غزل
ضیاء الدین ضیاء خیرآبادی سیتاپور سر سے نہیں اتارا ہے ہم نے کفن ابھیخطرے میں دیکھتے ہیں چمن کا چمن ابھی شاید ابھی ہے چاہتی خونِ جگر کچھ اورنرغے میں ہے لٹیروں کے عرض ختن ابھی زعمِ یزیدِ وقت بھی ٹوٹے گا دیکھنازندہ حسینیوں میں ہے وہ بانکپن ابھی طالب رضا کا اس کی ہوں…
