قمرادبی سوسائٹی مظفرنگر نے آراستہ کی محفل سخن
دیوبند: پریس ریلیز
گرین سٹی اردومحل دیوبند میں قمرادبی سوسائٹی مظفرنگر یو پی الہند کی جانب سے ایک عظیم الشان مشاعرہ معمارسخن درد دہلوی کے اعزاز میں منعقد کیاگیا۔ سابق اسسٹنٹ کمشنر سیلز ٹیکس محترم رئیس اعظم خاں رئیس مظفرنگری کی سرپرستی میں منعقدہ اس مشاعرے کی صدارت عالمی شہرت یافتہ شاعر محترم ڈاکٹر نواز دیوبندی نے اورنظامت ڈاکٹر طاہر قمر نےفرمائی۔مشاعرے کے کنوینر ناہید ثمرکاوش جگاڑ دیوبندی اور نگراں شمیم کرت پوری رہے عبدالحق سحر مظفر نگری نے تمام شعراء کا استقبال کیا۔ محترم ددددہلوی کو سپانامہ کے ساتھ معمار سخن ایوارڈ و ردائے قمر پیش کی گئی۔محترم ڈاکٹر نواز دیوبندی کو نشان قمراورردائے قمر پیش کرکے اعزازواکرام کیا گیا اس کے علاوہ تمام شعراء کو قمرادبی سوسائٹی کےخصوصی اعزازی میڈل سے نوازاگیا۔ محمد حمدکی تلاوتِ قرآن اور زہیر احمد زہیر کے نعتیہ کلام سے مشاعرے کا آغاز ہوا۔تمام اہل ذوق سامعین حضرات ان شعراء کے کلام سے محظوظ ہوئے۔

فن پر نکھار آتا ہے تنقید ہی کے بعد
بےجا کسی کے فن کی نمائش نہ کیجئیے
درد دہلوی
جو ہنس کے اپنی کہانی سنا رہا تھا
اداسیوں کو سلیقہ سکھا رہا تھا
ڈاکٹر نواز دیوبندی
تصورات کے پاکیزہ دائرےمیں رہا
کسی کا عکس مرے دل کے آئینے میں رہا
عبدالحق سحر مظفر نگری
ضرورت تھی اسے میرے لہو کی
فضامیں رنگ بکھرانے سے پہلے
شہادت علی نظامی
ارادے رخ بدل ریتےہیں،بحر غم میں طوفاں کے
لگن، محنت، مشقت سے بشر دنیا بدلتا ہے
رئیس اعظم خاں رئیس مظفرنگری
نہ جانے کون سی ٹھوکر مجھے سنبھالا دے
میں چاہتا بھی یہی ہوں کہ ٹھوکروں میں رہوں
زہیر احمد زہیر
ہرایک اشک_ندامت مرا ہراک سجدہ
تری رضا کے لئے ہے جزاملے نہ ملے
عبداللہ راہی
مشکل تھا پر جادو کرنا سیکھ گئےا
اب بم پر قابوکرنا سیکھ گئے
ڈاکٹر ندیم شاد
اک ہمسفر کاساتھ ضروری ہےآج کل
“تنہا سفر پہ جانے کی کوشش نہ کیجئے”
شمیم کرت پوری
ہلال تم بھی تبھی تک سمجھ لوزندہ ہو
تمہارے سینے میں جب تک ضمیر زندہ ہے
اشرف ہلال قاسمی
سبھی گردش میں ہیں اک کن کے صدقے
یہ مہروماہ کیا اردو سما کیا
ڈاکٹر فرمان چودھری
یوں بھی عادت ڈالی ہم نے یار کتابیں پڑھنے کی
یعنی اس نے چھوڑدیا تو وقت گزارا جاسکتا ہے
ذکی انجم صدیقی
نہ آنت پیٹ میں ان کے نہ دانت ہیں منھ میں
وہ سخت ہڈیاں پھر بھی چبانا چاہتے ہیں
ناہیدثمر کاوش جگاڑ دیوبندی
خود کوہلاک کرنے کی جرأت کرے گا کون
میں ہوں غریب مجھ سے محبت کرے گا کون
سکندر دیوریاوی
میں نے روپے ہوئے بنائی ہے
مسکرانے کی آخری تصویر
ولی وقاص
دشمنوں کی چال سے آگے نکل گئے
اس واسطے زوال سے آگے نکل گئے
کاشف اختر
قاتل کی رہائی سے فرمان یہ لگتا ہے
اس دور کے حاکم کا انصاف بکا ہوگا
فرمان ظہیر ہاپوڑی
یہ معجزہ تھا عشق کا مقتل میں اے فیروز
کند
دیکھی ہے کند تیغ_ستمگر کبھی کبھی
فیروز خان فیروز
ان کے علاوہ دلشاد خشتر،منور سلیم ودیگر کے اشعار بھی پسند کئے گئے۔
آخر میں کنوینئر ناہیدثمر کاوش اورقمرادبی سوسائٹی مظفرنگر یوپی الہند کے جملہ اراکین نے تمام شرکاء کا شکریہ اداکیا۔
