جاوید اکرم فاروقی امروہوی

اردو ادب کی نئی نسل میں چند شخصیات ایسی ہیں جو اپنی علمی سنجیدگی، ادبی وقار، اخلاقی شائستگی اور عملی فعالیت کے باعث اپنی الگ شناخت قائم کر لیتی ہیں۔ ڈاکٹر شاکر حسین اصلاحی انہی ممتاز اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے تدریس، تحقیق، تنقید، شاعری اور ادبی سرگرمیوں کے مختلف میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا ہے۔
سرسی، ضلع سنبھل کی علمی و تہذیبی فضا میں پرورش پانے والے ڈاکٹر شاکر حسین اصلاحی اس وقت مسلم ڈگری کالج، مرادآباد میں شعبۂ اردو کے صدر (Head of the Department) کی حیثیت سے علمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ صرف ایک استاد نہیں بلکہ ایک ایسے مربی ہیں جو اپنے علم، اخلاق اور کردار سے نئی نسل کی رہنمائی کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔
ان کی شخصیت کی سب سے نمایاں خوبی ان کی ہمہ جہتی ہے۔ وہ بیک وقت شاعر ہیں، مبصر ہیں، تجزیہ نگار ہیں، مقالہ نویس ہیں اور ادب کے سنجیدہ قاری بھی۔ ان کی تحریروں میں تحقیقی دیانت، تنقیدی بصیرت اور ادبی سلیقہ نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ ادب کو محض تخلیقی اظہار نہیں سمجھتے بلکہ اسے فکری تربیت، تہذیبی شعور اور انسانی اقدار کے فروغ کا مؤثر وسیلہ تصور کرتے ہیں۔
شاعری میں ان کا ذوق نہایت لطیف ہے۔ غزل کی روایت سے ان کی گہری وابستگی اور خوش آہنگ ترنم میں کلام سنانے کا انداز سامعین کو اپنی طرف متوجہ کر لیتا ہے۔ وہ مشاعروں میں محض ایک شاعر کی حیثیت سے شریک نہیں ہوتے بلکہ اپنے شائستہ رویے، متوازن گفتگو اور ادبی وقار سے بھی اہلِ محفل کے دل جیت لیتے ہیں۔
ان کی شخصیت کا ایک روشن پہلو ان کا اخلاق و کردار ہے۔ خوش مزاجی، خوش اخلاقی، خوش گفتاری، خلوص، انکسار اور احترامِ اکابر ان کی شناخت بن چکے ہیں۔ وہ علم کو منصب نہیں بلکہ امانت سمجھتے ہیں۔ دوسروں کی مدد کے لیے ہر وقت آمادہ رہنا، نوجوان اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی کرنا اور علمی روابط کو محبت اور احترام کے ساتھ استوار رکھنا ان کی سعادت مندی کی دلیل ہے۔
فعالیت بھی ان کی شخصیت کا نمایاں وصف ہے۔ تدریسی مصروفیات کے باوجود وہ ادبی مجالس، مشاعروں، علمی مذاکروں اور تحقیقی سرگرمیوں میں پوری دل چسپی کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔ یہ مسلسل ادبی وابستگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے نزدیک ادب کتابوں تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کی فکری زندگی سے براہِ راست وابستہ ہے۔
ڈاکٹر شاکر حسین اصلاحی کی شخصیت اس حقیقت کی آئینہ دار ہے کہ علم جب اخلاق سے، تحقیق جب دیانت سے اور شاعری جب تہذیب سے ہم آہنگ ہو جائے تو ایک ایسی باوقار شخصیت وجود میں آتی ہے جو اپنے معاصرین میں احترام اور اعتماد کا مقام حاصل کر لیتی ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر شاکر حسین اصلاحی کو صحت، عافیت، درازیِ عمر اور مزید علمی و ادبی فیوض و برکات سے نوازے، ان کے قلم میں مزید تاثیر، ان کی فکر میں مزید گہرائی اور ان کی خدمات میں مزید وسعت عطا فرمائے، تاکہ وہ اسی اخلاص اور وقار کے ساتھ اردو زبان و ادب کی خدمت کرتے رہیں۔
ڈاکٹر شاکر حسین اصطلاحی کی غزل کا تنقیدی جائزہ
غزل
ہر بار اسے ٹوکنا اچھا نہیں لگتا
مخلص ہے، مگر جانِ تمنّا نہیں لگتا
اے دل یہی بہتر ہے نیا شہر بسالیں
“اس شہر میں اب کوئی ہمارا نہیں لگتا
یہ جاں بھی تمھاری ہی طرفدار ہے جاناں
یہ دل بھی تمھارا ہے، ہمارا نہیں لگتا
یہ سچ ہے متاعِ دل و جاں بھول گیا ہے
کیا میں بھی بھلا دوں اسے، ایسا نہیں لگتا
اے موجِ بلا خیز کہاں چھوڑ گئی ہے
یہ بیچ سمندر ہےکنارا نہیں لگتا
آنکھیں بھی محبت میں چمک اٹھتی تھیں، اور اب
وہ سامنے بھی ہو تو شناسا نہیں لگتا
دل کھنچتا چلا جاتا ہے اُس شوخ کی جانب
یہ اجنبی کیسا ہے پرایا نہیں لگتا
شاکر ہیں ان آنکھوں میں قیامت کے اندھیرے
سورج کا اجالا بھی اجالا نہیں لگتا
پہلی قرأت ہی میں یہ احساس ہوتا ہے کہ شاعر روایت سے وابستہ بھی ہے اور اپنے داخلی تجربے کا امین بھی۔ غزل میں جذبات کی صداقت، زبان کی شائستگی اور کلاسیکی رکھ رکھاؤ نمایاں ہے۔ ردیف “نہیں لگتا” اور قافیہ (اچھا، تمنّا، ہمارا، ایسا، کنارا، شناسا، پرایا، اجالا) پوری غزل میں ایک فطری آہنگ پیدا کرتے ہیں۔
یہ غزل بنیادی طور پر ہجر، بے یقینی، یاد، بےگانگی اور داخلی کرب کی غزل ہے، لیکن شاعر نے ان مضامین کو شور و غوغا کے بجائے نہایت مہذب اور متوازن لہجے میں ادا کیا ہے۔ یہی اس غزل کا حسن ہے۔
ڈاکٹر شاکر حسین اصلاحی کی یہ غزل کلاسیکی اردو غزل کی ان روایات سے وابستہ ہے جن میں جذبے کی صداقت، زبان کی سلاست اور اظہار کی شائستگی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ شاعر نے کسی مصنوعی پیچیدگی یا لفظی کرشمہ سازی کے بجائے سادہ مگر مؤثر اسلوب اختیار کیا ہے، جس کی وجہ سے غزل کا تاثر براہِ راست قاری کے دل میں اترتا ہے۔
مطلع ہی شاعر کے فنی وقار کا آئینہ دار ہے:
ہر بار اسے ٹوکنا اچھا نہیں لگتا
مخلص ہے، مگر جانِ تمنّا نہیں لگتا
یہاں محبوب کے ساتھ تعلق کی نزاکت کو نہایت لطیف انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ شاعر محبوب کے اخلاص کا اعتراف بھی کرتا ہے، مگر دل کی وہ والہانہ وابستگی، جسے “جانِ تمنّا” کہا جا سکتا ہے، محسوس نہیں ہوتی۔ یہی داخلی کشمکش مطلع کو ایک فکری جہت عطا کرتی ہے۔
دوسرا شعر:
اے دل یہی بہتر ہے نیا شہر بسالیں
اس شہر میں اب کوئی ہمارا نہیں لگتا
غزل کے بہترین اشعار میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ “شہر” یہاں محض ایک جغرافیائی مقام نہیں بلکہ یادوں، تعلقات اور زندگی کے پورے ماحول کی علامت ہے۔ جب انسان اپنے ہی ماحول میں اجنبیت محسوس کرنے لگے تو گویا وہ روحانی ہجرت پر مجبور ہو جاتا ہے۔ شعر میں عصری انسان کی تنہائی بھی جھلکتی ہے۔
یہ شعر بھی قابلِ داد ہے:
یہ جاں بھی تمھاری ہی طرفدار ہے جاناں
یہ دل بھی تمھارا ہے، ہمارا نہیں لگتا
محبت میں خود سپردگی کی کیفیت کو شاعر نے نہایت سادگی سے بیان کیا ہے۔ دل اور جاں دونوں محبوب کے ہو چکے ہیں، اس لیے شاعر کو اپنی ذات بھی اپنی محسوس نہیں ہوتی۔ یہ کلاسیکی غزل کے محبوب ترین مضامین میں سے ہے، مگر یہاں تازگی برقرار ہے۔
یہ شعر داخلی وفاداری کا خوبصورت اظہار ہے:
یہ سچ ہے متاعِ دل و جاں بھول گیا ہے
کیا میں بھی بھلا دوں اسے، ایسا نہیں لگتا
یہاں شاعر محبت کو لین دین کا رشتہ نہیں بناتا۔ محبوب اگرچہ بھول گیا، مگر شاعر کی وفاداری باقی ہے۔ یہی اخلاقی بلندی شعر کو محض عاشقانہ واردات سے بلند کر دیتی ہے۔
درج ذیل شعر استعاراتی حسن رکھتا ہے:
اے موجِ بلا خیز کہاں چھوڑ گئی ہے
یہ بیچ سمندر ہے، کنارا نہیں لگتا
“موجِ بلاخیز”، “سمندر” اور “کنارا” تینوں استعارے مل کر زندگی کی بے یقینی اور اضطراب کی ایک مؤثر تصویر بناتے ہیں۔ شعر میں ڈرامائی کیفیت بھی ہے اور فکری گہرائی بھی۔
یہ شعر بھی نہایت لطیف ہے:
آنکھیں بھی محبت میں چمک اٹھتی تھیں، اور اب
وہ سامنے بھی ہو تو شناسا نہیں لگتا
وقت کی تبدیلی، جذبات کی سردمہری اور تعلقات کی شکستگی کو شاعر نے نہایت نرم لہجے میں بیان کیا ہے۔ اس شعر میں نوحہ نہیں، ایک خاموش حسرت ہے، اور یہی اس کا حسن ہے۔
یہ شعر غزل کا ایک اور روشن مقام ہے:
دل کھنچتا چلا جاتا ہے اُس شوخ کی جانب
یہ اجنبی کیسا ہے، پرایا نہیں لگتا
محبت کی کشش اور روحانی قربت کو شاعر نے بڑی نفاست سے پیش کیا ہے۔ “اجنبی” اور “پرایا” کے تضاد نے شعر میں معنوی وسعت پیدا کر دی ہے۔
شاکر ہیں ان آنکھوں میں قیامت کے اندھیرے
سورج کا اجالا بھی اجالا نہیں لگتا
مقطع غزل کا نہایت مؤثر اختتام ہے۔ “قیامت کے اندھیرے” ایک طاقتور استعارہ ہے۔ داخلی کرب اس شدت کو پہنچ چکا ہے کہ خارجی روشنی بھی بے اثر محسوس ہوتی ہے۔ شاعر نے اپنے تخلص کو بھی نہایت فطری انداز میں برتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ غزل ڈاکٹر شاکر حسین اصلاحی کی فنی پختگی، کلاسیکی ذوق، زبان پر گرفت اور احساس کی صداقت کا عمدہ نمونہ ہے۔ ان کے یہاں روایت کی پاسداری بھی ہے اور ذاتی تجربے کی روشنی بھی۔ غزل میں تصنع، مبالغہ اور غیر ضروری لفظی آرائش سے گریز کیا گیا ہے، جس کے باعث اشعار میں سادگی کے ساتھ ایک دیرپا تاثیر پیدا ہو گئی ہے۔
یہ غزل اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈاکٹر شاکر حسین اصلاحی غزل کی کلاسیکی روایت سے گہری وابستگی رکھتے ہیں اور اسی روایت کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے احساسات کو مہذب، شائستہ اور مؤثر انداز میں پیش کرنے کا سلیقہ جانتے ہیں۔ یہی وصف ان کی شاعری کو سنجیدہ قارئین کے لیے باعثِ کشش بناتا ہے۔
یاسمین منزل
مغل گارڈن
متّقی پور
لکھنؤ
