارانہ مصلحتوں کے پردوں کے پیچھے چھپے رہنے سے ہو سکتا ہے؟ اگر ملک کے صاحبِ اقتدار حضرات ان مظالم کے خلاف ایک اپنا ہمدردانہ چند جملوں پر مشتمل بیان جاری کرنے میں اتنی دیر کر سکتے ہیں کہ جب تک پوری دنیا کے کونے کونے سے اس ظلم کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں تو کیا ہماری خاموشی کا کوئی جواز نہیں دیا جا سکتا "

( ص 80، کتاب ہذا ، ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں مَیں)

" اگر مشرق زدہ برہنگی اور عریانی کے دلدادہ اور ستر پوشی سے متنفر نوبل پرائز کمیٹی والے کبھی کسی تیار شدہ شیروانی کی خیاطی کا بھی اتنی ہی باریکی اور شوق سے مشاہدہ کرتے جتنے شوق سے وہ دیگر فنون کے کسی شاہکار کا مشاہدہ کرتے ہیں تو یقیناً وہ اس کی خیاطی پر" فن خیاطی شیروانی" کے زمرے میں اس کو نوبل پرائز سے ضرور سرفراز کرتے - جس کے لیے اس کی فن خیاطی کا اک یہی پہلو کافی ہے کہ مکمّل شیروانی میں گلے سے لے کر دامن تک کہیں بھی کسی خیاطی کا کوئی نشان ظاہر نہیں ہوتا اور پوری سلائی مخفی رکھی جاتی ہے - مجال ہے کہ پوری بساط شیروانی پر کہیں اک ٹانکا بھی سر نکالنے کی بے جا کوشش کر سکے جس کا سہرا انگشت خیاط کی دستکارانہ صلاحیتوں اور سوئی کی سبک رفتاری کے سر جاتا ہے "

( ص 164، کتاب ہذا ،شیروانی )

" یوں بھی ان مفلس مزدوروں کو ریلوے کا شکر گذار ہونا چاہئے کہ انھیں فری میں ملک کے ان حصّوں کی سیر کرا رہی ہے جہاں ان کا اپنی پوری زندگی میں پہچنا نا ممکن تھا - کھلے آسمان کے نیچے چلچلاتی دھوپ میں ننگے پاؤں میلوں چلنے سے تو اچھّا یہی ہے کہ اس سودیشی ریل کے ڈبّوں میں ہی ان کا کچھ اچھّا سفر کٹ جائے - بھئی اگر حکومت کے خرچہ پر یہ غریب نادار لوگ بھی کچھ دن سیر سپاٹا کر لیں گے تو کونسا قومی خزانہ میں سوراخ ہو جائے گا "

( ص 179، کتاب ہذا ،جدید سودیشی ریل )

تقدیس نقوی کی کتاب “خراشیں” ایک دلچسپ اور خوبصورت کتاب ہے جس میں مختلف موضوعات پر مضامین شامل ہیں۔ یہ مضامین روزمرہ کی زندگی کے تجرِبات ، چھوٹی بڑی پریشانیاں، خوشیاں اور حیرت انگیز حالات کو بیان کرتے ہیں۔ انشائیے سادہ زبان میں لکھے گئے ہیں جس کی وجہ سے ہر قاری آسانی سے ان سے جڑ سکتا ہے۔ کتاب میں طنز و مزاح کا انداز بھی نمایاں ہے جو قاری کو نہ صرف ہنساتا ہے بلکہ سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے۔ مُصنّف نے اپنے مشاہدات اور تجربات کو بڑے دلکش اور دلچسپ انداز میں پیش کیا ہے جس سے پڑھنے والا لطف اندوز ہوتا ہے۔ ہر مضمون میں زندگی کے چھوٹے بڑے حقائق کو بڑے سلیقے سے پیش کیا گیا ہے اور یہی چیز اس کتاب کو خاص بناتی ہے۔ قاری یہاں اپنی روزمرہ زندگی کے تجربات کا عکس بھی دیکھ سکتا ہے اور نئے زاویے سے سوچنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف معلوماتی اور دلچسپ ہے بلکہ قاری کے دل کو بھی چھو لیتی ہے۔ لکھنے کے اس انداز میں محنت اور مَحبّت صاف جھلکتی ہے اور امید ہے کہ مُصنّف تقدیس نقوی اسی لگن اور شوق کے ساتھ آگے بھی لکھتے رہیں گے اور اُردو اَدَب میں اپنی انمٹ پہچان بنائیں گے۔ “خراشیں” یقیناً قاری کے لیے خوشگوار مطالعے کا تجربہ ہے اور ہر مضمون قاری کے دل و دماغ پر اثر چھوڑتا ہے-یہ کتاب پڑھنے والے کو ہنسنے، سوچنے اور زندگی کے چھوٹے چھوٹے لمحوں کو محسوس کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *