شعبہئ اردو میں سی سی ایس یونیورسٹی میں ”رسالہ تہذیب الاخلاق کی عصری معنویت“موضوع پر آن لائن پرو گرام کا انعقاد

جوحال پر توجہ دیتا ہے اس کا مستقبل روشن ہوتاہے:پروفیسر مجید بے دار
تہذیب الاخلاق ہمارے تمام مسائل اور صورت حال سے ہمیں آ گاہ کرتا ہے:پروفیسر صغیر افراہیم
تہذیب الاخلاق نے اخلاق، تعلیم سائنس اور عوام کے مسائل کو پیش کیا:پروفیسر فاروق بخشی
تہذیب الاخلاق کی شکل میں ہما رے پاس وہ خزانہ ہے جس سے طلبا بڑا فائدہ اٹھا سکتے ہیں:پروفیسر ریشما پروین
شعبہئ اردو میں سی سی ایس یونیورسٹی میں ”رسالہ تہذیب الاخلاق کی عصری معنویت“موضوع پر آن لائن پرو گرام کا انعقاد
میرٹھ6/نومبر2025ء
جوحال پر توجہ دیتا ہے اس کا مستقبل روشن ہوتاہے۔ سر سید نے ایک رسالہ نہیں نکالا بلکہ انسان کے جینے کا طریقہ ایجاد کیا۔اردو میں سب سے پہلے تبصرہ نگاری کی شروعات تہذیب الا خلاق سے ہوئی۔ سر سید نے سب سے اہم کام اس رسالے کے ذریعہ یہ کیا کہ انہوں نے ایسے امکانات کی تلاش کی جو انسان اور انسانی زندگی کو سنوارتی ہے۔یہ الفاظ تھے معروف محقق و ناقدپروفیسر مجید بے دار کے جو آیو سا اور شعبہئ اردو کے زیر اہتمام منعقد ’رسالہ تہذیب الاخلاق کی عصری معنویت“ موضوع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے اپنی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ رسالہ1870ء میں جاری ہوا اور تین مرتبہ بند بھی ہوا۔ سر سید کے انشائیوں اور تہذیب الاخلاق سے فطری نسل کا آ غاز ہوتا ہے۔ سر سید کے تہذیب الا خلاق سے اردو صنف کو وقار ملا۔ سر سید سیاست سے دور تھے مگر انگریزوں کے قریب تھے اور انہوں نے مصلحتاً ان سے بہت سے کام بھی لیے۔ سر سید کے انشائیوں میں فطری انداز ملتا ہے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازسعید احمد سہارنپوری نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔پروگرام کی سرپرستی معروف ناقد و افسانہ نگار اور صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی اور صدارت کے فرائض معروف ادیب وناقدپروفیسر صغیر افراہیم نے انجام دیے۔ مہمانان خصوصی کے بطورمعروف ناقد پروفیسر مجید بے دار ]سابق صدر شعبہئ اردو جامعہ عثمانیہ یونیورسٹی، حیدر آ باد اور معروف شاعرپروفیسر فاروق بخشی]سابق صدر شعبہئ اردو، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدر آباد[نے شر کت فرمائی۔مقررین کے بطورآفاق احمد خاں اور لکھنؤ سے ایوسا کی صدر پروفیسر ریشما پروین موجود رہے۔ جب کہ مقالہ نگار کے بطور علما نصیب]ریسرچ اسکالر شعبہئ اردو، سی سی ایس یونیورسٹی اور عظمی مہدی، مظفر نگر نے شر کت کی۔ استقبالیہ اور تعارفی کلمات ڈاکٹرارشاد سیانوی اورنظامت کے فرائض شعبے کے ریسرچ اسکالر شاہِ زمن اور آسیہ میمونہ نے شکریے کی رسم انجام دی۔
اس موقع پر معروف ادیب و ناقد پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ”تہذیب الاخلاق“ رسالے نے اپنے مضامین کے ذریعے کچھ نیا اور بڑا کارنامہ انجام دینے کی دعوت دی۔ آج تک یہ رسالہ جاری ہے۔ اس رسالے نے دیگر رسائل کے مقا بلے میں زیادہ مقبو لیت حاصل کی۔ یہ رسالہ پوری قوم کی تہذیب اور اخلاق کی بات کرتا ہے۔ اس میں سنجیدہ قسم کے تحقیقی اور تنقیدی مضامین شائع ہوتے ہیں۔
آفاق احمد خاں نے کہا کہ اگر آج ہم دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ معاشرہ آج بھی پیچیدہ حالات میں گھرا ہوا ہے۔ سر سید کے نظریے کی مانند آج بہت کم رسالے سامنے آ ئے ہیں مگر سر سید کے خیالات اور جدید تعلیم کو عام کرنے میں رسالہ”تہذیب الاخلاق“ کی بڑی اہمیت ہے۔ سر سید نے تہذیب اور اخلاق کو ساتھ ساتھ پیش کیا۔ قومی یکجہتی، تہذیب، جدید تعلیم اور سماجی برائیوں کو روکنے میں رسالہ تہذیب الاخلاق نے بڑا اہم کردار ادا کیا۔ آج کا دور سا ئنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے جس کی تعلیم سر سید نے کا فی پہلے دی تھی۔

پروفیسر فاروق بخشی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سر سید احمد خاں ادبی دنیا میں ایک ایسی شخصیت ہیں جن کے حوا لے سے سیکنڑوں کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ سر سید کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے ان حالات اور ماحول کو سمجھنا ضروری ہے جو خطبات احمدیہ کی شکل میں ہیں۔ سر سید نے اپنے لیے ایک ایسی راہ چنی جس پر چل کر انہیں بہت سی پریشانیاں برداشت کرنا پڑیں۔تہذیب الاخلاق کے وسیلے سے ایسے مضامین منظر عام پر آ ئے جنہوں نے اخلاق، تعلیم سائنس اور عوام کے مسائل کو پیش کیا۔
ایو سا کی صدر پروفیسر ریشما پروین نے کہا کہ سر سید نے”تہذیب الاخلاق“ کے ذریعے سے تمام اخلاقی قدریں طالب علموں کو پہنچائیں۔ تہذیب الاخلاق کی شکل میں ہما رے پاس وہ خزانہ ہے جس سے طلبا بڑا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔تہذیب الاخلاق کی عصری حیثیت آج بھی بہت ہے۔
اپنے صدارتی خطبے میں پروفیسر صغیر افرا ہیم نے کہا کہ ریسرچ اسکالر کے لیے”تہذیب الاخلاق“ بڑا مفید ہے۔یہ رسالہ آج تک پا بندی سے جاری ہے۔ وقت کی ضرورت کو سامنے رکھتے ہو ئے یہ رسالہ جاری کیا گیا۔ سر سید نے دیکھا کہ نو آبادیاتی نظام نے ہم پر ظلم کیا ہے اب ہم کس طرح آ گے بڑھیں۔ مولانا ابوالکلام آ زاد نے کہا تھا کہ میں سر سید کی ہر بات کو تسلیم کرتا ہوں۔ لندن سے آنے پر سر سید نے تہذیب الاخلاق جاری کیا۔ اس کے پانچ سال بعد مدرسہ بنا اور کافی دن بعد یونیورسٹی بنی۔ سر سید قوم کے نبض شناس تھے۔ تہذیب الاخلاق ہمارے تمام مسائل اور صورت حال سے ہمیں آ گاہ کرتا ہے۔ سر سید احمد خاں اس رسالے کے ذریعے قوم میں بیداری لانا چاہتے تھے۔ رسالہ تہذیب الاخلاق اگر نہ بھی پڑھیں تو کم سے کم خریدیں اور کسی کو تحفہ میں دے دیں۔
پروگرام سے ڈاکٹرآصف علی،ڈاکٹر شاداب علیم،فرحت اختر،محمد شمشاد اور دیگر طلبہ و طالبات جڑے رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *