سہارنپور، 3 ستمبر:
نیشنل انٹیگریشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے زیرِ اہتمام سہارنپور کے بزرگ شاعر، صوفی، قلندر اور عالمِ دین حضرت خواجہ سلطان انجم کے انتقالِ پُرملال پر ایک تعزیتی اجتماع منعقد کیا گیا۔ اجتماع کی صدارت درگاہِ ناصریہ کے سجادہ نشین خواجہ سلمان ناصری نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض خرم سلطان نے انجام دیے۔

پروگرام کا آغاز خواجہ شایان حسن ناصری نے سورۂ فتح اور سورۂ اخلاص کی تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا۔ بعد ازاں استاد شاعر دانش کمال نے بارگاہِ خداوندی میں اپنا کلامِ حمد پیش کرتے ہوئے کہا:
“حمدِ باری ہے کوئی کھیل نہیں اے دانش
ایک گوشے پہ بھی لکھوں تو زمانے لگ جائیں”
ماہرِ فنِ عروض فیاض ندیم نے نعتِ رسولِ پاک ﷺ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی، جس کے اشعار تھے:
“کہہ کر مجھے ملاتے ہیں سب عاشقِ رسول
ذرے کو مل گئی ہے سند آفتاب کی”

اس موقع پر حضرت خواجہ سلطان انجم کے گزشتہ 55 برس سے مرید انل یادو نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ کا لقب ان کی شخصیت کے عین مطابق تھا۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ کوئی ذات یا برادری نہیں بلکہ روحانیت اور مذہب کی بلندیوں کو حاصل کرنے والے انسان کے لیے ایک عظیم لقب ہے، اور خواجہ سلطان انجم نے اپنے کردار، چال چلن اور طرزِ زندگی سے اس لقب کا حقیقی حق ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ خواجہ سلطان انجم ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ وہ بیک وقت عالم، مصنف، شاعر، مفکر، بہترین سرپرست، خوش مزاج و بذلہ سنج انسان، روحانی جستجو رکھنے والے اور محبت کی راہ کے مسافر تھے۔ ان کی شخصیت علم، فکر، ادب، روحانیت، محبت اور انسانی زندگی کے بے شمار پہلوؤں کا حسین امتزاج تھی۔ انل یادو نے کہا کہ وہ محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک ’’ملٹی ورسٹی‘‘ تھے، جس میں زندگی کے مختلف علوم و تجربات سمٹ آئے تھے۔
حضرت خواجہ سلطان انجم کے پیر بھائی صوفی صابر علی عثمانی نے کہا کہ خواجہ سلطان انجم کی شخصیت محبت، اخلاص اور انسان دوستی کا حسین امتزاج تھی۔ ان کی گفتگو میں علم کی روشنی اور دل میں مخلوقِ خدا کے لیے بے پناہ درد تھا۔ وہ رشتوں کو نبھانے اور دلوں کو جوڑنے کا ہنر بخوبی جانتے تھے۔
سہارنپور کے نمائندہ استاد شاعر بلال سہارنپوری نے کہا کہ ادب، روحانیت اور انسانی قدروں سے خواجہ سلطان انجم کی وابستگی ان کی زندگی کا نمایاں وصف تھی۔ وہ دنیا سے رخصت ضرور ہوئے ہیں، مگر اپنی یادوں، خیالات اور محبتوں کی صورت میں ہمیشہ ہمارے درمیان زندہ رہیں گے۔
ناظمِ اعلیٰ خرم سلطان نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت خواجہ سلطان انجم محض ایک نام نہیں بلکہ ایک فکری اور روحانی روایت کا عنوان تھے۔ وہ ایسے قلندر تھے جن کے پاس لفظ بھی تھے، فکر بھی تھی اور دل بھی تھا۔
اس موقع پر عدیل تابش، وسیم سلطانی، مجاہد سلطانی، خواجہ شایان حسن ناصری، خواجہ سفیان اور دیگر نے بھی حضرت خواجہ سلطان انجم کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی علمی، ادبی، روحانی اور انسانی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
صدارتی خطاب میں درگاہِ ناصریہ کے سجادہ نشین خواجہ سلمان ناصری نے کہا کہ حضرت خواجہ سلطان انجم نے دین اور زندگی کے مسائل کو نہایت آسان اور عام فہم انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ سلطان انجم نے ہمیں زندگی گزارنے کے جو اصول اور طریقے سکھائے ہیں، ہم ان پر چلنے کی پوری کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ درگاہِ ناصریہ کے تعلق سے جو ذمہ داریاں ہم پر عائد ہوئی ہیں، انہیں بھی پوری دیانت اور اخلاص کے ساتھ نبھانے کی کوشش کی جائے گی۔
خواجہ سلمان ناصری نے کہا کہ حضرت خواجہ سلطان انجم کی تعلیمات، محبت، اخلاص اور انسان دوستی کے پیغام کو آگے بڑھانا ہی ان کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت ہوگا۔ انہوں نے مرحوم کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے دعا کی، جس کے ساتھ تعزیتی اجتماع اختتام پذیر ہوا۔
پروگرام کے اختتام پر جانشینِ خواجہ سلطان انجم وسیم سلطانی نے اجتماع میں شریک تمام افراد، اہلِ ادب، معززین اور عقیدت مندوں کا اظہارِ تشکر کیا اور ان کی شرکت پر شکریہ ادا کیا۔
