19جنوری (لاتور)پریس ریلیز ۔ ادارۂ ادبِ اسلامی مہاراشٹر کی بیسویں سالانہ دو روزہ ادبی کانفرنس “انسانی رشتوں کا تقدس اور ادب”کے زیرِ عنوان 17تا18جنوری کو بھالچندر بلڈ بینک کے کانفرنس ہال میںمنعقد ہوئی۔17جنوری کی صبح دس بجے ڈاکٹر سلیمخاں صدر ادارۂ ادبِ اسلامی ہند دہلی کی صدارت میں افتتاحی اجلاس منعقد ہوا۔ارشد فلاحی کی تلاوتِ قرآن اور ترجمے کے اجلاس کا آغاز ہوا۔ اس اجلاس میں مشہور فکشننگار نور الحسنین (اورنگ آباد) کو نثری خدمات کے اعتراف میں عصمت جاوید ایوارڈ اور معروف شاعر کبیر حنفی(اچلپور) کو شعری خدمات کے اعتراف میں حفیظ میرٹھی ایوارڈ تفویض کیا گیا۔یہ ایوارڈز تیس ہزار روپیے نقد ،سپاس نامہ شال اور میمنٹو پر مشتمل تھے۔ادارے کی جانب سے شائع کردہ مرحوممحسنانصاری کے شعری مجموعے فیضانِحرم کا اجرا بھی ہوا۔ توفیق اسلم خاںنےمہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی ۔پروفیسر مقبول احمد مقبول (صدر ادارۂ ادبِ اسلامی مہاراشٹر) نےخطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے ادارے کےاغراض ومقاصد پر روشنی ڈالی۔انھوںنے کہا کہ ادارۂ ادبِاسلامی ،مقصدی ادب،صحتمنداقدار ،تعمیری خیالات اوراسلامی افکار ونظریات کی اشاعت کے لیے آٹھ دہائیوں سے سرگرمِعمل ہے۔تعمیری ادب کی تخلیق کی ترغیب اور تعمیر پسند قلمکاروں کی حوصلہ افزائی اس کا اہممقصد ہے۔ مہاراشٹر کی ریاستی شاخ کی جانب سے ایسی کانفرنس کے انعقاد کا سلسلہ اٹھائیسں برسوں سے جاری ہے۔اب تک بتیس قلمکاروں کو ایوارڈ دیے جا چکے ہیں اور سولہ کتابیں شائع کی جا چکی ہیں۔نورالحسنین کی عدم موجودگی میں انکا ایوارڈ ڈاکٹر عظیمالدین کے حوالے کیا گیا۔کبیر حنفی نے ایوارڈ کے حصول پرفخر و مسرت کا اظہار کرتے ہوئے ادارے کا شکریہ ادا کیا۔نورالحسنینکا تحریری بیان ڈاکٹر عظیم الدین نے پڑھ کر سنایا۔مرحوممحسنانصاری کے شعری مجموعے کی اشاعت پران کے شاگردِ رشید اسلمغازی نے مسرت کا اظہار کیا اور شکریہ ادا کیا۔ رفیق اسلمخاںنے ادارے کی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادب کے حوالے سے نسبتاً غیر معروف شہر لاتور میں اس ادبی کانفرنس کو منعقد کر کے یہاں کی ادبی فضا کو مستحکمکرنے کی طرف قدم اٹھایاہے۔انھوںنے امیدظاہر کی کہ اس اقدام کے مثبت نتائج جلد ظاہر ہوں گے۔
ڈاکٹر سلیم خاں نے دورِ حاضر میں پامال ہوتے رشتوں کی تقدیس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ ذرائع ابلاغ نے انسانی رشتوں کے بندھن کو تار تار کردیا ہے۔ پہلے رشتوں کی بنیاد پر اپنوں سے انسانی رابطے ہوتے تھے اب مشین کی مدد سے غیروں سے تعلق استوار تو ہوجاتا ہے مگر وہ حقیقی نہیں ہوتا ہے۔ اس میں گوشت پوست کے انسان نہیں بلکہ تصاویر اور ویڈیوز ہوتی ہیں جواحساسات و جذبات سے عاری ہوتی ہیں۔ایسے میں رشتوں کے تقدس کی توقع کرنا ہی محال ہو گیا ۔ انسان سوشیل میڈیا کے ٹھاٹیں مارتے سمندر میں جتنا یکہ و تنہا اب ہے پہلے کبھی نہیں تھا ۔ یہی وجہ ہے نفسیاتی امراض نے اسے اچک لیا ہے۔ ہر کوئی اس کے لیے پرایا ہوگیا ہے۔ رشتۂ ازدواج کے تقدس کو پامال کرنے کے لیے لیوان ریلیشن کو گھڑا گیا جس نے کئی سوالات پیدا کردییے۔ مقصدی ادب سے وابستہ قلمکاروںکی ذمے داری ہے کہ اس منفی صورتِ حال کو ختم کرنے میں اپنا حصہ ادا کریں۔سیکریٹری ادارہ فرید مونس نے سپاس نامے پڑھ کر سنائے اور اجلاس کی نظامت کیاور شکریہ ادا کیا
پہلا تیکنیکی اجلاس ڈاکٹر زینت اللہ جاوید (ناگپور)کی صدارت میں ہوا۔اس اجلاس میں ڈاکٹر غضنفر اقبال نے اردو افسانوںمیںانسانی رشتوں کی تقدیس،پروفیسراقبال جاوید نے ماں کا تقدس اور اردو شاعری،،پروفیسر چوبدار محمد شفیع نے ناول دلھنبھابھی کا تجزیاتی مطالعہ اور ڈاکٹر خلیل صدیقی نے اردو شاعری اور احترامِانسانیت کے عناوینپر مقالات پیش کیے۔شیخ جاوید نے نظامت کی۔ دوسرے اجلاس کی صدارت پروفیسر چوبدار محمدشفیع (شولاپور) نے کی۔اس میں اسسٹنٹ پروفیسر محمداسرار نے رشتوں کا استحکاماور اردو افسانہ،سیدافتخاراحمد نے نظموالدۂ مرحوم کی یاد میں:ماں کو خراج کی عمدہ مثال،ڈاکٹر صدیقی نسرینفرحت نے حالی کی نظم ائے ماؤ بہنو بیٹیو کا تجزیاتی مطالعہ اور فرماناحمدخاں نے اردو شاعری میںباپ کی عظمت کے عنوانات پر مقالے پیش کیے۔نظامت سہیل انصاری نے کی۔ 17 کی شب آٹھ بجے ڈاکٹر زینت اللہ جاوید کی صدارت میں کل ہندمشاعرہ منعقد ہوا۔ مشاعرے میں مہاراشٹر ،کرناٹک تلنگانہ اور مدھیہ پردیش کے اردو ہندی اور مراٹھی کےشعرا زینت اللہ جاوید ،کبیر حنفی،اسلم غازی، ولی شمیمی،ریاض تنہا،مقبول احمد مقبول،حسنینعاقب،صادق کرمانی،فرید مونس،جمال چشتی، اسرار دانش، ظہیرالدینجوش زین العابدین ،اجے پانڈے بے وقت،یوگی راج مانے،ظہیرالدینساجد،نرسنگ انگڑے، سید پاشا رہبر،تنویر خطیب نے کلامسنایا۔مشاعرے سے قبل محمدانورحسین (اودگیر) کی تصنیف “خندہ زار”کی اجرائی ہوئی۔ ریاضتنہا نے کتاب پر اظہارِ خیال کیا۔خانحسنین عاقب اور سہیل انصاری نے نظامت کی۔
تیسرا اجلاس افسانہ خوانی کےلیے مختص تھا جو 18جنوری کی صبح دس بجے ڈاکٹر غضنفر اقبال کی صدارت میں منعقد ہوا۔خواجہ مسیح الدینابو نبیل، خانحسنینعاقب ،اسماعیل گوہر نے افسانے پیش کیے۔نظامت سیدظہیرالدین ساجد نے کی۔چوتھا اجلاس مراٹھی اور ہندی ادب کے حوالے سے تھا ۔جس کی صدارت پروفیسر رنجیت جادھو نے فرما ئی۔ پرنسپل دشینت کٹارے نےانسانی رشتوں کی پاکیزگی اور مراٹھی کویتا،پروفیسر دیپک چدروار نے مانوی ناتوں کی پوترتا اور مراٹھی فکشن ،پروفیسر بلی رامبھکترے نے ہندی کتھا ساہتیہ میں مانوتا اور پروفیسر سویتا کیرتے مانوی رشتوں کی پوترتا اور ہندی کویتا کے موضوعات پر مقالے پیش کیے۔شیختنویرملتانی نے نظامت کی۔ پانچواں اجلاس ریاض تنہا( نظامآباد) کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں پروفیسر سردار پاشا نے ناول چھوٹی بہو کا تجزیاتی مطالعہ: رشتوں کے حوالے سے،فرید مونس نے منور رانا کی شاعری میںماں،ڈاکٹر سیدہ ترنم نےسلیمخاںکے ناولوںمیںانسانی رشتوں کا تقدس اور ڈاکٹر قاضی شکیل الدین نے اردو شاعری اور احترامِاستاد کے عنوانات سے مقالے پیش کیے۔سید مصطفی علی نے نظامت ۔ اختتامی اجلاس پروفیسر مقبول احمد مقبول کی صدارت میں ہوا۔مولانا الیاس خان فلاحی امیر جماعتِ اسلامی حلقہ مہاراشٹر اور خواجہ مسیح الدینابو نبیل (حیدرآباد )مرکزی نائب صدر مہمانانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک رہے۔ابو نبیل نے کانفرنس کو کامیاب اور سودمند قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں تیسری بار کانفرنس میں شریک ہواہوں۔ میںرا احساس ہے کہ مہاراشٹر کی ریاستی شاخ کی جانب سے ہمیشہ بہت ہی منظمانداز سے،بامقصد اور اچھوتےموضوعات کے تحت کانفرنس ہوتی ہے۔ ریاستی ادارے کی یہ سرگرمی لائقِتحسینہے۔ مولاناالیاس خاںفلاحی نے ادارے کے قیامکی تاریخ اور اس کے پس منظر پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحی و مقصدی ادب کی تخلیق و ترویج کی ضرورت آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے ۔ادب کی تاثیر ہر زمانے میں مسلمرہی ہے۔معاشرے میں انقلاب ادب اور قلمکے ذریعے ہی آتاہے۔لہٰذا ہمارے قلم کاروں کو چاہیے کہ اپنے اسلوب میںندرت اور بیان میں تاثیر پیدا کریں تا کہ تعمیر پسند قلمکاروںکی بات پڑھنے اور سننے والوں کے دلوںمیںاترے۔صدرِاجلاس مقبول احمد مقبول نے دو روزہ تمام اجلاسوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ
ہر سال ایک نئے اور بامقصد موضوع کے تحت کانفرنس منعقد کر کے فکر و آگہی کی شمع روشنکی جائے۔اس سال جو کچھ خامیاں محسوس کی گئیں اگلے سال ان سے بچنے کی کوشش کی جائے گی۔انھوںنی مقامی انتظامیہ کمیٹی خاص طور سے شیخ رفیق امیرِ مقامی،یونس پٹیل،سیدمصطفیٰ علی،شیخواجد اور شیخ غوث الدین کاخصوصی شکریہ ادا کیا جنکی مخلصانہ محنت سے یہ کانفرنس کامیاب ہوئی۔
ڈاکٹر غضنفر اقبال(گلبرگہ) اور اسسٹنٹ پروفیسر محمداسرار (کامٹی) نے مندوبینکی حیثیت سے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کانفرنس کو ہر اعتبار سے کامیاب قرار دیا۔ شیخ غوث الدین نے نظامت کیاور ڈاکٹر عظیم الدین کے شکریے پر اس دو روزہ کانفرنس کااختتامہوا۔
فرید مونس
سیکریٹری ادارۂ ادبِ اسلامی
