وفا کے نور سے وہ دلفریب خالی ہے
کہ ذائقے سے کوئی سرخ سیب خالی ہے
اذیتوں کی دکانیں کھلی ہوئی ہیں، مگر
دکاندارو! معافی کہ جیب خالی ہے
بہت دنوں سے کوئی دل کو کام کاج نہیں
بہت دنوں سے یہ اورنگزیب خالی ہے
اب ان سمندری آنکھوں کی کیا مثال کوئی
جہاں تمام کلام شکیب خالی ہے
کسی شریف کی پرچھائی تو نہیں ہے یہ
خلوص و مہر سے دستار زیب خالی ہے
نہ جانے کتنے صحیفے ہیں ان کی قبروں میں
فراز خالی، نہ طاہر! نشیب خالی ہے
طاہر سعود
