خانقاہ امدادیہ اشرفیہ تھانہ بھون میں روحانی و اصلاحی مجلسمولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی کے بصیرت افروز خطاب نے سامعین کے دل موہ لیےتھانہ بھون ( از:- محمد تھانوی ڈائریکٹر محاسن اسلام چینل):

whatsapp image 2026 05 08 at 12.41.14 am

مرتب: مفتی محمد تھانوی ڈائریکٹر محَاسن اسلام چینل و ادارہ دارالعارفین للبنین والبنات تھانہ بھون واٹس ایپ نمبر 8307054675

whatsapp image 2026 05 08 at 12.52.54 am

مجلس صیانۃ الحق کے زیرِ اہتمام عالمِ اسلام کی ممتاز دینی، تعلیمی اور روحانی درسگاہ خانقاہ امدادیہ اشرفیہ تھانہ بھون میں ایک عظیم الشان روحانی و اصلاحی مجلس کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں ملک کی معروف علمی و روحانی شخصیت، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری اور خانقاہ رحمانیہ مالیگاؤں کے ناظمِ اعلیٰ و سجادہ نشیں حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب نے خصوصی شرکت فرمائی اور اصلاحِ نفس، تزکیۂ باطن اور روحانی تعلق کی اہمیت پر نہایت مؤثر خطاب کیا۔
یہ بابرکت مجلس خانقاہ تھانہ بھون کے مسند نشیں، ناظم و متولی حضرت مولانا سید نجم الحسن صاحب کی سرپرستی میں منعقد ہوئی، جبکہ خانقاہ کے متحرک و فعال ترجمان نوجوان عالمِ دین مفتی حذیفہ صاحب کی خصوصی دعوت پر حضرت مولانا عمرین محفوظ رحمانی صاحب خانقاہ تشریف لائے۔
اپنے خطاب میں حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب نے فرمایا کہ:
“حضرت حکیم الامت مجددِ ملت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ کی اس عظیم اور بافیض خانقاہ میں میری حاضری ایک خادم اور نیازمند کی حیثیت سے ہے۔ یہی وہ تاریخی مرکز ہے جہاں سادگی، اخلاص اور چٹائیوں پر بیٹھ کر ایک عظیم مردِ خدا نے امت کی ایسی تجدیدی خدمت انجام دی، جس کی مثال صدیوں میں کم ہی ملتی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ خانقاہ تھانہ بھون نے ایسے رجالِ کار اور باکمال افراد تیار کیے جن کے ذریعے لاکھوں انسانوں کو دین و روحانیت کا فیض پہنچا۔ اس موقع پر انہوں نے ایک خوبصورت جملہ نقل کرتے ہوئے فرمایا:
“حضرت حکیم الامتؒ کے خلفاء کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ وہ دریا کیا ہوگا جس کے قطرے بھی سمندر ہوں۔”
مولانا موصوف نے مزید فرمایا کہ:
“اگر انسان اپنی روح کو پاکیزہ بنانا چاہتا ہے، دل کو نورِ ایمان سے منور کرنا چاہتا ہے اور زندگی میں حقیقی سکون حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے کسی نہ کسی صاحبِ نسبت بزرگ سے اصلاحی تعلق ضرور قائم کرنا ہوگا۔”
مجلس میں علماء، طلبہ، مشائخ، اہلِ تعلق اور عوام کی بڑی تعداد شریک رہی۔ حاضرین نے حضرت مولانا کے علمی، فکری اور روحانی نکات کو نہایت انہماک سے سنا اور مجلس کے روح پرور ماحول سے بھرپور استفادہ کیا۔
مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب کا شمار ملک کی ان ممتاز شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے دینی خدمات، اصلاحِ امت، ملی قیادت اور روحانی تربیت کے میدان میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ آپ کی شخصیت علم و عمل، خطابت و روحانیت، تنظیمی صلاحیت اور فکری بصیرت کا حسین سنگم ہے۔
آپ 10 اپریل 1987ء کو مالیگاؤں (مہاراشٹر) کے ایک علمی و دینی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی حضرت مولانا محفوظ الرحمن قاسمی صاحب معروف عالمِ دین، مشہور خطیب اور مدرسہ بیت العلوم مالیگاؤں کے شیخ الحدیث و صدر المدرسین تھے۔ والد کے انتقال کے بعد آپ کی والدہ محترمہ نے آپ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی۔
ابتدائی تعلیم مدرسہ اسلامیہ مالیگاؤں اور مدرسہ اشرف المدارس ہردوئی میں حاصل کی، جبکہ 2006ء میں مدرسہ معہد ملت مالیگاؤں سے سندِ فراغت حاصل کی۔ دورانِ طالب علمی ہی آپ کی ذہانت، خطابت اور تحریری صلاحیتیں نمایاں ہونے لگیں۔
آپ کا اصلاحی تعلق امیرِ شریعت رابع حضرت مولانا محمد ولی رحمانیؒ سے قائم ہوا، جن سے آپ نے سلوک و تصوف کی تربیت حاصل کی اور 2010ء میں خلافت و اجازت سے سرفراز ہوئے۔ بعد ازاں آپ نے مالیگاؤں میں خانقاہ رحمانیہ کی بنیاد رکھی، جو آج اصلاح و تربیت کا ایک فعال مرکز بن چکی ہے۔
حضرت مولانا کو متعدد بزرگوں سے اجازت و خلافت حاصل ہے، جن میں حضرت مولانا عبداللہ مغیثی، حضرت مولانا مصطفی رفاعی جیلانی، حضرت مولانا یونس پالن پوری اور حضرت صوفی میاں جی محمد رمضان میواتی خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں۔ آپ کا بنیادی روحانی سلسلہ قادریہ نقشبندیہ مجددیہ ہے، جبکہ سلسلہ چشتیہ، سہروردیہ، رفاعیہ اور شاذلیہ وغیرہ میں بھی اجازت حاصل ہے۔
ملک بھر میں آپ کے اصلاحی و تربیتی اسفار جاری رہتے ہیں۔ رمضان المبارک میں آپ کے زیرِ نگرانی منعقد ہونے والے اعتکاف اور اصلاحی اجتماعات میں ہزاروں افراد شریک ہوکر دینی و روحانی فیض حاصل کرتے ہیں۔
خانقاہ تھانہ بھون کا یہ عظیم الشان روح پرور اجلاس حضرت مولانا عمرین محفوظ رحمانی صاحب کی اثرانگیز دعاء پر اختتام کو پہونچا،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *