غزل

whatsapp image 2026 05 18 at 10.40.15 pm

آفتاب عالم ؔ شاہ نوری
کروشی بلگام کرناٹک

آتے جاتے درد سنانا پڑتا ہے
دل میں غم کا دیپ جلانا پڑتا ہے
جن سے دل کے رشتے گہرے ہوتے ہیں
اُن کو ہر دم خود ہی منانا پڑتا ہے
جینا ہے جو چین سے ہم کو دنیا میں
دشمن کو بھی دوست بنانا پڑتا ہے
اہلِ ثروت عیش میں جب پڑ جاتے ہیں
ماں کو پتھر روز پکانا پڑتا ہے
کس نے کہا یہ فن غزلوں کا آساں ہے
خون جگر کا خوب جلانا پڑتا ہے
جب آتا ہے کوئی شکاری جنگل میں
پنچھی کو چپکے سے اڑانا پڑتا ہے
جیسے جیسے بچے بڑھنے لگتے ہیں
اپنی ہر خواہش کو دبانا پڑتا ہے
دھوپ میں چھاؤں لکھ دینے سے کیا حاصل
“بیٹا پہلے پیڑ لگانا پڑتا ہے”
کم ظرفوں کو عالم ؔ جا کر سمجھا دو
ہر اک رشتہ دل سے نبھانا پڑتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *