منشی پریم چند پر نقاد تو بہت ہیں لیکن محققین بہت کم ہیں: ڈاکٹر پردیپ جین

whatsapp image 2026 01 28 at 7.22.35 pm

پریم چند بر صغیر کا ایک سنگ میل ہے جس کے بغیر فکشن کی تاریخ ادھو ری ہے:امیر مہدی

whatsapp image 2026 01 28 at 7.22.34 pm

پریم چند پردو روزہ بین الا قوامی سیمینار کا افتتا حی اجلاس منعقد

میرٹھ:28/ جنوری2026ء
منشی پریم چند پر نقاد تو بہت ہیں لیکن محققین بہت کم ہیں۔ پریم چند نے تین سو سے زائد افسا نے لکھے لیکن ان کے چند افسانوں پر ہی بات ہوتی ہے۔ ان پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے۔ کبھی انہیں برہمن مخا لف کہا گیا تو کبھی اسلام اور دلت مخالف بھی کہا گیا۔ یہ الفاظ تھے معروف ناقدمحقق ڈاکٹر پردیپ جین کے جوچودھری چر ن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ کے شعبہئ اردو کے پریم چند سیمینار ہال میں منعقد دوروزہ بین الاقوامی سیمینار بعنوان”پریم چند کا ادب: ماضی،حال اور مستقبل“کے افتتاحی اجلاس میں کلیدی خطبے کے دوران اپنی تقریرمیں ادا کررہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج پریم چند کے حوالے سے تحقیق کی اشد ضرورت ہے تبھی ہم صحیح معنوں میں پریم چند کو سمجھ پائیں گے۔ ابھی بھی ان کی بہت سی تخلیقات اس دور کے مختلف رسائل و جرائد میں محفوظ ہیں جنہیں منظر عام پر لانے کی ضرورت ہے۔
اس سے قبل پروگرام کا آ غاز محمد ندیم نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔بعد ازاں مہمانوں کا پھولوں کے ذریعے استقبال کیا گیا۔ پروگرام کی صدارت کے فرائض معروف ادیب و ناقد پروفیسر اسلم جمشید پوری نے انجام دیے۔ مہمان خصوصی کی بطور معروف ناقد شاعر امیر مہدی]انگلینڈ[ نے شر کت فر مائی۔ مہمانانِ ذی وقار کے بطور ڈاکٹر وصی اعظم انصاری]لکھنؤ[، ڈاکٹر نفیس عبد الحکیم]الہ آباد[ آفاق احمد خاں، شریک ہوئے۔ استقبالیہ کلمات ڈاکٹر شاداب علیم،نظامت ڈاکٹر آصف علی اور شکریے کی رسم آفاق احمد خاں نے انجام دی۔
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منشی پریم چندایسے فکشن نگار ہے جس کی اہمیت ہر دور میں یکساں رہے گی۔ کیونکہ ان کے ناول ہوں یا افسا نے تمام تخلیقا ت میں سماج کے مسائل، انسانی جذبات و خیالات اور عہد حاضر کے پیچیدہ مسائل کو آ سانی سے تلاش کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے پریم چند کے مشہور ناول”رنگ بھومی“ کے ایک کردار سورداس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کیا زبردست کردار ہے جو ہر دور میں مظلوم کو تقویت بخشتا ہے۔ جب تک سورداس جیسے کردار رہیں گے پریم چند کو کوئی نہیں بھلا سکتا۔
انگلینڈ سے تشریف لائے مہمان خصوصی امیر مہدی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو کو بہت سے لوگ مسلمانوں کی زبان کہتے ہیں جب کہ یہ مسلمانوں کی زبان نہیں ہے۔ فراق گورکھپوری، بیدی،کر شن چندر،دیا شنکر نسیم اور ہزاروں افراد ہیں جو اردو میں لکھتے رہے ہیں۔یہ صرف ایک ہندوستانی زبان ہے۔ آپ کا لکھا ہوا مقبرہ بھی ہو سکتا ہے اور کفن بھی۔ اس لیے جو کچھ لکھا جائے وہ صحیح اور ٹھیک ٹھیک اور ایما نداری سے لکھا جائے۔ پریم چند بر صغیر کا ایک سنگ میل ہے جس کے بغیر فکشن کی تاریخ ادھو ری ہے۔پریم چند نے ماضی کو بر تا اور حال کو محسوس کیا۔ ان سے پہلے شہزادوں اور پریوں کی خیالی دنیا آ باد تھی مگر پریم چند نے اردو فکشن کو حقیقی کردار دیے۔ پریم چند نے بھوک،پیاس، غریبی، ظلم و کرب کے ما حول کو صاف صاف پیش کیا۔ پریم چند پہلے فن کار ہیں جنہوں نے سماج کو شعور عطا کیا۔ انہوں نے زندگی کی ترجمانی کی ہے۔ پریم چند کے فن کا حال سے رشتہ اتنا ہی گہرا ہے جتنا ماضی سے ہے
   
شہر قاضی زین السالکین نے کہا کہ تحقیق کرتے وقت ہمیں بڑی احتیاط سے کام کرنا چاہیے۔ کیونکہ ہم بہت سی کتابوں سے اقتباسات  اتار دیتے ہیں اور کبھی کبھی ان اقتباسات کو اپنے لفظوں میں لکھ دیتے ہیں۔ لیکن جب تحقیق کے آخری مرحلے میں آتے ہیں تو ہماری یہ چوری اس انداز میں پکڑی جاتی ہے کہ تمام صفحات پیلے نظر آ تے ہیں۔ اس لیے تحقیق کرتے وقت ہمیں ایمانداری سے کام کرنا چاہئے۔
اپنی صدارتی خطبے میں پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ اچھی کہانی بھی قا ری کو بار بار پڑھنے کے لیے مجبور کرتی ہے۔ منشی پریم چند کی بہت سی کہا نیاں ایسی ہیں جن میں فنی چا بکدستی اور عمدہ اسلوب دکھائی دیتا ہے۔پریم چند کے فن پر گفتگو کرنا آج کے عہد میں اس لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ انہوں نے آج کے مسائل کو بہت پہلے محسوس کرتے ہوئے یعنی اپنے زمانے میں ہی ایسا ادب تخلیق کیا جس کو ہم کسی بھی قیمت پر نظر انداز نہیں کرسکتے۔
اس موقع پر مولا نا شاہ عالم گو رکھپوری، ڈاکٹر الکا وششٹھ،ڈاکٹر ارشاد سیانوی، شہناز پروین، فرحت اختر،عظمیٰ سحر، محمد عیسیٰ رانا، محمد زبیر، عمائدین شہر اور طلبہ و طالبات موجود رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *