✍️ ڈاکٹر طاہر قمر میراں پوری
تمنا تھی یہی اپنی کہ گلشن میں بہار آئے
جو پامال خزاں گل ہیں کچھ ان پر بھی نکھار آ ئے
بہار آئی چمن میں اور اردو کو نہ راس آئی
کہ خود اہل چمن اس کے لیے بن کر شرار آئے
یہ بالکل سچائی ہے کہ آج اردو زبان نہ صرف اقتدار کے ہاتھوں تعصب کا شکار ہے بلکہ خود اردو داں طبقے نے ہی اردو کے ساتھ سوتیلا رویہ رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔
یہ وہی اردو زبان ہے جس سے نہ صرف ہماری تہذیبی وراثت زندہ ہے بلکہ ہمارا بیشتر دینی سرمایہ بھی اسی زبان کے اندر موجود ہے۔
جہاں ایک طرف حکومت وقت اردو کو ختم کرنے کی مسلسل ناپاک سازشیں کرنے میں مصروف ہے، وہیں دوسری طرف ہم نے بھی اردو زبان کو نظر انداز کر کے اردو کو وہ حق نہیں دیا ہے جس کی وہ حقدار تھی۔
آج اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر دوڑاتے ہیں تو اس وقت کی موجودہ نسل اردو زبان سے قطعی طور پر دور ہے اور اس کے ذمہ دار ہم اور آپ ہی ہیں۔ ہم نے چاہا ہی نہیں کہ ہماری آنے والی یہ نسل جہاں ایک طرف عصری علوم حاصل کرنے میں مصروف ہے وہیں اگر اس کے ساتھ ساتھ اسے اردو زبان سے بھی جوڑ دیا جاتا تو اردو زبان کی یہ حالت نہ ہوئی ہوتی جو آج ہو چکی ہے۔
جوں جوں وقت گزرتا گیا اردو زبان مدارس کی حد تک اور ساتھ ہی ساتھ اردو مشاعروں و نششست کی حد تک زندہ رہی ۔ شعراء اردو کی بقا کے لئے کوششیں کرتے رہے ۔ لیکن تقریباً پچھلے ٣٠ سالوں سے شعراء بھی کاروباری بن گئے ۔
اج عالم یہ ہے کہ اردو ڈائس پر کھڑی ہو کر نامور شورہ اردو کی زبوں حالی کا رونا بھی روتے ہیں، اردو کی بقا و ترقی کے لیے لوگوں سے اپیل بھی کرتے ہیں ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان سے بڑا اردو کا ہمدرد کوئی نہیں۔ لیکن وہی شعرا لاکھوں روپیہ ان مشاعروں میں آنے کے لیے زاد راہ کی شکل میں لوٹ رہے ہیں۔
آج اردو داں طبقہ ان نامور شعراء کے ہاتھوں بری طرح سے لٹ پٹ رہا ہے۔
حد تو یہ ہے کہ کسی بھی مشاعرے میں آنے کے لیے یہی شعراء کنوینر سے سودے بازی کرتے ہیں اس وقت ان کا اردو کی بقا و ترقی کا جذبہ کہاں چلا جاتا ہے یا صرف ڈائس پر کھڑے ہو کر اردو کے لیے لمبے لمبے دعوے کرنا ہی ان کا مقصد بن چکا ہے۔
سکے کا ایک دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ آج سوشل میڈیا پر یہی نامور شعراء اردو رسم الخط کو نظر انداز کرتے ہوئے دیو ناگری میں اپنی پیغامات یا اپنی غزلیں سینڈ کرتے ہیں۔اس سے بڑی بے شرمی کیا ہوگی کہ یہ لوگ اردو کے نام پر اردو داں طبقے کو لوٹتے ہیں، جس زبان سے انہیں شہرت حاصل ہوئی اسی زبان کو یہ نظر انداز کرتے ہیں۔
ورنہ ان کی یہ ذمہ داری بنتی تھی کہ اردو رسم الخط کو سوشل میڈیا پر بھی عام کرتے ۔ لیکن ان کی طرف سے اردو کتنا ہی بدحالی کا شکار ہو جائے انہیں تو صرف دولت کی چمک نے اردو کی طرف سے قطعی طور پر اندھا بنا دیا ہے۔
اج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو نہ صرف عصری علوم آراستہ کریں بلکہ اردو زبان سے بھی انہیں ہر حال میں واقف کرائیں۔
اگر ہم نے انہیں اردو زبان سے دور رکھا تو نہ صرف ان کے اندر اخلاقی خرابیاں پیدا ہوں گی بلکہ نہ وہ اپنی تہذیبی وراثت سے آشنا ہو سکیں گے اور نہ ہی وہ اردو زبان سے واقفیت حاصل کر پائیں گے۔
اگر اردو زبان کو زندہ و تابندہ رکھنا ہے تو نہ صرف ہم اپنے بچوں کو اردو زبان کی تعلیم دلائیں بلکہ اردو کے فروغ کے لیے ایک تحریک کی شکل میں ہمیں کمر بستہ ہونا پڑے گا ۔ساتھ ہی ساتھ سوشل میڈیا پر بھی اردو رسم الخط کو زندہ رکھنا ہوگا کیونکہ جس زبان کا رسم الخط زندہ رہتا ہے وہ زبان بھی زندہ رہتی ہے۔
