غزل
وفا کے نور سے وہ دلفریب خالی ہےکہ ذائقے سے کوئی سرخ سیب خالی ہے اذیتوں کی دکانیں کھلی ہوئی ہیں، مگردکاندارو! معافی کہ جیب خالی ہے بہت دنوں سے کوئی دل کو کام کاج نہیںبہت دنوں سے یہ اورنگزیب خالی ہے اب ان سمندری آنکھوں کی کیا مثال کوئیجہاں تمام کلام شکیب خالی ہے…
