ملک کے ممتاز شعرائے کرام نے کلام پیش کیا، سامعین نے بھرپور داد و تحسین سے نوازا

چرتھاول، 28 ستمبر (اسٹاف رپورٹر): 28 ستمبر 2026ء کی شب قصبہ چرتھاول کے باذوق اور ادب دوست افراد کے لیے ایک یادگار شب ثابت ہوئی، جب معروف استاد شاعر ڈاکٹر تنویر گوہر کی ادارت میں شائع ہونے والے مؤقر اردو ہفت روزہ ’’تنویر ادب‘‘ کے زیرِ اہتمام عظیم استادِ سخن اور استاد الشعراء حضرت عثمان عادلؔ مرحوم

کی یاد میں ایک منفرد و عظیم الشان طرحی مشاعرہ منعقد کیا گیا۔ مشاعرے میں ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ممتاز و نامور شعرائے کرام نے شرکت کی اور اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔
مشاعرے کی صدارت بزرگ و کہنہ مشق شاعر ماسٹر التفات حسین بقا نے فرمائی، جبکہ معروف سماجی شخصیت اور چرتھاول دیہات سے پردھانی کا الیکشن لڑنے کا ارادہ رکھنے والے ڈاکٹر منتظر تیاگی نے فیتا کاٹ کر مشاعرے کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر مشاعرے کے مہمانِ خصوصی نوشاد ثمر بگراسوی (دہلی) اور معروف استاد شاعر ڈاکٹر صداقت دیوبندی شمع اردو روشن فرمائی ۔

مشاعرے کی نظامت کی ذمہ داری معروف شاعر ڈاکٹر طاہر قمر میراں پوری

نے نہایت خوبصورتی، شائستگی اور ادبی وقار کے ساتھ انجام دی، جبکہ نوجوان شاعر امید اسد چرتھاولی نے بحیثیت کنوینر مشاعرے کے انتظامات کو احسن انداز میں سنبھالا۔

ان کی مشترکہ کاوشوں کے باعث مشاعرے کا ماحول ابتدا ہی سے ادبی جوش و خروش اور شعری ذوق سے معمور رہا۔
مشاعرے میں شعرائے کرام کی طبع آزمائی کے لیے تین خوبصورت مصارعِ طرح پیش کیے گئے تھے:
’’بشر بشر ہی رہے گا خدا نہیں ہوگا‘‘
’’آپ کی بات سے انکار نہیں کر سکتے‘‘
’’شیشۂ دل میں کوئی بال نہ تھا‘‘
ان مصرعوں پر شعرائے کرام نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرتے ہوئے ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت غزلیں پیش کیں۔ کہیں عشق و محبت کے جذبات نمایاں ہوئے تو کہیں زندگی، معاشرے، انسانی رویوں اور تہذیبی اقدار کی عکاسی نے سامعین کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ ہر عمدہ شعر پر محفل میں دیر تک داد و تحسین کا سلسلہ جاری رہا۔
مشاعرے کا با برکت آغاز معروف استاد شاعر ڈاکٹر تنویر گوہر کی طرحی نعتِ پاک سے ہوا۔ نعتیہ کلام نے محفل کو روحانی کیفیت سے سرشار کر دیا، جسے نوجوان شاعر قاری شاداب سحر

نے اپنی مترنم آواز میں پیش کرکے مزید خوبصورت اور پُراثر بنا دیا۔ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کے بعد جب غزل کا سلسلہ شروع ہوا تو مشاعرہ رفتہ رفتہ اپنے عروج کی جانب بڑھتا گیا۔
اس موقع پر مقررین اور شعرائے کرام نے حضرت عثمان عادلؔ مرحوم کی ادبی خدمات، شعری مقام اور شاگردوں کی تربیت میں ان کے کردار کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا۔ حضرت عثمان عادل کے دیرینہ ساتھی ڈاکٹر صداقت دیوبندی فرمایا کہ حضرت عثمان عادلؔ نے اپنی پوری زندگی شعر و ادب کی خدمت میں گزاری اور نئی نسل کے شعراء کی اصلاح و رہنمائی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی یاد میں منعقد ہونے والی ایسی ادبی محافل نہ صرف ان کی خدمات کو زندہ رکھتی ہیں بلکہ نئی نسل کو بھی اپنے اسلاف کی ادبی روایت سے جوڑنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ اس موقع پر حضرت عثمان عادل کے شاگرد ڈاکٹر تنویر گوہر نے منظوم مرثیہ یش کیا۔ان کے علاوا عادل صاحب کے دوسرے شاگرد احمد مظفرنگری نے بھی انہیں یاد کرتے ہوئے خراجِ عقیدت پیش کیا۔
مشاعرے میں پیش کیے جانے والے کلام کو حاضرین نے نہایت توجہ اور دلچسپی سے سنا۔ شعراء کے عمدہ اشعار پر محفل میں بار بار واہ واہ، سبحان اللہ اور مکرر ارشاد کی صدائیں بلند ہوتی رہیں۔ چرتھاول کے ادبی ذوق رکھنے والے سامعین نے شعراء کو بھرپور داد دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔ منتخب کلام باذوق قارئین کے لیے پیش ہے۔

بات اتنی ہے کہ ہم امن کے خواہاں ہیں مگر
یہ نہ سمجھو کہ پلٹوار نہیں کرسکتے
ماسٹر التفات حسین بقا

تھی نظر اس کی ملکیت کی طرف
پوچھنا اس کو میرا حال نہ تھا
ڈاکٹر صداقت دیوبندی

میں ولی ہوں یہ مجھے پوجنے لگ جائیں گے
سامنے سب کے چمتکار نہیں کرسکتے
نوشاد ثمر

تمہارے وعدے پہ ہم اعتبار کرتے ہیں
تمہارا وعدہ اگرچہ وفا نہیں ہو گا
ڈاکٹر تنویر گوہر

ٹوکنا بھی تو ہوا نور نظر کو مشکل
اب نصیحت سر بازار نہیں کرسکتے
احمد مظفرنگری

میں اس مقام تلک بھی چلو گا ساتھ ترے
جہاں سے آگے کوئی راستہ نہیں ہوگا
شہزاد رضا سکھروڑھوی

حرام کھانے سے مانا مرا نہیں ہوگا
ترا ضمیر تو زندہ رہا نہیں ہوگا
الطاف مشعل

تمہیں رہو گے ہمیشہ مرے تخیل میں
مکین قلب جگر دوسرا نہیں ہوگا
طاہر قمر

ہم خطاکار تھے ترے پھر بھی
تیرے ہونٹوں پہ کچھ سوال نہ تھا
تحسین قمر اساروی

توبہ توبہ مرے سرکار نہیں کرسکتے
آپ کی بات سے انکار نہیں کرسکتے
چاند دیوبندی

راہ میں چھوڑنا پڑا اس کو
“ہم سفر تھا وہ ہم خیال نہ تھا”
ساجد ملک عزیز جانسٹھی

مشورہ اور کوئی دینے لگی ہے ورنا
بھائی تو صحن میں دیوار نہیں کرسکتے
انجینئر ارشد ضیاء

دید سے انکی ہم انکار نہیں کرسکتے
بیبسی یہ بھی ہے اظہار نہیں کرسکتے
کلیم تیاگی برلوی

تیرے چہرے سے نظر ہٹتی نہیں ہے اپنی
ہم کسی اور کا دیدار نہیں کرسکتے
ڈاکٹر تحسین ثمر

تیرے جلووں کو فقط ایک نظر دیکھا ہے
ہم کسی اور کا دیدار نہیں کرسکتے
جنید اظہر مظفرنگری

کوئی دیوار ہے جو پار نہیں کرسکتے
آپ سے عشق کا اظہار نہیں کرسکتے
قاری فاروق یوسفی

مریض عشق کے حق میں سزا نہیں ہوگا
محبتوں کا مرض لا دوا نہیں ہوگا
امید اسد چرتھاولی
ہزار مردے جلا کر بڑا نہیں ہوگا
“بشر بشر ہی رہے گا خدا نہیں ہوگا”
ماسٹر ہاشم حیدری

ان کے علاوہ شاہزیب شرف مظفرنگری،ابوالکلام کلیم چرتھاولی،قاری شاداب سحر چرتھاولی نے بھی سامعین کو اپنے طرحی کلام سے نوازا۔
مشاعرے کو کامیاب بنانے میں ماسٹر ہاشم حیدری،ڈاکٹر تحسین ثمر،قاری شاداب سحر، ابوالکلام کلیم چرتھاولی، ماسٹر اعجاز چرتھاولی،غفران نفیس، عمران خسرو، طیب انصاری، عثمان ادیب ایڈووکیٹ،ابو بکرر وغیرہ نے اہم کردار ادا کیا۔
مشاعرے کے منتظمین کے مطابق ’’یادِ عثمان عادلؔ‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والی یہ ادبی نشست محض ایک مشاعرہ نہیں بلکہ اپنے استاد اور بزرگ شاعر کی ادبی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی ایک مخلصانہ کوشش تھی۔ ہفت روزہ تنویر ادب کے زیر اہتمام منعقدہ اس مشاعرے نے چرتھاول کی ادبی سرگرمیوں میں ایک خوبصورت اضافہ کیا اور علاقے میں اردو شعر و ادب سے وابستہ افراد کو ایک ہی چھت تلے جمع ہونے کا موقع فراہم کیا۔
مشاعرے کے اختتام پر منتظمین کی جانب سے تمام شعرائے کرام، مہمانانِ خصوصی، ادیبوں، صحافیوں اور ادب دوست سامعین کا شکریہ ادا کیا گیا۔ رات گئے تک جاری رہنے والی اس ادبی محفل نے شرکاء پر ایسا تاثر چھوڑا کہ ’’یادِ عثمان عادلؔ‘‘ طرحی مشاعرہ چرتھاول کی ادبی تاریخ میں ایک خوبصورت اور یادگار باب کے طور پر مدتوں یاد رکھا جائے گا۔

masha allah bht bht mubarskbad aapko